Al-Risala · April 1989

He must at once jump into the 5th gear.

Al-Risala, April 1989, pp. 37–23

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب جو یورپ سے آئے تھے، مگر اصلاً وہ افغانی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت ۱۵ ملین افغانی باشندے افغانستان میں ہیں، ۳ ملین افغانی پاکستان میں ہیں اور ۲ ملین ایران میں۔ پاکستان کے ایک صاحب نے بتایا کہ افغانستان سے جو لوگ پاکستان گیے ، ان کی بڑی تعداد اب افغانستان جانے میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ کیوں کہ انھوں نے پاکستان میں کافی تجارتیں پھیلالی ہیں جن کی امید وہ موجودہ افغانستان میں نہیں رکھتے۔ اسی طرح بہت سے افغانی نوجوانوں نے اپنے ملک سے نکل کر تعلیم حاصل کی۔ اب وہ یورپ اور امریکہ میں اچھی ملازمتوں میں ہیں، وہ بھی اس میں کوئی دل چسپی نہیں رکھتے کہ افغانستان واپس جائیں جو مسلسل جنگوں کے نتیجہ میں برباد ہو چکا ہے۔ افریقہ کے ایک صاحب نے کانفرنس میں کہا کہ موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان اپنے سیاسی عقیدہ کی وجہ سے اپنے مذہبی حقوق سے روکے جا رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ایرانیوں کی مثال دی کہ سعودی عرب نے ان کو حج سے روک دیا ہے۔ چنانچہ اس سال ایرانی حاجی مکہ کویت کے ایک بزرگ نے فوری طور پر اس کی تردید کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بیان واقعہ کے مطابق نہیں ہے۔ سعودی حکومت نے ہرگز ایسا نہیں کیا کہ وہ ایرانیوں کو حج سے روکے۔ بدستور اجازت حاصل تھی۔ یہ خود ایرانی تھے جنھوں نے احتجاج کے نام پر اس سال حج کا سفر

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک واقعہ صحیح ہونے کے باوجود اس کی توجیہہ حد درجہ غلط ہوسکتی ہے۔ مذکورہ مثال میں ایک واقعہ جس کے ذمہ دار حقیقتہ ایرانی تھے، اس کو ایک شخص نے غلط طور پر سعودی عرب کی طرف منسوب کر دیا۔ اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ کسی کے خلاف کوئی بیان دینے سے پہلے اس کے بارہ میں مکمل تحقیق کرو۔

۴ نومبر کو مجھے فجر سے پہلے واپس روانہ ہونا تھا تاکہ میں وقت پر ہوائی اڈہ پہنچ کر ساڑھے پانچ بجے کے جہاز کو پکڑ سکوں۔ ہوٹل کے استقبالیہ میں شام کو میں نے لکھوا دیا کہ صبح ۳ بجے مجھے جگا دیا رات کو میں سو رہا تھا کہ ٹھیک وقت پر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ یہ ہوٹل والوں کی طرف سے ویک اپ کال (Wake-up call) تھی ۔ گویا کہ آواز دینے والا کہہ رہا تھا کہ اٹھ جاؤ۔ اب سونے کا وقت ختم ہو گیا ۔ مجھے محسوس ہوا کہ صور اسرافیل بھی اسی قسم کا ایک ویک اپ کال ہوگا۔ لوگ سورہے ہیں۔ کسی کو آنے والے دن کا احساس نہیں۔ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جب کہ اسرافیل کا صور گونج اٹھے۔ کیسی عجیب ہوگی یہ خدائی پکار، اور کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو اس خدائی پکار سے غافل ہو کر بے خبر سو رہے ہیں۔

میں سفر میں ہمیشہ مختصر سامان رکھتا ہوں۔ عام طور پر صرف ایک چھوٹا ہینڈ بیگ میرے ساتھ ہوتا ہے۔ صنعاءء سے ۴ نومبر کی صبح کو ہوٹل سے نکلا تو ہمارے یمنی گائیڈ نے پوچھا آپ کا میں نے اپنے ہاتھ کا بیگ دکھاتے ہوئے کہا کہ بس یہی میرا سامان ہے ، اس کے سوا اور میرا کوئی گیج نہیں۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا: افلح من خف متاعه (وہ شخص کامیاب رہا جس کا سامان کم ہو )

