تعدد ِازواج
Al-Risala, April 1989, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارہ میں جو احکام دیے گئے ہیں ، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جو تعدد ازواج (چار عورتوں تک نکاح کرنے) کے بارہ میں ہے۔ اس سلسلہ میں آیت کے الفاظ یہ ہیں : وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم یتیم بچوں کے معاملہ میں انصاف ما طاب لكم من النساء مثنی و ثلاث و نہ کر سکو گے تو (بیوہ عورتوں میں جو تم کو پسند ہوں رباع فان خفتم الا تعدلوا فواحدة ان سے دو دو ، تین تین ، چار چار سے نکاح کر لو۔ (النساء ۳) اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو۔
یہ آیت غزوہ احد (شوال ۳ ھ) کے بعد اتری۔ اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں ۷۰ مسلمان شہید ہو گئے تھے۔ اس کی وجہ سے مدینہ کی بستی میں اچانک ۷۰ گھر مردوں سے خالی ہو گئی۔ نتیجہ یہ صورت حال پیش آئی کہ وہاں بہت سے بچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ اب سوال پیدا ہوا کہ اس معاشرتی مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے ۔ اس وقت قرآن میں مذکورہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کر کے یتیم بچوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیں۔ اپنے الفاظ اور اپنے شان نزول کے اعتبار سے بظاہر یہ ایک وقتی حکم نظر آتا ہے۔ یعنی اس کا تعلق اس صورت حال سے ہے جب کہ جنگ کے نتیجہ میں آبادی کے اندر عورتوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی اور مردوں کی تعداد کم۔ مگر قرآن اپنے نزول کے اعتبار سے زمانی ہونے کے باوجود اپنے اطلاق کے اعتبار سے ایک ابدی کتاب ہے۔ قرآن کے اعجاز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ زمانی زبان میں ابدی حقیقت بیان اس کا یہ حکم بھی اس کی اسی صفت کا مظہر ہے۔
زیادہ شادی کا معاملہ صرف مرد کی مرضی پر منحصر نہیں ، اس کی لازمی شرط (Inescapable condition) یہ ہے کہ معاشرہ میں زیادہ عورتیں بھی موجود ہوں۔ اگر زمین پر ایک ہزار ملین انسان بستے ہوں ، اور ان میں ۵۰۰ ملین مرد ہوں اور ۵۰۰ ملین عورتیں ، تو ایسی حالت میں مردوں کے لیے ممکن ہی نہ ہو گا کہ وہ ایک سے زیادہ نکاح کریں۔ ایسی حالت میں ایک سے زیادہ نکاح صرف جبر آ کیا جا سکتا ہے ، اور جبری نکاح
اسلام میں جائز نہیں۔ اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے عورت کی رضامندی ہر حال میں ایک لازمی شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس طرح عملی طور پر دیکھیے تو قرآن کے مذکورہ حکم کی تعمیل صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ سماج میں وہ مخصوص صورت حال پائی جائے جو احد کی جنگ کے بعد مدینہ میں پائی جارہی تھی، یعنی مردوں اور عورتوں کی تعداد میں نابرابری۔ اگر یہ صورت حال نہ پائی جارہی ہو تو قرآن کا حکم عملاً ناقابل نفاذ ہوگا۔ انسانی سماج اور انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ قدیم مدینہ کی صورت حال محض وقتی صورت حال نہ تھی، یہ ایک ایسی صورت حال تھی جو اکثر حالات میں زمین پر موجود رہتی ہے۔ مذکورہ ہنگامی حالت ہی ہماری دنیا کی عمومی حالت ہے۔ یہ قرآن کے مصنف کے عالم الغیب ہونے کا ثبوت ہے کہ اس نے اپنی کتاب میں ایک ایسا حکم دیا جو بظاہر ایک ہنگامی حکم تھا، مگر وہ ہماری دنیا کے لیے ایک ابدی حکم