Al-Risala · April 1989

ایک سفر

Al-Risala, April 1989, pp. 16–33

By Maulana Wahiduddin Khan

صنعاء (یمن) جنوبی عرب کا ایک تاریخی شہر ہے، جو دنیا کی قدیم ترین آبادیوں میں شمار ہوتا قدیم زمانہ میں، وہ اپنی مختلف خصوصیات کی بنا پر ایک قابل دید شہر سمجھا جاتا تھا۔ عرب شاعر کا شعر ہے کہ صنعاء ضرور جانا چاہیے، خواہ اس کے لیے کتنا ہی لمبا سفر کرنا پڑے: لابُدَّ من صنعاء وان طال السفر صنعاء میں ۲۹ اکتوبر - ۲ نومبر ۱۹۸۸ء کو ایک بین الاقوامی اسلامی کانفرنس ہوئی۔ کا اہتمام یمن کی وزارت اوقاف نے کیا تھا۔ کانفرنس کی دعوت پر اس میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ ذیل میں اس سفر کی روداد درج کی جاتی ہے۔

بیرونی سفر میں سب سے پہلا مرحلہ ویزا کا ہوتا ہے۔ میرے پاسپورٹ پر یمن کا ویزا لگ کر آیا تو معلوم ہوا کہ صفحات کے اعتبار سے یہ اس کا آخری ویزا تھا۔ اب اس پاسپورٹ میں مزید اندراج کی گنجائش نہیں ۔ گویا با اعتبار ضخامت وہ اکتوبر ۱۹۸۸ء میں ختم ہو گیا، جب کہ با اعتبار مدت اس کی تاریخ فروری ۱۹۸۹ء تک باقی تھی ۔ اسی طرح زندگی میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے حوصلے زیادہ ہوتے ہیں، مگر وسائل اس کی نسبت سے کم ہوتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ وسائل کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے لیے زندگی کا راستہ نکالے۔ پاسپورٹ کی تاریخ زیادہ ہو تب بھی وہ اس وقت سفر کے لیے بیکار ہے جب کہ اس کے صفحات کی مقدار ختم ہوگئی ہو۔

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۸ء کی شام کو ۸ بجے گھر سے روانگی ہوئی ۔ راستہ میں ایک تجربہ گزرا ۔ بعد آجکل کے معاشرہ کے بارہ میں سوچتے ہوئے میری زبان سے نکلا: آہ، کوئی آدمی آدمی نہیں، ہر آدمی غیر آدمی ہے۔ ایر پورٹ پہنچ کر اندر داخل ہوا تو ایر پورٹ کے عملہ کے دو آدمی اپنے افسر کے کسی حکم کے بارہ میں آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔ ایک نے کہا " پھر کیا پرابلم ہے" دوسرا شخص بولا: " پرابلم کیا ہے، جو افسر کہے گا وہی کرنا ہوگا"

میں نے سوچا کہ انسان اس بات کو جانتا ہے کہ اس کو افسر کے کہے پر چلنا ہے ۔ اس بات کو نہیں جانتا کہ اس کو خدا کے کہے پر چلنا ہے۔ آج کا انسان خدا کی ماتحتی قبول کرنے کے

لیے تیار نہیں ۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی نہیں جو خدا کا جھنڈا اٹھانے ہی کو اپنا مشغلہ حیات بنائے ہوئے افسر کے معاملہ میں انسان کا حال یہ ہے کہ "پرابلم" ہو تب بھی وہ اس کی اطاعت کرتا ہے مگر خدا کے معاملہ میں صورت حال اس کے برعکس ہے ــــــــ اگر پرابلم نہ ہو تو وہ خدا کے حکم کو مانے اور اگر پرابلم پیش آجائے تو وہ خدا کے حکم کو ماننے سے انکار کر دے گا ۔ دہلی سے کراچی تک کا سفر پی آئی اے کی فلائٹ ۳۴۲ کے ذریعہ ہوا۔ جہاز کے کیپٹن ضیاء الاسلام تھے۔ پی آئی اے کے جہاز کی صفائی اور اس کا انتظامی معیار انڈین ایئرلائنس سے بہتر نظر آیا۔ پی آئی اے کے میگزین (ہم سفر) کے سر ورق پر عالمی معیار کے مطابق (Your personal copy) لکھا ہوا تھا۔ جب کہ انڈین ایرلائنس کے میگزین نمسکار پر اس قسم کا اندراج نہیں ہوتا ۔ البتہ ایک چیز دونوں میں مشترک تھی۔ نمسکار میں انگریزی کے ساتھ ہندی مضامین کا حصہ ہوتا ہے ۔ اسی طرح ہم سفر میں انگریزی کے ساتھ اردو کا ۔ مگر دونوں میں انگریزی زبان کا حصہ زیادہ تھا اور اپنی قومی زبان کا حصہ اس کے مقابلہ میں کم ۔ دونوں ملک ایک دوسرے کی برتری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ مگر عین اسی وقت وہ بیرونی تہذیب کی برتری کو فخر کے ساتھ قبول کیے ہوئے ہیں ۔

جہاز اپنے ٹھیک وقت پر ۱۰ بج کر ۳۰ منٹ پر روانہ ہوا ۔ تاہم اس کی بیشتر سیٹیں خالی اس قسم کے مسافر جہازوں کو تجارتی پرواز ( (کمر شیل فلائٹ) کہا جاتا ہے۔ مگر دنیا بھر میں اڑنے والے جہازوں کی بہت بڑی تعداد عملاً نان کمرشیل فلائٹ ہوتی ہے۔ یہ دراصل ان پروازوں کا بالواسطہ فائدہ ہے جس کی وجہ سے انھیں جاری رکھا گیا ہے ۔ اس دنیا میں اکثر کسی کام کو اس کے بالواسطہ فائدے کی خاطر کرنا پڑتا ہے ، خواہ بظاہر اس سے کوئی براہِ راست فائدہ حاصل نہ ہو رہا ہو۔

کراچی سے صنعاء کا سفر یمن ایئر لائنس کی فلائٹ ۵۵۷ کے ذریعہ ہوا۔ راستہ میں خلیج ٹائمز (۳۰ اکتوبر ۱۹۸۸) پڑھنے کا موقع ملا ۔ یہ انگریزی روزنامہ دوبئی سے نکلتا ہے۔ اس میں ایک ہندوستانی مسلمان (مقیم راس الخیمہ) کا مضمون تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ قیادت کے فقدان (Lack of leadership) کا مسئلہ ہے۔

