Al-Risala · April 1989

تعداد کی نابرابری

Al-Risala, April 1989, pp. 7–11

By Maulana Wahiduddin Khan

اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ باعتبار پیدائش عورت اور مرد کی تعداد تقریباًاً یکساں ہوتی ہے۔ جتنے بچے، تقریب اتنی ہی بچیاں۔ مگر شرح اموات (Mortality) کے جائزہ سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے درمیان موت کی شرح زیادہ ہے۔ یہ فرق بچپن سے لے کر آخر عمر تک جاری رہتا ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کے مطابق، عمومی طور پر، موت کا خطرہ ہر کے ہر مرحلہ میں، عورتوں کے لیے کم پایا گیا ہے اور مردوں کے لیے زیادہ: In general, the risk of death at any given age is less for females than for males (VII/37). اکثر حالات میں سماج کے اندر عورتوں کی تعداد کا زیادہ ہونا اور مردوں کی تعداد کا کم ہونا مختلف اسباب سے ہوتا ہے۔ مثلاً جب جنگ ہوتی ہے تو اس میں زیادہ تر صرف مرد مارے جاتے ہیں۔ عالمی جنگ (۱۹۱۸-۱۹۱۴) میں آٹھ ملین سے زیادہ فوجی مارے گئے۔ شہری لوگ جو اس جنگ میں ہلاک ہوئے وہ اس کے علاوہ ہیں۔ یہ زیادہ تر مرد تھے۔ دوسری عالمی جنگ (۱۹۴۵-۱۹۳۹) میں ساڑھے چھ کروڑ آدمی ہلاک ہوئے یا جسمانی طور پر ناکارہ ہوگئے ۔ یہ سارے لوگ زیادہ تر مرد تھے۔

جنگ (۱۹۸۸ - (۱۹۸۸-۱۹۷۹) میں ایران کی ۸۲ ہزار عورتیں بیوہ ہوگئیں - عراق میں ایسی عورتوں کی تعداد تقریباً ایک لاکھ ہے جن کے شوہر اس دس سالہ جنگ میں ہلاک ہوئے ۔

اس طرح مثال کے طور پر جیل اور قید کی وجہ سے بھی سماج میں مردوں کی تعداد کم اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ۔ امریکہ کو موجودہ زمانہ میں دنیا کی مہذب ترین سوسائٹی کی حیثیت حاصل اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکہ میں ہر روز تقریباً ۱۳ لاکھ (1,300,000) آدمی کسی نہ کسی جرم میں پکڑے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک تعداد وہ ہے جو لمبی مدت تک کے لیے جیل میں ڈال دی جاتی ہے ۔ ان سزا یافتہ قیدیوں میں دوبارہ ۹۷ فی صد مرد ہی ہوتے ہیں (1102/14-EB) اسی طرح جدید صنعتی نظام نے حادثات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں حادثاتی موتیں روزمرہ کا معمول بن گئی ہیں ۔ سڑک کے حادثے ، ہوائی حادثے ، کارخانوں کے حادثے اور دوسرے مشینی حادثے ہر ملک میں اور ہر روز ہوتے رہتے ہیں ۔ جدید صنعتی دور میں یہ حادثات اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اب سیفٹی انجینرنگ (Safety engineering) کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آگیا ہے ۔ ۱۹۶۷ کے اعداد و شمار کے مطابق ، اس ایک سال میں پچاس ملکوں کے اندر مجموعی طور پر ۵۰۰۰، حادثاتی موتیں واقع ہوئیں (16/137-EB) یہ سب زیادہ تر مرد تھے ۔

صنعتی حادثات کی موتوں میں ، سیفٹی انجینئرنگ کے باوجود ، پہلے سے بھی زیادہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ مثال کے طور پر ، ہوائی حادثات جتنے ۱۹۸۸ میں ہوئے ، اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے ۔ تمام صنعتی ملکوں میں مستقل طور پر اسلحہ سازی کے تجربات ہو رہے ہیں ۔ ان میں برابر لوگ ہلاک ہوتے رہتے ہیں ۔ ان ہلاک شدگان کی تعداد کبھی نہیں بتائی جاتی ، تاہم یہ یقینی ہے کہ ان میں بھی تمام تر صرف مرد ہی ہیں جو ناگہانی موت کا شکار ہوتے ہیں ۔

اسی طرح کے مختلف اسباب کی بنا پر عملی صورت حال اکثر یہی ہوتی ہے کہ سماج میں عورتوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہو ، اور مردوں کی تعداد نسبتاً کم ہو جائے ۔ امریکہ کی سوسائٹی نہایت ترقی یافتہ سوسائٹی سمجھی جاتی ہے ، مگر وہاں بھی یہ فرق پوری طرح پایا جاتا ہے ۔ ۱۹۸۷ کے اعداد و شمار کے مطابق ، امریکہ کی آبادی میں مردوں کے مقابلہ میں تقریباً ۷.۸ لاکھ (7.8 million) عورتیں زیادہ تھیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکہ کا ہر مرد شادی شدہ ہو جائے تو اس کے بعد بھی امریکہ میں تقریباً ۷ لاکھ عورتیں ایسی

