حکیمانہ طریقہ
Al-Risala, January 1989, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
معین الدین صاحب (پیدائش ۱۹۵۶ء) بگہا (ضلع چمپارن) کے رہنے والے ہیں۔ ۱۹۸۸ء کی ملاقات میں انھوں نے اپنے یہاں کا ایک واقعہ بتایا جو بے حد سبق آموز ہے۔ بگہا کی جامع مسجد کا نام جامعہ انوار ہے۔ ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء کی رات کو کسی شخص نے خنزیر کاٹ کر اس کا سر مسجد کے اندر سائبان والے حصے میں ڈال دیا۔ صبح کے وقت جب لوگ نماز فجر کے لئے آئے تو نماز کی ادائیگی کے بعد ایک شخص (ارمانی خاں) نے اس کو دیکھا۔ اس وقت بگہا کے امیر تبلیغ حاجی اسرار الحق صاحب حسب معمول نمازیوں کو بیٹھا کر تعلیم کر رہے تھے۔ ارمانی خاں نے واقعہ کی خبر دی تو وہ فوراً اٹھ کر مقام واردات پر آئے۔ انھوں نے دیکھا کہ واقعہ خنزیر کا کٹا ہوا سر مسجد کے اندر پڑا ہے۔
حاجی اسرار الحق صاحب جو الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، انھوں نے شور و غل کرنے کے بجائے یہ کیا کہ فوراً اس کو کپڑے میں لپیٹ کر اٹھا لیا۔ پھر موذن کے ہمراہ وہ تیزی سے اس کو لے کر باہر نکلے اور لے جاکر بیت الخلاء کے کنوئیں (بورنگ) کے اندر ڈال دیا۔ اس کے بعد وہ مسجد میں آئے اور پانی سے اچھی طرح دھو کر مسجد کو صاف کر دیا۔ اس کے بعد حاجی صاحب ڈاکٹر ایم یو خان انھوں نے حاجی صاحب کی کارروائی سے اتفاق کیا۔ دونوں مقامی تھانہ میں گئے۔ نے پولیس کو پورے واقعہ کی خبر دے دی۔ تھانہ والوں نے حاجی صاحب کی بہت تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو ہمارے اوپر پہاڑ اتنا بڑا بوجھ تھا، آپ نے اس کو ہمارے سر سے ٹال دیا۔ بگہا کے مہتر خنزیر پالتے ہیں اور اس کا کاروبار کرتے ہیں۔ پولیس والے مہتروں کی بستی میں گئے اور ان کو سخت ڈانٹ ڈپٹ کی۔ تاہم اصل مہتر جس کے کہنے پر یہ کارروائی کی تھی، وہ رات ہی کو بھاگ کر نیپال چلا گیا۔
معین الدین صاحب نے بتایا کہ خبر سن کر بڑی تعداد میں مسلمان مسجد میں جمع ہوگئے اور انھوں نے حاجی صاحب کو برا بھلا کہا۔ مگر ساری بستی کے ہندوؤں نے ان کی تعریف کی۔ ہندو دکاندار نے کہا کہ حاجی صاحب نے وہ کام کیا ہے جو مہان آدمی کیا کرتا ہے۔
سیکڑوں آدمیوں کو ہٹیا ہونے سے بچالیا۔ ایک اور ہندو نے کہا کہ جس شخص نے مسجد میں خنزیر ڈالا وہ بہت گرا ہوا انسان ہے۔ جو شخص عبادت خانہ کو گندا کرے اس سے زیادہ برا آدمی اور کوئی نہیں۔
حاجی صاحب نے اعراض اور حکمت کے طریقہ کو اختیار کر کے پوری بستی کو تباہی و بربادی سے اگر وہ خنزیر کو دیکھ کر مشتعل ہو جاتے تو گہرا یقینی طور پر فساد کی نذر ہو جاتا۔ معین الدین صاحب سے میں نے پوچھا کہ اس معاملہ میں عام مسلمانوں کا رد عمل کیا تھا۔ نے کہا کہ خبر پھیلی تو مسلمان ادھر اُدھر سے آکر مسجد میں جمع ہونے لگے۔ گیارہ بجے تک ہزاروں کی تعداد میں مسلمان وہاں آچکے تھے۔ وہ لوگ سخت غصہ میں تھے اور حاجی اسرار الحق صاحب کے اوپر بری طرح برس رہے تھے۔ کچھ لوگ برا بھلا کہہ رہے تھے۔ کچھ باقاعدہ گالی دے رہے تھے ۔ ساری باتوں کا خلاصہ یہ تھا کہ تم بزدل ہو، تم پست، ہمت ہو۔ تم نے کیوں خنزیر کو غائب کیا۔ ہمارے پاس موجود ہوتا تو آج ہم انھیں بتا دیتے ۔
میں نے کہا کہ یہ بزدلی اور بہادری کا وہ معیار ہے جو مسلمانوں کی قومی شریعت میں پایا خدا کی شریعت کا معیار اس سے مختلف ہے۔ خدا کی شریعت کا معیار حدیث میں اس طرح بتایا گیا ہے :
عن ابی ہریرة ، قال رسول الله صلى الله حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم : ليس الشديد بالصرعة - إنما علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاقتور وہ نہیں ہے جو کشتی میں الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب کسی کو پچھاڑ دے۔ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت (متفق عليه) اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔
مذکورہ حدیث بہادری کا یہ معیار بتاتی ہے کہ آدمی غصہ دلانے کے با وجود غصہ نہ ہو۔ انگیزی کے با وجود وہ اشتعال میں نہ آئے ۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے نزدیک بہادری یہ ہے کہ کوئی شخص اگر غصہ دلانے والا فعل کرے تو وہ بھڑک کر اس سے لڑنا شروع کر دیں۔ واقعات کو قومی وقار کا مسئلہ بنا لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ فوراً فریقِ مخالف سے لڑ جاتے ہیں۔ وہ اس کو شرعی نگاہ سے دیکھیں تو وہ وہی کریں جو مذکورہ حاجی صاحب نے ایسے موقع پر کیا۔