مگر میرے نزدیک یہ ادھوری بات ہے ۔ اصل یہ ہے کہ مخصوص اسباب کی بنا پر ہندوستان کے مسلمانوں کی نفسیات کچھ اس طرح کی ہوگئی ہے کہ لفظی جوش دکھانے والے سطحی لیڈروں کی باتیں ہی ان کو اپیل کرتی ہیں جو مسلمانوں کو بربادی کے سوا کہیں اور نہ لے جا سکیں۔ مقابلہ میں جو رہنما سنجیدہ اور تعمیری بات کریں وہ مسلم عوام کے درمیان مقبولیت حاصل نہیں کرتے مسلمانوں کی یہی بے شعوری ان کا اصل مسئلہ ہے، ہندوستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی۔ ہے کہ مسلمانوں کا مسئلہ فقدانِ شعور ہے نہ کہ فقدانِ قیادت ۔

کراچی سے یمن کے سفر میں جہاز کے اندر ایک عرب مسافر سے ملاقات ہوائی۔ ان کے ساتھ کویت کا عربی اخبار الانباء ( ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۸) تھا ۔ اس کے آخری صفحہ پر خالد قطعہ کے قلم سے ایک دلچسپ مضمون درج تھا جس کا عنوان تھا "ولو داور"۔ اس میں مضمون نگار نے لکھا تھا کہ عرب ممالک کے ہوئی اڈوں پر " مخدرات " سے بھی زیادہ جس چیز کی جانچ ہوتی ہے اور جس کو عرب امن اور مقاصد امت کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار ( اخطر سلاح) سمجھا جاتا ہے وہ "کتاب" ہے۔ اگر آپ کسی ہوائی اڈہ سے گزریں تو جانچ والا آدمی آپ کے حقيبة کو کھولے گا اور اس کو ٹٹول کر دیکھے گا۔ اگر وہ اس میں کوئی کتاب پا گیا تو وہ اس کو اس طرح لے گا جیسے کہ اس نے کوئی ٹائم بم دیکھ لیا ہو (کأنّه شاهد قنبلة موقوتة) اس کے بعد آپ نہایت بے چارگی کے ساتھ اس کے فیصلے کا انتظار کریں گے کہ وہ آپ کی کتاب کو ممنوع الدخول قرار دیتا ہے یا آپ اور آپ کی کتاب دونوں کو۔

مضمون نگار نے اپنا بخار نظام (حکومت) پر اتارا تھا۔ مگر میرے نزدیک اس کی ساری ذمہ داری ان نام نہاد مسلم مفکرین پر ہے جنھوں نے اسلام کی سیاسی تفسیر کر کے اسلامی دعوت کو سیاسی انقلاب کے ہم معنی بنادیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلم ملکوں کے حکمران اب " اسلامی دعوت " کا نام لینے والوں کو سیاسی اپوزیشن کے طور پر دیکھتے ہیں اور خطرہ سمجھ کر فوراً انہیں دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مفکرین کی اس خود ساختہ تشریح نے اب مسلم ملکوں میں اسلام کا کام کرنے کو بڑی حد تک ناممکن بنادیا

موجودہ زمانہ کے مسلم مفکرین اگر غیر سیاسی اسلام پیش کرتے جس کی ایک مثال تبلیغی جماعت کی صورت میں نظر آتی ہے تو مسلم داعی کو مسلم ملکوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا اور کام کے تمام ۱۸ ؁ ۲۰ اپریل ۱۹۸۹

بہترین مواقع اس کو حاصل رہتے۔ مگر ان کے سیاسی اسلام نے خود اپنی ہی دنیا کو اسلام کے لیے ایک قسم کا قید خانہ بنا دیا ہے۔

صنعاء (یمن) کے ہوائی اڈہ پر اترا تو ۳۱ اکتوبر کا سورج نکل رہا تھا۔ یہاں ایک عجیب واقعہ پیش کاؤنٹر پر ضروری اندراجات کرانے کے بعد میں عام گیٹ سے باہر آیا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں کانفرنس کا کوئی آدمی میری رہنمائی کرنے اور ساتھ لے جانے کے لیے موجود نہیں ہے۔ ادھر اُدھر دیکھنے کے بعد میں پولیس (شرطہ) کے دفتر میں گیا۔ صنعاء کے روزنامہ الثورة (۳۰ اکتوبر ۱۹۸۸) کے صفحہ اول پر مذکورہ کانفرنس کے افتتاح (۲۹ اکتوبر) کی روداد نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی۔ یہ افتتاح یہاں کے صدر (رئیس) علی عبداللہ الصالح نے کیا تھا۔ اس اخبار کو میں نے پولیس افسر کو دکھایا اور کہا کہ میں اس کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔ مگر یہاں کوئی شخص مجھے رسیو کرنے کے لیے موجود نہیں ہے۔ یہ بات ہو رہی تھی کہ ایک صاحب مجھے تلاش کرتے ہوئے پولیس کے دفتر میں آ گئے۔ یہ عبدالرحمن اسماعیل الشبیبی (مدیر الحج والمؤتمرات) تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم گاڑی لے کر وی آئی پی لاؤنج میں آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ چنانچہ ان کے ساتھ روانہ ہو کر مذکورہ مقام پر پہنچا۔ اور ان کے ساتھ ہوٹل تک آیا۔

اس واقعہ کے بعد دل بھر آیا۔ دنیا کے اس تجربہ سے میرا ذہن آخرت کی طرف مڑ گیا۔ بے اختیار نکلا : کیسا عجیب ہوگا اگر آخرت میں ایسا ہو کہ میں اپنے احساسِ عجز اور احساس تقصیر کے تحت عام دروازہ سے گردن جھکا کر نکل رہا ہوں۔ اس وقت فرشتے میرے پاس آئیں اور کہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ میرے بندے کو ادھر لے آؤ اور اس کو خاص دروازہ سے نکالو، ہم نے یہاں اس کے لیے خصوصی انتظام کر رکھا ہے۔

صنعاء میں میرا قیام شیراٹن ہوٹل (کمرہ ۳۳۰) میں تھا۔ یہ ہوٹل پہاڑی سے متصل ہے۔ اس میں ایک نئی چیز یہ دیکھی کہ عام ہوٹلوں میں ریسپشن گراؤنڈ فلور پر ہوتا ہے۔ مگر اس ہوٹل میں ریسپشن چھٹی منزل پر تھا۔ اس کی نیچے کی منزلیں ایک طرف پہاڑ سے ڈھکی ہوئی تھیں چھٹی منزل پر زمین کی سطح ملتی تھی، چنانچہ چھٹی منزل پر ریسپشن اور آمدورفت کے راستے بنائے گئے تھے۔ کے اس نظام کو دیکھ کر دل نے کہا : اس دنیا میں کبھی نیچے سے راستہ نکالنا ہوتا ہے اور کبھی اوپر

