Al-Risala · April 1989

١۔ هل تفضل باعطاء تعريفت موجزاً عن حياتك

Al-Risala, April 1989, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

كم هي المؤلفات التي صدرت لكم وهل تتفضلون كتاباً منها هل لكم من تعليق على الصحوة الاسلامية القائمة اليوم ماذا تتتوقعون لمستقبل المسلمين في الهند بالنسبة لجارتكم الباكستان متى توقعون سيفوز في الانتخاب المقبلة آخری سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرے اندازے کے مطابق پاکستان کے آنے والے الیکشن میں بھٹو پارٹی کامیاب ہوگی اور وہی حکومت بنائے گی ۔ یہ بات میں نے یکم نومبر ۱۹۸۸ء کو کہی تھی ، جب کہ پاکستان کا الیکشن ۱۴ نومبر کو ہوا۔

یمن کی وزارت اوقاف کی طرف سے ان کی مطبوعات بطور ہدیہ دی گئیں۔ ان میں سے ایک کتاب (القانون المدنی و المعاملات الشرعیة) تھی جس کو علماء کی ایک کمیٹی نے مرتب کیا ہے۔ ساڑھے سات سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں معاملات سے متعلق شرعی قوانین کو دفعہ وار مرتب کیا گیا ہے ۔ اس میں تیرہ سو سے زیادہ دفعات ہیں۔ کتاب اصولی قوانین (القواعد الاصولیة) سے شروع ہوتی ہے ، اور اموال اور جائداد کے غصب سے متعلق شرعی احکام پر ختم ہوتی ہے۔ میں کہا گیا ہے کہ شریعت کے مطابق غصب حرام ہے اور ظلم ہے (ان الغصب حرام وظلم) اس میں یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ جس شخص نے ایک بالشت کے برابر زمین غصب کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق اس کی گردن میں پہنائے گا (من غصب شبراً طوقته يوم القيامة الى سبع ارضين)

عبدالكريم بن عبداللہ العرشی (نائب رئیس جمہوریہ) نے اپنے دیباچہ میں لکھا ہے کہ یہ قانون بلاشبہ بہترین چیز ہے جو عمومی طور پر ساری انسانیت کے لیے اور خصوصی طور اسلامی امت کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے (ان هذا القانون لخير عمل يقدم للبشرية عامة وللامة الاسلامية خاصة) یہ کتاب شرعی احکام کی قانونی ترتیب (تقنين احکام الشريعة الاسلامية) بھی ایک کوشش ہے جس کی موجودہ زمانہ میں سخت ضرورت ہے۔

یہاں ایک عربی کتاب نظر سے گزری۔ اس کا نام تھا ــــ قرآن کی تلاوت پر اجرت لینے پر حجت اور برہان:

اقامة الحجة والبرهان على جواز أخذ الاجرة على تلاوة القرآن اس کتاب کے مولف یمن کے ایک عالم محمد بن اسماعیل الامیر (۱۱۸۲ - ۱۱۱۰ھ) ہیں۔ کے زمانہ میں اس طرح کی بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں چھوٹے چھوٹے فقہی مسائل پر حجت و برہان قائم کیا گیا۔ مگر اقوام عالم پر حجت و برہان قائم کرنے کے لیے کتابیں نہیں لکھی گئیں ۔ نے کوئی کتاب لکھی بھی تو وہ مناظرہ کے انداز میں، اور مناظرہ اقامت حجت نہیں ۔ لندن سے آنے والے ایک صاحب نے کہا کہ یورپ میں اسلام کے خلاف سخت تعصب پایا جاتا ہے۔ مثلاً کئی تعلیمی اداروں سے یہ رپورٹ ملی ہے کہ ایک مسلمان طالب علم نے وہاں درخواست انٹرویو کے وقت اس سے سوال کیا گیا کہ کیا تم بنیاد پرست (Fundamentalist) ہو۔ نے کہا کہ ہاں تو اس کی درخواست رد کر دی جاتی ہے۔

میرے نزدیک یہ اغیار کا تعصب نہیں بلکہ خود اپنی حماقت کا نتیجہ ہے۔ وہ مسلم نوجوان جن کو '' بنیاد پرست '' کہا جاتا ہے ، انھوں نے اپنی یہ تصویر بنائی ہے کہ وہ جہاں موقع پاتے ہیں نظام کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ تخریب کاری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ حالت میں جو لوگ ڈسپلن کو اہمیت دیتے ہوں، وہ ان کے ساتھ وہی کریں گے جو یورپ کی بعض تعلیم گاہوں میں پیش آیا ۔ جس شخص کے متعلق تخریب کاری کا تصور ہو ، وہ خود ہمارے دینی اداروں میں قبول نہیں کیا جاتا۔ پھر ایسا آدمی یورپ کے غیر دینی اداروں میں کیوں قبول کیا جائے گا ۔ عبد المنعم الخطاب ایک مصری عالم ہیں۔ وہ تقریباً ۲۴ سال سے امریکہ میں رہتے ہیں۔ وہ ٹولیڈو کے اسلامک سینٹر میں مدیر ( ڈائرکٹر) ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لوگ امریکہ میں اسلام کی تبلیغ کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک پہلی اہم ضرورت مسلمانوں کو مسلمان بنانا ہے نہ کہ امریکیوں کو مسلمان بنانا ( مهمة الاولى عندى هي اسلام المسلمين لا اسلام الامريكيين) میں نے کہا کہ اسلام الامريكيين کے بغیر اسلام المسلمين ممکن نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ کردار محض وعظ و نصیحت سے پیدا نہیں ہوتا۔ بلکہ اعلیٰ مقصد سے پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ مسلمان بے مقصد ہیں،

اسی لیے وہ بے کردار ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کو اخلاقی اعتبار سے اٹھانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ان کے اندر مقصدی شعور پیدا ا جائے ۔ جب ان کے اندر مقصدی شعور آئے گا تو وہ مقصد کے لیے بھی متحرک ہوں گے اور یہی چیز ان کے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے کا سبب بھی بن جائے گی ۔ دعوت ہی بلاشبہ سب سے بڑا اسلامی مقصد ہے۔

سفر کے دوران ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ وہ عربی کی دونوں میں سے کوئی زبان نہیں جانتے تھے ۔ ہم کچھ دیر تک ساتھ رہے مگر قریب ہونے کے باوجود ان سے "ربط" قائم گویا وہی کیفیت تھی کہ :

Printed page