یہ گویا اسلامی تہذیب کا کلمہ تھا جو ان کی زبان سے نکلا۔ جزیرہ عرب پر اسلام کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ عربوں کی زبان اور ان کے انداز میں ابھی تک اس کے نشانات واضح طور پر نظر حقیقت یہ ہے کہ عربوں کا باہمی اختلاف اگر کسی طرح ختم ہو جائے تو اس کے بعد ان کے پاس جو کچھ بچے گا وہ وہی اسلامی تہذیب ہوگی جو چودہ سو سال پہلے پیغمبر عربی کے ذریعہ انھیں

صنعا سے کراچی کا سفر پاکستان ایرلائنس کی فلائٹ ۷۴۶ کے ذریعہ ہوا۔

پاکستانی اخبارات پڑھنے کو ملے۔ روز نامہ حریت (۳ نومبر ۱۹۸۸) کی چند سر خیاں یہ تھیں : کوئی جماعت بھی جیتے، حکومت انتخابی نتائج کو تسلیم کرے گی۔ ۱۶ نومبر عوام دشمن قوتوں کی شکست کا دن ہے ۔ بیگم نصرت بھٹو پاکستانی عوام اسلام کے سوا کسی اور ازم کو تسلیم نہیں کرتے۔ حکمرانوں کے لیے انتخابات کے بعد انتقال اقتدار کے سوا کوئی راہ نہیں۔ مارشل اصغر خاں اسلامی جمہوری اتحاد برسر اقتدار آکر ظالموں کے ہاتھ کاٹ دے گا۔ انگریزی روزنامہ مارننگ نیوز (۳ نومبر ۱۹۸۸) کے صفحہ اول کی ایک سرخی یہ تھی : Islamic forces will emerge triumphant (Fazle Haq.)

روزنامہ جنگ (۳ نومبر ۱۹۸۸) بھٹو پارٹی کے تذکرے سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں یا تو بھٹو پارٹی کے لیڈروں کی تقریریں تھیں ۔ یا مخالف پارٹی کی طرف سے بھٹو پارٹی کی مذمت۔ ایسا محسوس ہوا جیسے تمام دوسری جماعتوں کے اوپر بھٹو پارٹی کا بوس بن کر سوار ہے۔ اس کے مقابلہ میں وہ اپنے کو دفاعی پوزیشن میں محسوس کر رہے ہیں۔ اخبار جنگ میں جماعت اسلامی کے پروفیسر عبد الغفور کا ایک احتجاجی خط تھا جس میں انھوں نے اخبار جنگ سے شکایت کی تھی کہ " پاکستان کی انتخابی مہم میں جنگ کے نمائندے متعصبانہ اور جانبدارانہ انداز میں رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ وہ اسلامی اتحاد کے اجتماعات گھٹا کر شائع کرتے ہیں یا بالکل شائع

صنعاء سے کراچی تک بنگلہ دیش کے ایک صاحب کا ساتھ رہا۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں بنگلہ دیش کے کئی ہزار آدمی مختلف حیثیتوں سے کام کر رہے ہیں۔ لوگ ہیں جنھوں نے ۱۹۷۱ میں پاکستان کے خلاف " آزاد بنگلہ دیش" کا جھنڈا اٹھایا تھا، مگر آزادی کے بعد جب انھوں نے دیکھا کہ بنگلہ دیش میں کام کے مواقع نہیں ہیں تو وہ پاکستان آکر یہاں کام کرنے لگے۔ اسی طرح بہت سے بنگلہ دیشی مسلمان ہیں جو یورپ اور امریکہ جا کر اپنے لیے کام تلاش کر رہے ہیں۔ "سونار بنگلہ" جب نعرہ تھا تو ہر آدمی کو سونار بنگلہ سے دل چسپی تھی ۔ مگر سونار بنگلہ جب واقعہ بن گیا تو اب کسی کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں۔