اس ”فرق“ کو جاننے ہی میں زندگی کی تمام بڑی بڑی کامیابیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ ہوٹل کے کمرہ میں ایک فولڈر تھا۔ اس کا عنوان تھا : ضيفنا الكريم (Dear guest) اس میں بہت سے سوالات تھے اور ”مہمان“ سے گذارش کی گئی تھی کہ جب وہ ہوٹل سے جانے لگے تو اس کو بھر کر استقبالیہ میں چھوڑ دے۔ ان سوالات کا خلاصہ یہ تھا کہ آپ نے اپنے تجربہ میں ہمارے ہوٹل کو کیسا پایا۔ ہمارے عملہ کی کارکردگی ، ہمارے کمروں کا نظام ، ہماری سروس وغیرہ کے بارہ میں جو تجربات آپ پر گزرے ہوں ان کو سوالات کے آگے تحریر کر دیں۔ فولڈر کا ایک حصہ موظفونا وعمالنا (Our people) عربی اور انگریزی دونوں زبانوں اس میں مختلف پہلوؤں سے پوچھا گیا تھا کہ ہمارے ہوٹل کے عملہ نے آپ کے ساتھ کیسا سلوک کیا :

Gave you a friendly greeting upon arrival Were courteous and helpful at the front desk Smiled and greeted you each time they saw you Performed their jobs quickly and efficiently Were enthusiastic about their jobs Took personal responsibility to answer your questions Helped you without being asked, anticipated your needs Took personal responsibility to resolve your problems Were friendly and hospitable Showed that they wanted you to come back Overall, how well did our people perform? اس کو پڑھ کر بے اختیار دل بھر آیا۔ آنکھوں سے آنسو ابل پڑے۔ میں نے سوچا کہ دنیا کے فائدے کے لیے آدمی کتنا زیادہ اہتمام کرتا ہے، مگر آخرت کے فائدے کے لیے لوگ کسی اہتمام کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ دکاندار اور گاہک کا جو رشتہ ہے، وہی اخروی طور پر داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر آج کوئی داعی نہیں جو اپنے مدعو کے ساتھ اس طرح کا معاملہ کرے جو ہوٹل کا مالک اپنے گاہکوں کے ساتھ کر رہا ہے۔

دل نے کہا: لوگ اپنی دنیا کی خاطر لوگوں سے مسکرا رہے ہیں۔ مگر خدا کی خاطر لوگوں سے مسکرانے والا کوئی نہیں۔ دکاندار اپنے گاہک کا استقبال کرنے کے لیے بے قرار ہے مگر داعی کو اپنے مدعو کا استقبال کرنے سے کوئی دل چسپی نہیں۔ دنیا کی اقوام سے مسلمانوں کا یہی غیر داعیانہ سلوک ان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ مسلمان جب تک اس معاملہ میں اپنی اصلاح نہ کریں، وہ خدا کی رحمتوں

کے مستحق نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ خدا اسی شخص کا مسکرا کر استقبال کرتا ہے جس نے خدا کی خاطر اس کے بندوں کا مسکرا کر استقبال کیا ہو۔

کئی منزلہ عمارتوں میں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں اس میں رہنے والے لوگوں کو کس طرح بچایا جائے ۔ اس مقصد کے لیے اونچی عمارتوں میں مختلف قسم کی ضروری ہدایات جگہ جگہ درج ہوتی ہیں۔ ہوٹل میں ایک جگہ یہ ہدایت لکھی ہوئی نظر آئی :

في حالة نشوب الحريق عليك استعمال السلم وعدم استعمال المصعد یعنی اگر عمارت میں آگ لگ جائے تو عمارت سے نکل کر باہر جانے کے لیے لفٹ (Elevator) استعمال نہ کریں بلکہ سیڑھیوں کے ذریعہ اتریں ۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے ہے کہ عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں بجلی فیل ہو سکتی ہے۔ ایسی حالت میں آدمی اگر لفٹ کے اندر داخل ہو جائے تو وہ اپنے آپ کو آگ کے قید خانہ میں بند کر لے گا۔ اس کے بعد اس کے زندہ بچنے کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جائے گی۔

لفٹ عام حالت میں تیزی کے ساتھ چڑھنے اترنے کا ذریعہ ہے ۔ مگر عمارت میں آگ لگنے کی صورت میں معاملہ الٹا ہو جاتا ہے۔ اب آدمی کے لیے تیز رفتار ذریعہ کے مقابلہ میں سست رفتار ذریعہ زیادہ کار آمد بن جاتا ہے۔ تیز سفر بظاہر بہت اچھی چیز ہے ۔ مگر بعض اوقات تیز سفر موت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور سست سفر زندگی کا ذریعہ۔

یمن اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ جنوبی یمن اور شمالی یمن۔ جنوبی یمن پر مارکسی ذہن رکھنے والوں کا قبضہ ہے ۔ مگر شمالی یمن میں اسلامی فکر کے لوگ چھائے ہوئے ہیں۔ شمالی یمن میں ہوا۔ ایک صاحب نے میری عربی کتابوں کی فہرست مانگی۔ فہرست بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ ” ایک کتاب کا نام سقوط المارکسیة ہے ۔ مجھے معلوم نہیں کہ یہ کتاب آپ کے یہاں پسند کی جائے گی یا نہیں؟ انھوں نے فوراً کہا کہ مارکسی حکومت جنوبی یمن میں ہے۔ ہمارے یہاں (شمالی یمن میں) اسلامی شورائی نظام ہے (الحكم الماركسي في جنوب اليمن اما اليمن الشمالية فالحكم فيها شوروی (اسلامی) شمالی یمن میں کافی ترقیاتی کام جاری یہ سب زیادہ تر سعودی عرب ، کویت اور عرب امارات وغیرہ کے تعاون سے ہو رہے ہیں۔

روایات میں آتا ہے کہ یمن کا وفد مدینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اَنَاكُمْ هم ارق افئدۃً والين قلوباً۔ الایمان یمان والفقه یمان والحكمۃ يمانيّة ( بخاری ومسلم) یعنی تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں۔ وہ رقیق القلب ہیں اور نرم دل ہیں۔ ایمان تو یمن والوں کا ہے، سمجھ یمن والوں کی ہے، حکمت یمنی حکمت ہے۔ اس حدیث میں جو بات کہی گئی ہے، وہ مطلق معنوں میں نہیں ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایمان اور فقہ اور حکمت ہمیشہ کے لیے یمن والوں کی خصوصیت ہے۔ مقصد دراصل ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلام قبول کرنے کے لیے آئے۔ یہ ایک وقتی کلمہ ہے نہ کہ کوئی ابدی قانون۔ جو لوگ اس حقیقت کو نہ جانیں، وہ احادیث کو سمجھنے میں سخت غلطی کریں گے۔

