Al-Risala · April 1989

Wanted an evening guest

Al-Risala, April 1989, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ صورت حال مغرب میں جنگ کے بعد بھی مختلف صورتوں میں بدستور باقی ہے۔ اب اس کو باقی رکھنے کا سبب زیادہ تر صنعتی اور مشینی حادثات ہیں جس کی تفصیل اوپر درج کی گئی۔ غیر قانونی تعدد ازواج جن قوموں میں تعدد ازواج کو ناپسند کیا جاتا ہے، ان کو اس کی یہ قیمت دینی پڑی کہ ان کے یہاں اس سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ایک چیز رائج ہوگئی جس کو مسٹریس (Mistress) کہا جاتا ہے۔ ان قوموں کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس فطری عمل کو روک سکیں جس کے نتیجہ میں اکثر معاشرہ میں عورتوں کی تعداد زیادہ اور مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ایک طرف آبادی کے تناسب میں یہ فرق اور دوسری طرف تعدد ازواج پر پابندی، اس دو طرفہ مسئلہ نے ان کے یہاں مسٹریس کی برائی (بالفاظ دیگر غیر قانونی تعدد ازواج) کو پیدا کر دیا۔

مسٹریس (Mistress) کی تعریف ویبسٹر ڈکشنری (Webster’s Dictionary)

میں یہ کی گئی ہے کہ وہ عورت جو کسی مرد سے جنسی تعلق رکھے، اس کے بغیر کہ اس سے اس کا نکاح

A woman who has sexual intercourse with and, often, is supported by a man for a more or less extended period of time without being married to him; paramour. مسٹریس کا یہ طریقہ آج، بشمول ہندوستان، تمام ان ملکوں میں رائج ہے جہاں تعدد ازواج پر قانونی پابندی ہے یا سماجی طور پر اس کو برا سمجھا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے سالہ اپریل ۱۹۸۹

کہ تعدد ازدواج کو اختیار کیا جائے یا نہیں ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آبادی میں عورتوں کی غیر مناسب تعداد کو چھپانے کے لیے قانونی تعدد ازدواج کا طریقہ اختیار کیا جائے یا غیر قانونی تعدد ازدواج کا۔ اس کے بعد وہ طریقہ ہے جو اسلامی شریعت میں اس مسئلہ کے حل کے لیے بتایا گیا ہے۔ یعنی مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کی اجازت۔ تعدد ازدواج کا یہ اصول جو اسلامی شریعت میں مقرر کیا گیا ہے ، وہ دراصل عورتوں کو مذکورہ بالا قسم کے بھیانک انجام سے بچانے کے لیے ہے۔ بظاہر اگر چہ یہ ایک عام حکم ہے ، لیکن اگر اس حقیقت کو سامنے رکھیے کہ عملی طور پر کوئی عورت کسی مرد کی دوسری یا تیسری بیوی بننے پر ہنگامی حالات ہی میں راضی ہو سکتی ہے نہ کہ معمول کے حالات میں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ حکم دراصل ایک سماجی مسئلہ کے حل کے طور پر وضع کیا گیا ہے۔ وہ فاضل عورتوں کو جنسی آوارگی سے بچا کر معقول اور مستحکم خاندانی زندگی گزارنے کا ایک انتظام ہے۔ بالفاظ دیگر یہ یک زوجگی کے مقابلہ میں تعدد ازدواج کو اختیار کرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ تعدد ازدواج اور جنسی بربادی کے درمیان انتخاب کا مسئلہ پیدا ہونے کی صورت میں تعدد ازدواج کو اختیار کرنا ہے۔

تعدد ازدواج کے حکم کو اگر مجرد طور پر دیکھا جائے تو وہ ایک ایسا حکم معلوم ہوگا جو مردوں کی موافقت میں بنایا گیا ہو۔ لیکن اگر اس کو سماج کی عملی صورت حال کے اعتبار سے دیکھیے تو وہ خود عورتوں کی موافقت میں ہے ۔ وہ عورتوں کے مسئلہ کا ایک زیادہ معقول اور فطری بندوبست (Arrangement) ہے ، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔

اسلام میں تعدد ازدواج کی اجازت مردوں کی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے نہیں ہے۔ دراصل ایک مسئلہ کو حل کرنے کی عملی تدبیر ہے۔ مردوں کے لیے ایک سے زیادہ نکاح کرنا اسی وقت ممکن ہوگا جب کہ آبادی میں مردوں کے مقابلہ میں عورتیں زیادہ تعداد میں پائی جارہی ہوں۔ کی تعداد نسبتاً زیادہ نہ ہو تو اس حکم پر عمل کرنا سرے سے ممکن نہ ہوگا۔ پھر کیا اسلام مردوں کی خواہش کی تکمیل کے لیے ایک ایسا اصول بتا سکتا ہے جو سرے سے قابل حصول اور قابل عمل ہی نہ ہو۔ انسائیکلوپیڈیا برطانیہ کا (۱۹۸۱) نے بجا طور پر لکھا ہے کہ تعدد ازدواج کے اصول کو اختیار

کرنے کی ایک وجہ جنسی تناسب میں عورتوں کی زیادتی (Surplus of women) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں تعدد ازدواج کی اجازت دیتی ہیں یا اس کو پسند کرتی ہیں، ان میں بھی مردوں کی بہت بڑی اکثریت فاضل عورتوں کی محدود تعداد کی وجہ سے ایک ہی بیوی پر اکتفا کرتی ہے : Among most peoples who permit or prefer it, the large majority of men live in monogamy because of the limited number of women اسلام میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کی اجازت بطور آئیڈیل نہیں ہے۔ یہ در حقیقت ایک عملی ضرورت (Practical reason) کی وجہ سے ہے، اور وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آبادی میں مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہو جاتی ہے ۔ اس زیادہ تعداد کے باعزت حل کے لیے تعدد ازدواج کا اصول مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ایک عملی حل ہے نہ کہ نظریاتی آئیڈیل ۔ اوپر جو بحث کی گئی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ابتدائی پیدائش کے اعتبار سے مرد اور عورت اگر چہ یکساں تعداد میں پیدا ہوتے ہیں۔ مگر بعد کو پیش آنے والے مختلف اسباب کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ معاشرہ میں مردوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور عورتوں کی تعداد زیادہ ۔ سوال یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہو۔ جنسی نامرابری کی ناگزیر صورت حال میں دونوں جنسوں کے درمیان صحت مند تعلق کس طرح قائم کیا جائے ۔

یک زوجگی (ایک مرد، ایک عورت) کے اصول نکاح پر عمل کرنے کی صورت میں لاکھوں کی تعداد میں ایسی عورتیں باقی رہتی ہیں جن کے لیے معاشرہ میں ایسے مرد موجود نہ ہوں جن سے وہ نکاح کا تعلق قائم کر کے باعزت زندگی گزار سکیں۔ یک زوجگی کا مطلق اصول کسی کو بظاہر خوشنما نظر آسکتا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ موجودہ دنیا میں وہ پوری طرح قابل عمل نہیں۔ گویا ہمارے لیے انتخاب (Choice) ایک زوجہ اور متعدد زوجہ کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ خود متعدد زوجہ کی ایک قسم اور دوسری قسم کے درمیان ہے۔

اب ایک صورت یہ ہے کہ یہ "فاضل" عورتیں جنسی آوارگی یا معاشرتی بربادی کے لیے چھوڑ دی جائیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنی آزادانہ مرضی سے ایسے مردوں کے ساتھ

ازدواجی رشتہ میں وابستہ ہو جائیں جو ایک سے زیادہ بیویوں کے ساتھ عدل کر سکتے ہوں ۔ مذکورہ بالا دو ممکن صورتوں میں سے اسلام نے دوسری صورت کا انتخاب کیا ہے ۔ اور غیر اسلام نے پہلی صورت کا ۔ اب ہر شخص خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ دونوں میں سے کون سا طریقہ زیادہ با عزت اور زیادہ معقول ہے ۔

( الرساله (مجلد )

الرساله اردو اور انگریزی ایک ایک سال کی فائل مجلد کر وائی گئی ہے ۔ فی الحال الرساله اردو ۱۹۸۰ سے ۱۹۸۸ تک تیار ہے اور الرساله انگریزی کی مکمل فائل سنہ ۱۹۸۴ سے ۱۹۸۸ تک تیار ہے۔ ہدیہ فی جلد ۶۰ روپیہ

Printed page