Al-Risala · April 1989

مسئلہ کا حل نہ کہ حکم

Al-Risala, April 1989, pp. 11–12

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ عورت اور مرد کی تعداد میں نابرابری ہماری دنیا کا ایک مستقل مسئلہ ہے۔ وہ جنگ کی حالت میں بھی پایا جاتا ہے اور جنگ نہ ہونے کی حالت میں بھی۔ سوال یہ ہے کہ جب دونوں صنفوں کی تعداد میں نابرابری ہے تو اس نابرابری کے مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے۔ یک زوجگی کے اصول پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جن بیوہ یا غیر بیوہ عورتوں کو شوہر نہ ملیں، وہ اپنی فطرت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے کیا کریں ۔ وہ سماج میں کس طرح اپنے لیے ایک با عزت زندگی حاصل کریں ۔

ایک طریقہ وہ ہے جو ہندوستان کی روایات میں بتایا گیا ہے۔ یعنی ایسی (بیوہ) عورتیں اپنے آپ کو جلا کر اپنے وجود کو ختم کرلیں۔ تاکہ نہ ان کا وجود رہے اور نہ ان کے مسائل۔ یا پھر ایسی عورتیں گھر سے محروم ہو کر سڑکوں کی بے کس زندگی گزارنے پر راضی ہو جائیں ۔ اس اصول پر عمل کرنے کی بنا پر ہندو سماج کا کیا حال ہوا ہے، اس کی تفصیل جاننا ہو تو انڈیا ٹوڈے (۱۵ نومبر ۱۹۸۷ء) کی ۸ صفحات کی تصویر پر رپورٹ ملاحظہ فرمائیں جو اس بامعنی عنوان کے تحت شائع ہوئی ہے کہ بیوائیں ، انسانیت کا برباد شدہ ملبہ: Widows: Wrecks of humanity اس حل کے بارہ میں یہاں کسی مزید گفت گو کی ضرورت نہیں ۔ کیوں کہ مجھے یہ امید نہیں کہ موجودہ زمانہ میں کوئی با ہوش آدمی اس طریقہ کی وکالت کر سکتا ہے یا کسی بھی درجہ میں وہ اس مذکورہ مسئلہ کا حل سمجھ سکتا ہے۔

دوسری صورت وہ ہے جو مغربی ملکوں کی "مہذب سوسائٹی" میں رائج ہے۔ یعنی کسی ایک مرد کی

دوسری منکوحہ بیوی بننے پر راضی نہ ہونا، البتہ بہت سے مردوں کی غیر منکوحہ بیوی بن جانا۔ دوسری عالمی جنگ میں یورپ کے کئی ملک لڑائی میں شریک تھے۔ مثلاً جرمنی، فرانس، انگلینڈ ان میں مرد بڑی تعداد میں مارے گئے۔ چنانچہ جنگ کے بعد مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان ملکوں میں جنسی بے راہ روی عام ہوگئی۔ یہاں تک کہ بہت سی بے شوہر عورتوں کے گھروں کے سامنے اس قسم کے بورڈ لکھے ہوئے نظر آنے لگے کہ رات گزارنے کے لیے ایک مہمان چاہیے:

Printed page