میں نے سوچا کہ 1971ء میں اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کی تحریک ختم کر دو اور پاکستان کی "ماحتی" میں رہ کر اپنی تعمیر و ترقی کا کام کرو تو سارے بنگلہ دیش میں کوئی ایسے شخص کا ساتھ نہ دیتا۔ اس کے برعکس شیخ مجیب الرحمن کی آزاد بنگلہ دیش کی تحریک کا ساتھ دینے کے لیے تمام بنگالی مسلمان امڈ پڑے۔ حالاں کہ بالآخر اس کا جو انجام ہونا تھا وہ صرف یہ کہ شیخ مجیب الرحمن کو خود بنگالی مسلمان مار ڈالیں اور بنگلہ دیش دنیا کا سب سے زیادہ پست اور کمزور ملک بن کر رہ جائے۔

جذباتی رہنمائی اور حقیقت پسندانہ رہنمائی میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ مگر مسلمان ہر ملک میں، ایک یا دوسری صورت میں جذباتی رہنماؤں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ بربادی اور ہلاکت کی صورت میں بار بار اس کے نتیجہ کا سامنے آنا بھی انھیں جذباتی رہنماؤں کے پیچھے دوڑنے سے روکنے والا نہ بن سکا۔

4 نومبر کی دوپہر کو کراچی پہنچا۔ ظہر کی نماز یہاں ایرپورٹ کی مسجد میں پڑھی۔ کے ساتھ "مسجد" گویا دنیا کے ساتھ دین کو جوڑنے کی کوشش ہے۔ اسلام کے مطابق دینداری یہ نہیں ہے کہ آدمی دنیا کو چھوڑ کر روحانی جزیرہ میں چلا جائے۔ صحیح دینداری یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے وہ دین دار بنا رہے۔ اس کا جسم بظاہر دنیا میں دکھائی دے مگر اس کا دل خدا کی یاد میں

کراچی سے دہلی کے لیے میرے علاوہ تقریباً ایک درجن مسافر اور تھے۔ ان کے عورتیں اور بچے دہلی کے مسافروں کو انتظار گاہ کے ایک حصہ میں بٹھا دیا گیا تھا۔ یہاں ان ہندوستانیوں کے بچے مستقل طور پر شور و غل کرنے میں مشغول تھے اور اسی کے ساتھ ان کی مائیں بھی۔ مغربی دنیا میں ہندوستانیوں کو بہت حقیر سمجھا جاتا ہے۔ اور مجھے اس سے پورا اتفاق ہے۔ ہندوستانی انسان اخلاقی اعتبار سے اتنے پست ہو چکے ہیں کہ مقابلہ اگر دیکھا جائے تو وہ مغربی انسان کے مقابلہ میں غیر انسان نظر آئیں گے۔ باہر کی دنیا میں چھوٹے چھوٹے ملک بھی ہندوستان سے بہتر نظر آتے ہیں۔ ہندوستان کا انسان میرے تجربہ میں، با اصول زندگی سے واقف نہیں۔ وہ صرف ایک چیز جانتا ہے، اور وہ اس کی اغراض اور خواہشیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان انسانی آبادی سے زیادہ ایک جنگل کے مشابہ ہے۔

اور جنگل میں محفوظ طور پر زندہ رہنے کی صورت صبر و اعراض کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۴ نومبر کو کراچی سے دہلی آتے ہوئے ہوائی جہاز میں میرے پاس کی سیٹ خالی تھی۔ پرواز اچانک ایک صاحب آئے اور اس پر بیٹھ گئے۔ دیکھا تو وہ جناب فطین اشرف صدیقی (پیدائش ۱۹۶۲) تھے وہ سیتا مڑھی (بہار) سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل مسقط (سلطنتِ عمان) میں بہ سلسلہ روزگار مقیم ہیں۔ گفتگو کے دوران پاکستان کے آئندہ ہونے والے الیکشن (۱۶ نومبر ۱۹۸۸) کا ذکر ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں بڑی تعداد میں پاکستان کے لوگ آباد ہیں۔ ان کا عام خیال یہ ہے کہ اس الیکشن میں "اسلامی اتحاد" کے لوگ جیتیں گے اور وہی آئندہ حکومت بنائیں گے۔ خاص طور پر "اسلامی جماعت" کے لوگ تو اس طرح بات کرتے ہیں گویا پاکستان کا سیاسی مستقبل انھیں کے ہاتھ میں ہے۔