باقی رہیں گی جن کے لیے ملک میں غیر شادی شدہ مرد موجود نہ ہوں گے جن سے وہ نکاح کر سکیں۔ دنیا کی آبادی میں مرد اور عورت کی تعداد کے فرق کو بتانے کے لیے یہاں کچھ مغربی ملکوں کے اعداد و شمار دیے جا رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا سے لیے گئے ہیں: COUNTRY MALE FEMALE 1. Austria 47.07% 52.93% 2. Burma 48.81 51.19 3. Germany 48.02 51.89 4. France 48.99 51.01 5. Italy 48.89 51.11 6. Poland 48.61 51.39 7. Spain 48.94 51.06 8. Switzerland 48.67 51.33 9. Soviet Union 46.59 53.03 10. United States 48.58 51.42 عورت کی رضامندی ایک سے زیادہ نکاح کے لیے صرف یہی کافی نہیں ہے کہ آبادی کے اندر عورتیں زیادہ تعداد میں موجود ہوں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ جس عورت سے نکاح کرنا مطلوب ہے وہ خود بھی اپنی آزادانہ مرضی سے اس قسم کے نکاح کے لیے پوری طرح راضی ہو۔ اسلام میں عورت کی رضامندی مسلمہ طور پر نکاح کے لیے شرط ہے۔ کسی عورت سے زبردستی نکاح کرنا جائز نہیں۔ کی نمائندہ تاریخ میں کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں ہے جب کہ کسی مرد کو یہ اجازت دی گئی ہو کہ وہ کسی عورت کو جبراً اپنے نکاح میں لے آئے۔

حدیث میں آیا ہے کہ کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے (لا تنکح البکر حتی تستأذن، متفق علیہ) حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ ایک لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف اس کا نکاح کر دیا ہے۔ آپ نے اس کو اختیار دیا کہ چاہے تو نکاح کو باقی رکھے اور چاہے تو اس کو توڑ دے (عن ابن عباس، قال ان جاریة بكراً أتت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم فذكرت أن اباها زوجها وهي كارهة فخیرها النبي صلى الله عليه وسلم ( رواه ابو داود دار قطنی )

عن ابن عباس ، قال كان زوج بريرة عبداً اسود يقال له مغيث - كانى انظر اليه يطوف خلفها فى سكك المدينة يبكى ودموعه تسيل على لحيته - فقال النبي صلى الله عليه وسلم للعباس - يا عباس ، الا تعجب من حب مغيث بريرة ومن بغض بريرة مُغِيثًا؟ النبي صلى الله عليه وسلم لو راجعته - فقالت يا رسول الله اتا مرنى - قال انما قالت لا حاجة لى فيه۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر ایک سیاہ فام غلام تھا۔ نام مغیث تھا۔ گویا کہ میں مغیث کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مدینہ کے راستوں میں بریرہ کے پیچھے چل رہا ہے۔ وہ رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی تک بہہ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس سے کہا کہ اے عباس، کیا تم کو بریرہ کے ساتھ مغیث کی محبت اور مغیث کے ساتھ بریرہ کی نفرت پر تعجب نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ سے کہا کہ کاش تم اس کی طرف رجوع کر لو۔ بریرہ نے کہا کہ کیا آپ مجھ کو اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ صرف سفارش کر رہا بریرہ نے کہا: مجھے اس کی حاجت نہیں۔ تعدد ازواج کا ایک واقعہ وہ ہے جو حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کے زمانہ میں پیش آیا۔ بیوہ خاتون ام ابان بن عتبہ کو چار مسلمانوں کی طرف سے نکاح کا پیغام ملا جو سب شادی شدہ ان چار حضرات کے نام یہ ہیں ۔ عمر بن الخطاب، علی بن ابی طالب، زبیر اور طلحہ ۔ ام ابان نے طلحہ کا پیغام قبول کر لیا اور بقیہ تینوں کے لیے انکار کر دیا۔ اس کے بعد ام ابان کا نکاح طلحہ سے کر دیا گیا۔ یہ واقعہ مدینہ (اسلامی دار السلطنت) میں ہوا۔ جن لوگوں کے پیغام کو رد کیا گیا، ان میں وقت کے امیر المومنین کا نام بھی شامل تھا۔ مگر اس پر کسی نے تعجب یا بیزاری کا اظہار نہیں کیا۔ اور نہ اس بنا پر وہاں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام میں عورت کو اپنے بارہ میں فیصلہ کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ یہ عورت کا ایک ایسا حق ہے جس کو کوئی بھی اس سے چھین نہیں سکتا ، حتی کہ وقت کا حکمراں بھی نہیں ۔ ان احکام اور واقعات سے ثابت ہوتا ہے میرےکساں اسلام میں حاملہ کی حدتک نکاح کرنے کی

اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی مرد چار عورتوں کو پکڑ کر اپنے گھر میں بند کرلے۔ یہ دو طرفہ رضا مندی کا معاملہ وہی عورت کسی شادی شدہ مرد کے نکاح میں لائی جاسکتی ہے جو خود اس کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر بلا اکراہ راضی ہو۔ اور جب یہ معاملہ تمام تر عورت کی رضا مندی سے انجام پاتا ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا کیا حق۔ موجودہ زمانہ میں آزادی انتخاب (Freedom of choice) کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اسلامی قانون میں یہ قدر پوری طرح موجود ہے۔ البتہ "مساوات نسواں" کے علم بردار آزادی انتخاب کو پابندی انتخاب کے ہم معنی بنا دینا چاہتے ہیں۔

Printed page