زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم
Al-Risala, April 1989, pp. 35–37
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت خیال ہوا کہ نطق اور زبان خدا کی کیسی عجیب نعمتیں ہیں ۔ اگر آدمی کے اندر بولنے کی صلاحیت نہ ہو، یا وہ دوسرے لوگوں کی زبان نہ جانتا ہو، تو انسانی ہجوم کے اندر بھی وہ اپنے آپ کو اکیلا محسوس کریگا ۔ انسان کی تمام سرگرمیاں اور اس کی تمام ترقیاں نہایت گہرے طور پر نطق کی صلاحیت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی کے ذریعہ ایک انسان دوسرے انسان سے ربط قائم اسی کے ذریعہ مختلف لوگوں کی تحقیقات دوسروں تک پہنچتی ہیں اور انسانیت کی مجموعی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی کے ذریعہ انسان اپنے دل کی بات سے دوسروں کو باخبر کرتا ہے۔ اس عجیب و غریب نعمت کا احساس اس وقت نہیں ہوتا جب کہ آدمی اپنے ہم زبان لوگوں کے درمیان رہ رہا ہو۔ اس نعمت کا صحیح احساس اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو ایسے لوگوں کے درمیان پائے جہاں نہ دوسرے لوگ اس کی زبان جانیں اور نہ وہ دوسرے لوگوں کی زبان جانتا ہو۔ ایسے ماحول ہی میں صحیح طور پر احساس ہوتا ہے کہ نطق اور زبان کیسی عجیب خدا کی نعمتیں ہیں۔
ایک صاحب اپنے ملک کے سیاسی حالات کی بنا پر اپنے وطن سے باہر یورپ کے ایک ملک میں رہتے ہیں۔ انھوں نے عالمی پناہ گزینوں کے مسئلہ پر تقریر کی اور کہا کہ ان پناہ گزینوں میں بہت بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ ان کے بارہ میں مسلم ملکوں کو ایک مستقل ادارہ قائم کرنا چاہیے جو ان کی مدد کر سکے ۔ ان کی تقریر کی رپورٹ تیار ہو کر آئی تو عربی یا انگریزی رپورٹ میں درج تھا : وہـتـــد
ہم لاجئون فی ھذا العالم۔ اسی طرح انگریزی رپورٹ میں یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : This matter was emphasized as one third of the Muslims are refugees in this world. اس کا مطلب یہ تھا کہ دنیا بھر میں جو مسلمان ہیں ان کا ایک تہائی حصہ پناہ گزین کے طور پر زندگی گزار رہا ہے ۔ یعنی دنیا کے ایک ارب مسلمانوں میں سے تقریباً ۳۳ کرور۔ ظاہر ہے کہ یہ بات بالکل مذکورہ مقرر نے دراصل یہ کہا تھا کہ عالمی پناہ گزینوں کی جو تعداد ہے ان میں تقریباً ایک تہائی مسلمان پناہ گزین ہیں۔ گویا کہنے والے نے پناہ گزینوں میں تہائی کی بات کہی تھی، مگر رپورٹ مرتب کرنے والوں نے اس کو مسلمانوں کی مجموعی تعداد کا تہائی کر دیا۔ یہ غلطی کی وہ قسم ہے جو موجودہ دنیا میں بہت زیادہ عام ہے۔ اس لیے کسی کے خلاف کوئی بات علم میں آئے تو تحقیق کے بغیر ہرگز اس کو ماننا نہیں چاہیے ۔
یہاں جناب محمد شیر چودھری (پیدائش ۱۹۳۸) سے ملاقات ہوئی۔ وہ پاکستان سے ہجرت کرکے ساؤتھ افریقہ گئے اور اب وہ وہیں رہتے ہیں ۔ انھوں نے اپنا ایک قصہ بتایا ۔ ڈربن کے اورینٹ ہال میں ان کی تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد حاضرین میں سے ایک شخص نے سوال کیا : کیا آپ اس پر مطمئن ہیں کہ واقعی صدر ضیا الحق پاکستان میں اسلام لانا چاہتے ہیں۔ کے جواب میں محمد شیر چودھری نے کہا : " میں سمجھتا ہوں صدر ضیاء تو اسلام لانا چاہتے ہیں مگر علماء شاید اسلام نہیں لانا چاہتے "
میں نے کہا کہ ایک لفظی فرق کے ساتھ میں اس جواب سے متفق ہوں ۔ آپ نے کہا کہ علماء اسلام کو لانا نہیں چاہتے ، میں کہوں گا کہ علماء اسلام کو لانے نہیں دیتے ۔ کسی معاشرہ میں اسلام کو لانا ایک تدریجی عمل ہے ۔ اس کے لیے ناقابل برداشت کو برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ جو چیز آج ممکن ہے اس سے آغاز کیا جاتا ہے ، اور جو چیز آج ممکن نہیں ہے ، اس سے اعراض کرنا پڑتا ہے۔ مگر علماء صبر اور اعراض اور تدریج کو نہیں جانتے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوراً اسلام کا غلبہ قائم ہوجائے۔ علماء کی یہی تعجیل پاکستان میں اسلام کی تاخیر کا سبب بن رہی رسالہ اپریل ۱۹۸۹
پاکستان کے علماءء عملی طور پر صرف اس پوزیشن میں تھے کہ وہ پاکستان کے لوگوں میں اسلامی شعور کو بیدار کریں۔ مگر پاکستان کے بنتے ہی وہ اسلامی حکومت قائم کرو کا نعرہ لے کر کھڑے ہوگئے۔ وہ ہر حکمران کو مخالفت اسلام قرار دے کر اس کو اقتدار سے ہٹانے کی مہم چلاتے رہے۔ علما کی یہی وہ نادانی ہے جس نے ۴۰ سال بیتنے کے باوجود پاکستان میں اسلام کو آنے نہیں دیا۔ اس پر جناب محمد چودھری نے اپنا ایک اور لطیفہ بیان کیا۔ انھوں نے ایک بار کسی سے کہا کہ وہ ہر شخص کا مقابلہ کر سکتے ہیں، مگر وہ مولوی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سننے والے نے پوچھا کہ کیوں۔ نے جواب دیا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولوی فوراً ہی چھلانگ لگا کر اپنی گاڑی پانچویں گیر میں چلا دے گا :