میں نے کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ اگر کھلا الیکشن ہوتا ہے تو یقینی ہے کہ بے نظیر بھٹو کی پارٹی جیتے گی اور وہی حکومت بنائے گی۔ یہ بات الیکشن سے دو ہفتہ پہلے ہو رہی تھی جب کہ دنیا بھر کے "اسلام پسند" پاکستان میں "اسلامی جماعت" کی کامیابی کا بالکل یقین کیے ہوئے تھے۔ چنانچہ فطین اشرف صدیقی صاحب کو میرے اس بیان پر بہت تعجب ہوا۔

میں نے کہا کہ پاکستان کا یہ الیکشن ایک کسوٹی ہے۔ ایک رائے پاکستان کے اور دنیا بھر کے "اسلام پسندوں" کی ہے اور ایک رائے میری ہے۔ اس معاملہ میں اگر "اسلام پسند" لوگوں کی رائے درست نکلی تو وہ لوگ با بصیرت ہیں اور میں بے بصیرت ۔ اس کے برعکس اگر میری رائے درست ثابت ہو تو آپ کو ماننا ہوگا کہ میں بابصیرت ہوں اور وہ لوگ بے بصیرت ۔ فطین اشرف صاحب یہ سن کر ناقابل فہم تعجب کے ساتھ خاموش ہو گئے۔

آج ہر شخص جانتا ہے کہ ۱۶ نومبر کے پاکستانی الیکشن میں بھٹو پارٹی نے، ووٹروں کے لیے شناختی کارڈ کی شرط جیسے بعض ناموافق حالات کے باوجود سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ یہاں تک کہ یکم دسمبر ۱۹۸۸ کو بے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم پاکستان کی کرسی پر بیٹھ چکی تھیں۔ طرف پاکستان کی "اسلامی جماعت" کا یہ حال ہوا کہ اس کے تمام امیدوار ہار گئے۔ مرکزی اسمبلی میں اس کو کوئی سیٹ نہ مل سکی۔

موجودہ زمانہ کے تمام مسلم رہنماؤں کا یہ حال ہے کہ وہ حقائق کے بجائے امانی میں جیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معاملات میں صحیح رائے قائم نہیں کر پاتے۔ پاکستان کے" اسلامی مفکرین" ۴۰ سال تک یہ کہتے رہے کہ پاکستان کے سارے مسلمان اسلامی نظام چاہتے ہیں۔ سیاسی حکمراں ہیں جو اس کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو اگر آزادانہ اظہار رائے کا موقع ملے تو وہ یقینی طور پر اسلامی نظام کے حق میں رائے دیں گے۔ مگر پہلے ہی آزادانہ انتخاب نے اس مفروضہ کو غلط ثابت کر دیا۔