قرآن کی سورہ نمبر ۸۵ میں " اصحاب اخدود" کا ذکر ہے۔ یعنی قدیم زمانہ کے کچھ خدا پرست جن کو آگ سے بھرے ہوئے گڑھے میں ڈال کر وحشیانہ طریقہ سے ہلاک کر دیا گیا تھا (البروج)۔ اصحاب اخدود کون لوگ تھے، ان کے بارہ میں قطعیّت کے ساتھ کوئی چیز ثابت نہیں۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ یہ واقعہ حضرت مسیح کے پیروؤں کے ساتھ یمن میں ہوا۔ یہ غالباً ۵۲۳ء کا واقعہ ہے۔ اس وقت یمن میں ایک یہودی بادشاہ ذونواس کی حکومت تھی۔ اس نے یمن کے عیسائیوں کو یہودی بنانا چاہا۔ وہ لوگ اس کے لیے راضی نہیں ہوئے۔ یہودی بادشاہ ان پر سخت برہم ہوا اس نے کچھ عیسائیوں کو قتل کر دیا اور کچھ کو آگ میں ڈال کر جلا دیا۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد ۲۰ ہزار بتائی جاتی ہے۔

روایات بتاتی ہیں کہ ان یمنی عیسائیوں میں سے ایک شخص (ذوتعلیبان) بھاگ کر باہر چلا گیا ۔ اس نے روم کے عیسائی بادشاہ قیصر اور حبش کے عیسائی حکمراں نجاشی کو اس ظالمانہ واقعہ کی اطلاع دی ۔ اس کے بعد حبش کی حکومت نے اپنے فوجی سردار اریاط کی رہنمائی میں ۷۰ ہزار حبشیوں کی فوج تیار کی۔ رومی سلطنت نے بحری بیڑہ دیا جس کے ذریعہ فوج یمن کے ساحل پر اتاری گئی۔ لڑکر ذونواس کی فوج کو شکست دی۔ اور ذونواس کو قتل کر ڈالا ۔ اس طرح یمن سے یہودی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

یہ واقعہ۵۲۵ء میں پیش آیا ۔ اس کے بعد یمن پر حبش کی عیسائی حکومت کا اقتدار قائم ہو گیا ۔ ہر شخص کے لیے ممکن ہے ، مگر ظلم پر کھڑا ہونا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں ۔ اریاط کے بعد ابرہہ یمن کا حکمراں ہوا ۔ یہی ابرہہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے کچھ پہلے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ آیا تھا تا کہ کعبہ کو ڈھادے ۔ اس نے یمن کے دار السلطنت صنعاء میں ایک بہت بڑا کلیسا (Ekklesia) بنوایا جیسا اب تک کسی عیسائی نے نہیں بنوایا تھا ۔ نے اعلان کیا کہ میں اس وقت تک رکنے والا نہیں ہوں جب تک عرب کے حج کو اس کی طرف پھیر نہ دوں ( لستُ بمنتهى حتى اصرف إليها حج العرب ، سيرۃ ابن ہشام ، اول ۴۳ ) روایات کے مطابق غالباً ۵۷۱ء میں وہ ۶۰ ہزار فوج کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوا ۔ کی فوج میں ایک درجن بڑے بڑے ہاتھی بھی شامل تھے ۔ اس لیے اس کو اصحاب فیل کہا گیا ہے مگر جیسا کہ سورہ الفیل میں بتایا گیا ہے ، ابرہہ اور اس کا لشکر خدائی عذاب کے تحت تباہ ہو گیا اور مکہ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔

ابن سبا جس کے فتنوں نے اسلامی تاریخ کو شاید سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ صنعاء کا رہنے والا تھا ۔ وہ ایک یہودی تھا ۔ اس کا پورا نام عبداللہ بن سبا المعروف بہ ابن السوداء تھا وہ خلیفہ سوم حضرت عثمان کا ہم عصر تھا ۔ اس نے یہ نظریہ نکالا کہ ہر پیغمبر کا ایک وصی ہوتا ہے جو اس کے بعد اس کا خلیفہ بنتا ہے ۔ محمدؐ کے وصی علی ابن ابی طالب ہیں ۔ جس طرح محمد خاتم الانبیاء ہیں ، اسی طرح علیؓ خاتم الاوصیاء ہیں ۔ اس کا کہنا تھا کہ محمدؐ کی وفات کے بعد لوگوں نے علیؓ کے سوا دوسروں کو خلیفہ بنا کر سخت غلطی کی ہے ۔ اب سب کو چاہیے کہ موجودہ خلیفہ عثمانؓ کو قتل یا معزول کر دیں اور ان کی جگہ علیؓ کو خلیفہ بنائیں ۔

صنعاء میں اس فتنہ کو پھیلانے کے زیادہ مواقع نہیں تھے ۔ چنانچہ وہ صنعاء کو چھوڑ کر مدینہ یہاں کے حالات بھی اس کے موافق نہ تھے ۔ اس کے بعد وہ بصرہ گیا ۔ پھر کوفہ اور دمشق پہنچا۔ لیکن ہر جگہ کے حالات اس کو اپنے خلاف نظر آئے ۔ آخر میں وہ مصر پہنچا ۔ اس وقت عبداللہ بن سعد ابن ابی سرح مصر کے گورنر تھے ، عبداللہ کی بعض باتوں سے یہاں کے لوگوں کو کچھ شکایات انھیں شکایتوں نے ابن سبا کو مصر میں کام کرنے کا موقع دے دیا ۔ اس نے لوگوں کے

جذبات کو ابھار کر مصر میں ایک عام شورش برپا کردی جس کا آخری نتیجہ حضرت عثمان ؓ کا قتل تھا۔ حکمران کے خلاف ایجی ٹیشن کی مہم چلانا اور سیاسی شکایتوں کو بیان کر کے عوام کو بھڑکانا، یہ تمام تر ابنِ سبا کی سنت ہے۔ یہ سنت آج بھی مسلمانوں میں پورے زور و شور کے ساتھ جاری حتی کہ موجودہ زمانہ میں جن مسلم رہنماؤں نے عمومی شہرت حاصل کی، وہ تقریباً سب کے سب وہی ہیں جو ابنِ سبا کے اس مجرب نسخہ کو استعمال کر کے شہرت اور مقبولیت کے مقام تک پہنچے

یمن میں ایک چھوٹا سا قصبہ مارب کے نام سے آباد ہے۔ کسی وقت یہاں عالی شان شہر قائم قرآن میں قومِ سبا کا ذکر ہے۔ اس کا مرکز یمن کا قدیم شہر مارب تھا۔ اس کا زمانہ ۱۵ قبل مسیح کے بعد سے ایک ہزار سال تک پھیلا ہوا ہے۔ تجارت اور زراعت میں غیر معمولی ترقی کی وجہ سے اس وقت وہ دنیا کی سب سے زیادہ مالدار قوم کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر آج دنیا کے اقتصادی نقشہ پر یمن کو کوئی قابلِ ذکر مقام حاصل نہیں۔