اسی بے بصیرتی کی بنا پر ایسا ہوا کہ پاکستان کے قیام (۱۹۴۷) کے بعد سے ۴۰ سال تک ان کی ساری کوشش حکمرانوں کو سیاسی اقتدار سے ہٹانے یا انہیں پھانسی دینے پر مرکوز رہی۔ کو ہٹانے کے بعد جب عوامی الیکشن ہوا تو معلوم ہوا کہ اسلامی نظام کی راہ میں اصل رکاوٹ حکمران نہیں بلکہ خود پاکستانی عوام تھے۔ اگر یہ مسلم رہنما صحیح بصیرت کے حامل ہوتے تو ۱۹۴۷ کے بعد وہ اپنی ساری کوشش عوام کا ذہن بنانے میں لگا دیتے۔ مگر اپنی غلط تشخیص کی بنا پر انھوں نے اپنی ساری کوشش حکمراں افراد کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں لگا دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وقت اور طاقت کا بے شمار سرمایہ صرف کرنے کے باوجود کوئی مثبت فائدہ ان کے حصہ میں نہ آسکا۔ پاکستان ایئرلائنز پر آج (۴ نومبر ۱۹۸۸) کے پاکستانی اخبارات تھے ہر ایک میں صفحہ اول کی پہلی سرخی یہ تھی : "مالدیپ پر ہندوستانی فوج کا حملہ" اس کے ساتھ ہر اخبار میں ، ایک یا دوسرے لفظوں میں یہ بات تھی کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور پاکستان میں اسلام کا نظام ہی نافذ ہوگا۔ میں نے سوچا کہ یہ اخبارات اگر یہ لکھتے تو زیادہ صحیح ہوتا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قومی دھوم کے لیے بنا ہے اور پاکستان میں اسلام کے نام پر قومی دھوم جاری رہے گی۔ اور اس کا ایک ثبوت مذکورہ بالا خبر ہے۔ اگر پاکستان کے صحافیوں میں اسلام کا مزاج ہوتا تو وہ اس خبر کو اس کی صحیح شکل میں مگر اس کو انھوں نے اپنے مخصوص قومی سانچہ میں ڈھال کر شائع کیا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ ایک مالدیپی تاجر (عبداللہ لطفی) نے کولمبو کے پاس ایک پولٹری فارم میں اپنا مرکز بنایا۔ وہاں اس نے لنکا کے دہشت گرد نوجوانوں کو بھرتی کر کے ایک دستہ تیار کیا۔ ان کو کشتیوں کے ذریعہ اس نے مالدیپ میں اتارا اور مالدیپ کے صدر مامون عبدالقیوم کی رہائش گاہ

پر حملہ کر دیا۔ اس وقت مامون عبد القيوم نے پڑوسی ہندوستان سے مدد کی درخواست کی۔ بذریعہ ہوائی جہاز فوج بھیجی گئی جس نے بغاوتی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ واضح ہو کہ مالدیپ کے پاس اپنی کوئی فوج نہیں ہے ۔

۴ نومبر کو میں پیشگی اطلاع کے بغیر دہلی پہنچا تھا۔ اس لیے یہ معلوم تھا کہ ہمارے دفتر کا کوئی آدمی ایر پورٹ پر موجود نہ ہو گا ۔ میں چاہتا تھا کہ ٹیلی فون کے ذریعہ دفتر میں اپنی آمد کی اطلاع دیدوں، تاکہ وہاں سے کوئی شخص آجائے ۔ مگر ہوائی جہاز سے اترنے کے بعد آدمی کو امیگریشن کی کھڑکی پر لائن لگانی پڑتی ہے اور یہاں کافی وقت لگ جاتا ہے ۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پبلک ٹیلی فون باہر کے حصہ میں میں نے چاہا کہ امیگریشن کی لائن میں لگنے سے پہلے میں ٹیلی فون کر دوں تاکہ جب میں یہاں سے فارغ ہو کر باہر نکلوں، اس وقت تک دفتر سے کوئی شخص آچکا ہو۔

اندر صرف پولیس کا ٹیلی فون تھا۔ میں پولیس کے دفتر میں گیا اور اپنی ضرورت بیان کی ۔ کا آدمی یہ کہہ سکتا تھا کہ یہ دفتر کا ٹیلی فون ہے ۔ آپ پبلک بوتھ پر جا کر ٹیلی فون کریں۔ مگر اس نے میری ضرورت محسوس کی اور فوراً ٹیلی فون کو میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ کر لیجیے: پہلے زیرو گھمایئے، اس کے بعد اپنا نمبر ڈائل کیجیے، اس نے کہا۔ چنانچہ میں نے پولیس کے دفتر سے ٹیلی فون جب میں اندر کی کارروائیوں سے فارغ ہو کر باہر نکلا، تو وہاں دفتر کا آدمی بھی آچکا تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر آپ اپنی ضرورت کو معقول طور پر پیش کر سکیں تو فریق ثانی خود اپنے ضمیر کے تحت اس کو ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے، خواہ وہ پولیس کا آدمی ہو یا غیر پولیس کا آدمی۔

Printed page