سبا کی قوم جنوبی عرب پر حکمراں تھی۔ تاریخ میں ان کو سبائی (Sabaean) کہا جاتا ہے۔ (1044/1) ساتویں صدی عیسوی میں یہ قوم اپنے آخری عروج پر تھی۔ اس نے سدِ مارب (Marib Dam) بنا کر اپنی زراعت کو زبردست ترقی دی جس کا ذکر قرآن میں سورہ سبا میں آیا ہے۔ یہ علاقہ اس وقت اتنا سر سبز اور خوش حال ہو گیا کہ مورخین اس کو دور قدیم کا پیرس (Paris of the ancient world) کہتے ہیں۔

سدِ مارب تقریباً چودہ میٹر اونچا اور ۶۰۰ میٹر لمبا تھا۔ وہ ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک یمن کی آبپاشی کا ذریعہ بنا رہا۔ (441/5) دورِ قدیم کے اعتبار سے وہ اتنا شاندار تھا کہ قومِ سبا کے لوگ اس پر فخر کرتے تھے۔ حتی کہ اپنی ترقی اور خوش حالی کی وجہ سے ان میں سرکشی پیدا ہوگئی۔ وقت، چھٹی صدی عیسوی میں بند کے اندر شگاف ظاہر ہوئے۔ یہ ابتدائی وارننگ تھی۔ سبا اس سے ہوش میں نہیں آئی۔ اس کے بعد ساتویں صدی عیسوی میں سخت زلزلہ آیا اور بند سمیت پورا علاقہ ویران ہوگیا۔

صنعاء ایک تاریخی شہر ہے جو یمن کی راجدھانی ہے۔ صنعاء حضرت علیؓ کے زمانہ میں ۶۳۲ میں

اسلامی سلطنت کا حصہ بنا۔ یہ پورا شہر پہاڑ کے دامن میں بسا ہوا ہے۔ ۱۵۱۶ء سے وہ عثمانی ترکوں کے تحت تھا۔ یہ قبضہ ۱۹۱۳ء میں ختم ہوا۔ ۱۹۶۲ء میں یہاں فوجی انقلاب آیا اور "امام" کی جگہ موجودہ حکومت قائم ہوئی۔ پہلے یہاں یہودی بھی آباد تھے۔ ۵۰-۱۹۴۹ء میں تمام یہودی باشندے یمن کو چھوڑ کر اسرائیل چلے گئے۔ یہاں تمام ترقیاتی کام "انقلاب" کے بعد ہوئے ہیں۔ صنعاء یونیورسٹی ۱۹۷۰ء میں قائم ہوئی۔

یمن میں ایک چیز نظر آئی جو میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ہر آدمی اپنے پیٹ پر سینگ کی مانند یا انگریزی حرف ج (J) کی شکل کی ایک چیز باندھے ہوئے تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ خنجر ہے جس کو یہاں کی زبان میں الجنبیہ کہتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں ہر آدمی اپنے ساتھ ایک تلوار رکھتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں خنجر نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ تاہم وہ صرف علامت کے طور پر ہوتا ہے۔ اس کو کبھی لڑائی جھڑائی کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو اس کو سخت جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

ایک صاحب نے بتایا کہ یہاں جو شخص اس کو نہ لگائے وہ کمزور شخصیت کا آدمی سمجھا جائے بنیادی طور پر وہ بطورِ زینت کے استعمال ہوتا ہے (من لا يحملها يعتبر ذوشخصية ضعيفة وهي تلبس اساساً كالزينة)

تاہم اس رسمی خنجر کا بہت بڑا فائدہ ہے۔ یہ اگرچہ مارنے کے لیے کبھی استعمال نہیں ہوتا۔ مگر وہ یہاں کے بیشتر آپس کے جھگڑے ختم کر دیتا ہے۔ بہت کم جھگڑے ہیں جن کو عدالت میں لے جانے کی نوبت آتی ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ دو آدمیوں میں آپس کا جھگڑا ہو، خواہ وہ قتل کا ہو یا ایک ملین ڈالر کا ہو۔ دونوں اپنے قبیلہ کے سردار کے پاس جائیں گے، اور اپنے اپنے "خنجر" کو نکال کر سردار کے سامنے رکھ دیں گے۔ یہ اس بات کی ضمانت ہوگی کہ سردار جو بھی فیصلہ کر دے، وہ اس کو لازماً تسلیم کریں گے، خواہ وہ اپنے موافق ہو یا اپنے خلاف۔ یہاں کے ۸۰ فی صد جھگڑے اسی طرح عدالت میں جائے بغیر طے ہو جاتے ہیں۔

یہ روایات کی طاقت کا نتیجہ ہے۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد تمام روایات ٹوٹ گئیں، اور کوئی نئی روایت قائم نہیں ہوئی۔ یہی سب سے بڑی کمی ہے جو آج کے ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔

۲۱ اکتوبر کی دوپہر کو عبد اللہ الصالح رئیس جمہوریہ یمن) سے یہاں کے ”قصر“ میں ملاقات یہ اجتماعی ملاقات تھی۔ فرد آفردا ملاقات کے بعد رئیس نے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس میں انہوں نے اس تصور کو پسند کیا کہ اسلام کو ایک دعوتی قوت کی حیثیت سے اٹھایا جائے ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بہت سی اسلامی جماعتیں اسلام کے نام پر سیاسی جھگڑوں میں مشغول ہیں ۔ اس کے بجائے اگر وہ دعوتی محاذ پر کام کریں تو یہ ان کی صلاحیتوں کا زیادہ بہتر استعمال ہو گا۔

۳۱ اکتوبر کی شام کو سبا ہوٹل (Taj Sheba Hotel) میں ایک خصوصی میٹنگ ہوئی۔ میں کانفرنس کے بیرونی شرکار اور یمن کے مقامی علماء جمع ہوئے ۔ کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن سے اس کے بعد قاضی علی العثمان (وزیر الاوقاف) نے ابتدائی خطاب کیا۔ وہ خالص عالمانہ حلیہ میں اس موقع پر وزارت اوقاف کے اکثر ذمہ داران موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ وزیر، نائب وزیر اور دوسرے اکثر تعلیم یافتہ افراد میری کتابیں پڑھے ہوئے ہیں۔ لوگوں کا شدید اصرار تھا کہ میں کانفرنس کے بعد مزید ٹھہروں تاکہ یہاں کی یونیورسٹی اور دوسرے اداروں میں میرے محاضرات رکھوائے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو جب معلوم ہوگا کہ آپ یہاں آئے تو ان کو سخت شکایت ہوگی کہ آپ سے ملاقات اور محاضرہ کا پروگرام کیوں نہیں رکھوایا گیا : مگر وقت کی کمی کے باعث میں نے عذر کر دیا۔ سبا ہوٹل کے جس ہال میں اس ملاقات کا انتظام کیا گیا تھا، وہاں دیوار پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا: الدعوة الى الله : رسالة الانبياء وميراث العلماء ونهج الصالحين اس نشست میں تقریباً ۵۰ آدمی شریک ہوئے ۔ مگر لوگوں کی گفتگوؤں سے ایسا معلوم ہوا کہ کسی پر پوری طرح یہ واضح نہیں ہے کہ ”دعوت الی اللہ کیا ہے۔ اکثر لوگ دعوت سے آغاز کر کے مبشرین اور مستشرقین اور صہیونیون کے پیدا کردہ مسائل پر اظہار خیال کرنا شروع کر دیتے ۔ حالاں کہ یہ سب دفاعی مسائل ہیں نہ کہ دعوتی مسائل ۔

ایک صاحب نے ان الفاظ کے ساتھ اپنی تقریر شروع کی : هل لنا ان ننسائـل ماهو

رخ پر چل پڑی۔ موجودہ زمانہ میں ہر جگہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ کام کے نام سے صرف ایک چیز کو جانتے ہیں اور وہ مقابلہ اعداد ہے۔ دعوت اعداد کی اہمیت نہ ان کے اصاغر کو معلوم ہے اور نہ ان کے

کانفرنس میں زیادہ تر انھیں امور پر بحث ہوئی جن کو ہندوستان میں "مسائل ملت" کہا جاتا ہے۔ اس کے ایک اجلاس میں کسی موضوع پر مشاورتی بحث ہورہی تھی۔ ہر آدمی نیا نیا نکتہ نکال کر بحث کو لمبا کر رہا تھا۔ صدر جلسہ نے اپنی طرف سے ایک آخری تجویز پیش کی اور رد عمل کا انتظار کیے بغیر فوراً کہا : اذلم يكن هنالك اعتراض فيعتبران هناك موافقة (اگر کوئی اعتراض نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر اتفاق ہے)، یہ کہہ کر کارروائی آگے بڑھادی۔ مشاورتی مجالس میں یہی طریقہ درست ہے۔ ہر شخص جس نے اس طرح کی مجالس میں شرکت کی ہے، وہ جانتا ہے کہ لوگ اتنی زیادہ بحثیں نکالتے ہیں کہ ایسا معلوم ہونے لگتا ہے کہ یہ بات کسی خاتمہ پر پہونچنے والی نہیں۔ ایسی حالت میں بات کو ختم کرنے کی صورت وہی ہے جس کی ایک مثال مذکورہ واقعہ میں نظر آتی ہے۔

یہاں کے اجتماع میں اور دوسری اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کے بعد میں اس رائے پر پہنچا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں پر "خطرات" کا ذہن سوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں "مواقع" دکھائی نہیں دیتے ۔ اور بلا شبہ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ بے شمار سرگرمیوں کے باوجود اب تک احیاء اسلام اور تعمیر ملت کا عمل ان کے درمیان شروع نہ ہوسکا۔ اس کا منزل پر پہونچنا تو در کنار۔

امریکہ میں ایک شخص نے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

گھانا میں ایک شخص نے نیا مذہب نکالا ہے جس کا مقصد تمام مذہبی کتابوں (بشمول قرآن) کو جلانا ہے ۔

انگلینڈ میں ایک شخص نے مضمون شائع کیا ہے جس میں پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کی گئی ہے ۔

فلاں مسلم حکمران مسلمان نہیں ہے ، وہ یہودی ہے ، وغیرہ

مسلمان ہر جگہ بس اسی قسم کے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں۔ وہ اب تک زندگی کے اس راز کو نہ جان سکے کہ اس قسم کے ”مسائل“ ہر زمانہ میں ہوتے ہیں اور ہر زمانہ میں لازماً باقی رہیں گے یہاں تک کہ قیامت آجائے ہمارا کام اس قسم کے ”خطرات“ کا انکشاف کرنا نہیں ہے۔ ہمارا مقصد ان مواقع کار کو تلاش کرنا ہے جو ہر حال اور ہر مقام پر موجود رہتے ہیں۔ ہمیں خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے مواقع کو استعمال کرنا چاہیے ۔ یہی زندگی کا راز ہے۔ اسی تدبیر کے ذریعہ دور اول میں اسلام کی تاریخ آئندہ بھی جب اسلام کی تاریخ بنے گی ، اسی تدبیر کے ذریعہ بنے گی ۔ اگر مسلمان خطرات کے خلاف ردعمل میں مشغول رہے تو اسلام کی جدید تاریخ بننے والی نہیں ، خواہ اس قسم کے ردعمل میں ایک کروڑ سال کیوں نہ صرف کر دیے جائیں ۔

میں نے کہا کہ مغرب نے تسخیر کائنات کے امکان کو استعمال کر کے موجودہ غلبہ حاصل کیا ہے۔ مگر تسخیر قلوب کے امکان کو استعمال کرنے کا میدان ابھی خالی ہے۔ جو قوم اس دوسرے امکان کو استعمال کرے گی وہ مغربی تاریخ سے بھی زیادہ بڑی تاریخ بنائے گی۔ تاہم اندازہ ہوا کہ اس طرح کی بات صرف ایک تقریر سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اس کے لیے مسلسل ذہنی خوراک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام موثر طور پر صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ الرسالہ کا عربی ایڈیشن معلوم ہوا کہ کچھ عرب حضرات بطور خود الرسالہ کا عربی ایڈیشن نکالنے کی تدبیر کر رہے ہیں۔ یمن قوم سبا کا وطن رہا ہے۔ سبا کا دار السلطنت مارب تھا۔ اس کے نام پر سد مارب یہاں کا مشہور ترین تاریخی مقام ہے۔ ۲ نومبر ۱۹۸۸ء کی صبح کو صنعاءء سے مارب کے لیے روانگی ہوئی۔ یہ مقام صنعا سے تقریباً ۱۲۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ شروع سے آخر تک نہایت عمدہ سڑک ہے جو کویت کے تعاون سے بنائی گئی ہے۔ تقریباً پورا راستہ پہاڑوں کے درمیان طے ہوا۔ پہاڑوں میں ہر قسم کے پتھر پائے جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ میں یمن کا عقیق (قیمتی سرخ پتھر) بہت ایک شاعر نے دنیا کی بے ثباتی کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہا ہے : اشک یخ بستہ عبرت ہیں عدن کے موتی خون افسردہ حسرت ہے عقیق یمنی تین ہزار سال پہلے یمن کے لوگوں نے جو سد مارب بنایا تھا۔ وہ آج بھی انسانی ذہانت کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ خود اس علاقہ میں زیادہ بارش نہیں ہوتی۔ بہت بڑے علاقہ کی بارانی بارش

کو بند کے ذریعہ مارب کے مقام پر جمع کیا جاتا تھا اور اس سے سینچائی کا کام لیا جاتا تھا۔ اس تدبیر نے اس خشک علاقہ کو سرسبز و شاداب بنا دیا تھا۔ قدیم سد مارب کے آثار اب بھی نمایاں طور پر موجود ہیں ۔

قدیم بند ہی کے مقام پر اب یہاں دوبارہ جدید طرز کا ڈیم بنایا گیا ہے۔ ڈیم کے انچارج نے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ شیخ زاید (عرب امارات) نے یہاں کا دورہ کیا تو ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ اس کو دوبارہ بنایا جائے۔ سب سے پہلے انہیں نے اس تصور کا آغاز کیا (هو الذي بدأ هذه الفكرة )

ہم لوگوں کا قافلہ تقریباً دو گھنٹہ میں سد مارب کے مقام پر پہنچا۔ تعارف کے دوران بتایا گیا کہ اس ڈیم کو دوبارہ بنانے کے دو مقصد ہیں۔ ایک مقصد اقتصادی ہے۔ یعنی اس علاقہ کی آبپاشی کے لیے پانی حاصل کرنا۔ دوسرا مقصد اسلامی ہے۔ سد مارب کا ذکر خود قرآن میں آیا ہے۔ یہ ڈیم اس علاقہ کی یاد کو ہمیشہ زندہ رکھے گا (يُحيي ذكرى هذه المنطقة) یہ ڈیم گویا انسان کے لیے اس بات کا نشان ہے کہ خدا کے شکر گزار بنو تو تمہارے لیے سب کچھ ہے اور ناشکری کرو گے تو اس کا نتیجہ دوبارہ وہی ہوگا جو قوم سبا کے ساتھ پیش آیا۔

موجودہ ڈیم ۷۰۰ میٹر لمبا اور ۴۰ میٹر اونچا ہے۔ قدیم سد مارب تقریباً ۸۰ میٹر اونچا تھا۔ یہ ڈیم بنایا گیا ہے اس کو عام طور پر وادی سبا کہا جاتا ہے۔ سابق سد مارب تین ہزار سال پہلے بنا تھا۔ یہ پورا کا پورا مضبوط پتھروں کا تھا۔ اس کے آثار اب بھی جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کثیر تعداد میں کتبے موجود یہ کتبے حمیری زبان میں ہیں۔ یہ پورا ڈیم شیخ زاید (عرب امارات) کے تعاون سے بن رہا ہے۔ اس کی لاگت ایک سو ملین ڈالر ہے۔ تحقیق اور ریسرچ کا سارا کام جرمن ماہرین نے کیا ہے۔ دس سال سے اس کام میں مشغول ہیں۔

سد مارب دیکھنے کے بعد ہم لوگ اس کھنڈر کو دیکھنے کے لیے گیے جو معبد شمس (Sun temple) کے نام سے مشہور ہے۔ یہ ملکہ بلقیس اور اس کی قوم سبا کا عبادت خانہ تھا۔ اب بھی اس کے کھنڈر صحرا میں اس کے کئی ستون اب بھی کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کا ایک ایک پتھر ۵۰ ٹن کا ہے۔ گول انداز میں بنا ہوا تھا۔ اس کی کھدائی میں کافی کتبات اور سامان نکلے جو اب لندن کے میوزیم میں موجود

یہ معبد تقریبا تین ہزار سال پرانا ہے۔

ہم وہاں دوپہر کے وقت پہنچے۔ سورج پوری تابناکی کے ساتھ چمک رہا تھا۔ اور اس کے نیچے معبد شمس آخری حد تک کھنڈر کا نمونہ بنا ہوا تھا۔ اس ماحول میں ایسا معلوم ہوا جیسے سورج زبان حال سے کہہ رہا ہو کہ میں تمہارا خدا نہیں۔ اگر میں خدا ہوتا تو میں اپنے عبادت خانہ کو کھنڈر ہونے سے

مزید آگے بڑھے تو وہ جگہ تھی جس کو "عرش بلقیس" کہا جاتا ہے۔ یہ ملکہ سبا (بلقیس) کا محل تھا جو معبد شمس کے قریب واقع تھا۔ اس کے پانچ بڑے بڑے ستون اب بھی سیدھے کھڑے ہوئے ہر ستون ۱۲ میٹر لمبا ہے۔ ان ستونوں کے اوپر کیسی لڑکے چڑھنے اور اترنے کا ایک عجیب و غریب تماشا دکھارہے تھے۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ شہر کی اونچی عمارتوں میں اوپر چڑھنے کے لیے جو لفٹ لگی ہوئی ہے وہ اوٹس (OTIS) کی ہے جو ایک مغربی کمپنی ہے۔ روایتی صعود میں مسلمان خود استاد ہیں مگر مشینی صعود کے لیے انہیں مغرب کی شاگردی کرنی پڑتی ہے۔ مسلمان روایتی دور میں سب سے آگے تھے، مگر سائنسی دور میں وہ سب سے پیچھے ہو گئے۔

یہیں پر قدیم شہر مارب کے کھنڈرات ہیں جو دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ یہاں ایک عمارت ہے جو "مسجد سلیمان" کے نام سے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان نے یہاں نماز پڑھی اور پھر اسی جگہ مسجد تعمیر کی گئی۔ تاہم اس کا تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے۔ یہ مسجد ایک بہت بڑے ہال کی صورت میں ہے جو کہ تقریبا ۳۰ ستونوں پر قائم ہے۔ پورا مارب شہر ایک بلندی پر کھنڈرات کی صورت میں نظر آتا ہے اور عبرت کا عجیب نمونہ ہے۔

مارب شہر مشہور "قیرواں روڈ" پر واقع تھا۔ یہ شاہراہ بحر عرب کو بحر روم سے ملاتی تھی۔ پر ہزاروں کی تعداد میں اونٹوں کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ ان تاجروں سے ٹیکس وصول کیے جاتے تھے اور وہ حکومت سبا کی آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ تھا ۔ قدیم زمانہ کی تجارتی شاہراہ اب صرف سیاحوں کی شاہراہ بن کر رہ گئی ہے۔

قدیم مارب کے پاس ہی جدید مارب آباد ہے۔ طرز تعمیر کے اعتبار سے وہ بھی قدیم انداز کا بنا یہاں ایک " ہوٹل بلقیس" ہے جو غالباً سیاحوں کی ضرورت کے لیے بنایا گیا ہے۔

صحرا کے اندر ایک تہذیبی نخلستان ہے ۔ اس ہوٹل میں ظہر کی نماز پڑھی گئی اور یہیں دوپہر کا کھانا کھایا گیا یہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد صنعاء کے لیے واپسی ہوئی۔

قدیم شہر مارب کے ٹوٹے ہوئے مکانات اور قدیم سد مارب ، معبد شمس ، عرش بلقیس وغیرہ کے کھنڈرات سب پاس پاس واقع ہیں۔ اس پورے علاقے کو وادی سبا ا جاتا ہے۔ ہم کھنڈرات کی اس خشک وادی میں پہنچے تو یہ دوپہر کا وقت تھا۔ آسمان بالکل صاف تھا اور سورج اپنی پوری تابانی کے ساتھ چمک رہا تھا اور تیز روشنی بکھیر کر دیکھنے والوں کو دور سے دکھارہا تھا کہ یہ تاریخی منظر جب میرے سامنے آیا تو اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے کہ یہ سورج نہیں ہے بلکہ خدائی ٹارچ ہے جو اندھیرے میں اس لیے چلائی گئی ہے تاکہ لوگوں کو دکھا ئے کہ خدا کی طاقتیں کیا ہیں اور وہ قوموں کے ساتھ کس طرح کا معاملہ کرتا ہے۔

یہاں ایک کتاب دیکھی۔ اس کا نام تھا ۔ یمن کی از سر نو دریافت : کتاب کے مصنف مائیکل جینر (Michael Jenner) ہیں۔ وہ لندن میں پیدا ہوئے ۔ یونیورسٹی میں تعلیم پائی اور اب لندن ہی میں رہتے ہیں۔ وہ برٹش ٹورسٹ اتھارٹی کے مڈل ایسٹ ڈپارٹمنٹ میں کام کرتے ہیں۔ انھوں نے یمن کا سفر کیا اور علم الآثار کی جدید تحقیقات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ کتاب مرتب کی۔ اس میں یہاں کے آثار کے بہت واضح فوٹو دیے گئے ہیں اور قدیم یمن سے متعلق نہایت مفید معلومات درج ہیں۔ یہ کتاب لانگ مین کمپنی نے چھاپی ہے۔ کتاب کے سرورق پر لکھا ہوا تھا کہ یمن عرصہ دراز تک ان ملکوں میں شامل تھا جن کے بارے میں دنیا کو بہت کم معلومات تھیں۔ یمن نے اب اپنے دروازے بیرونی مشاہدین کے لیے کھول دیے ہیں For many years one of the least-known countries in the world, Yemen has recently opened its doors to foreign visitors. آج اس طرح کی کتابیں بڑی تعداد میں مختلف ملکوں کی قدیم تاریخ کے بارہ میں شائع ہو رہی ہیں۔ یہ گویا ، ایک اعتبار سے ، قل سیروا في الأرض فانظروا كيف كان عاقبة المكذبين کی تفسیر قدیم زمانہ میں قوموں پر ظاہر ہونے والے فیصلے دبے ہوئے کھنڈروں کی صورت میں زمین میں

دفن تھے یا تاریخ کے پردہ میں چھپ گئے تھے، حتیٰ کہ اب لوگ آج کے " یمن " کو جانتے تھے وہ قدیم "یمن" سے ناواقف ہو چکے تھے۔ علم الآثار کے ماہرین گویا موجودہ زمانہ میں خدائی کارندے بن کر ظاہر ہوئے اور بڑھتے ہوئے سیاحتی ذوق نے اس کی ضروری قیمت ادا کی۔ اس طرح ایسا ہوا کہ خدا کا فیصلہ جو تاریخ کے گردو غبار میں چھپ گیا تھا۔ اس کو کھود کر اور تحقیق کرکے نکالا گیا اور عالمی مشاہدہ کے لیے اس کو دنیا کے سامنے رکھ دیا گیا۔ تاہم یہ پورا کام غیر مسلموں کے ذریعہ انجام پایا ہے۔ اس میں مسلمانوں کا کوئی

یکم نومبر کی دو پہر کو یہاں کی یونیورسٹی دکھائی گئی۔ اجتماعی طور پر تمام شرکاء وہاں لے جائے گئے۔ ایک مکمل یونیورسٹی ہے جہاں تمام شعبے قائم ہیں۔ ذریعہ تعلیم عربی کے ساتھ انگریزی بھی ہے۔ مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے ایک ہال میں لے جایا گیا جہاں کلاس جاری تھی ۔ استاد نے بتایا کہ یہ " ٹرافک انجینئرنگ " کی کلاس ہے۔ انھوں نے عربی میں اپنے مضمون کا تعارف شروع کیا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہاں کچھ لوگ عربی نہیں جانتے اس لیے انگریزی ترجمہ ہونا چاہیے۔ استاد نے اس کے فوراً بعد اپنی بات کو انگریزی میں کہنا شروع کیا۔ جس روانی کے ساتھ وہ عربی میں بول رہے تھے، اسی روانی کے ساتھ انگریزی میں بولنے لگے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یہاں جو اساتذہ ہیں وہ لائق ہیں اور اپنے مضمون پر اچھی طرح تیار ہیں۔

یمن کے وسائل زیادہ نہیں ہیں۔ ایک بڑی زیر تعمیر عمارت دکھائی گئی۔ یہ میڈیکل کالج تھا۔ کہ یہ پورا کالج کویت کے تعاون کے تحت بنایا جارہا ہے۔ یہی حال دوسرے ترقیاتی امور کا بھی ہے۔ تاہم تیل کی تلاش یہاں بڑے پیمانہ پر جاری ہے اگر تیل دریافت ہو گیا تو یمن بھی دوسرے خلیجی ممالک کی طرح خوش حال ملک بن جائے گا ۔

صنعاء کے ماہنامہ الارشاد اور روژنامہ الثورہ نے انٹرویو لیا۔ الارشاد کا انٹرویو تفصیلی وقت کی کمی کے باعث الثورہ کو میں صرف مختصر انٹرویو دے سکا۔ ٹیلی وژن کے لوگ بھی اصرار کر رہے تھے۔ مگر وقت کی کمی کے باعث میں ٹیلی وزن کو انٹرویو نہ دے سکا۔ الارشاد کا انٹرویو اس کے رئیس تحریر د۔ عبداللہ الواسطی نے لیا۔ انھوں نے گفتگو کا آغاز اس جملہ سے کیا: الشيخ وحيدالدين، نرحب بكم في هذا البلد الذى هو بلد كل مسلم

اس کے بعد انھں نے جو سوالات کیے ان میں سے کچھ یہ تھے :

Printed page