خفیہ تصویر کشی
Al-Risala, May 1989, pp. 7–9
By Maulana Wahiduddin Khan
مقابل کے صفحہ پر دو تصویریں درج ہیں۔ یہ انگلینڈ کی ایک سڑک سے متعلق ہیں۔ ان کا عنوان ہے: "کیمرہ ٹریفک لائٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑتا ہے"۔ اوپر والی تصویر میں ایک گاڑی عین اس نازک لمحہ (Fateful moment) میں پکڑی گئی جب کہ وہ لال بتی والے مقام پر ٹریفک قاعدہ کی خلاف ورزی کر رہی تھی۔ یہ گاڑی تیزی سے دوڑتی ہوئی ایک خاص چو راہہ اس کے پہنچتے ہی وہاں کی لال بتی جل اٹھی۔ اب اس گاڑی کو وہاں رک جانا چاہئے تھا۔ مگر لال بتی کے باوجود وہ رکے بغیر آگے بڑھ گئی۔
ڈرائیور کو معلوم نہ تھا کہ مخفی نظام کے تحت اس کا فوٹو لیا جا رہا ہے۔ چنانچہ عین اس وقت جب کہ اس نے لال بتی کو پار کیا ، کیمرہ نے فوراً اس کی تصویر لے لی۔ یہ واقعہ لال بتی جلنے کے صرف ایک سیکنڈ بعد پیش آیا۔
نیچے کی دوسری تصویر بھی اسی مذکورہ سڑک سے تعلق رکھتی ہے۔ یہاں بھی ایک گاڑی کے ڈرائیور نے یہ کیا کہ لال بتی جل جانے کے باوجود دہر کے بغیر آگے بڑھ گیا ۔ دو بارہ کیمرہ نے فوراً اس کی تصویر لے لی۔ یہ دوسرا واقعہ لال بتی جلنے کے دوسیکنڈ بعد پیش آیا۔ پہلی تصویر میں کیمرہ نے ایک سیکنڈ کی خلاف ورزی کو پکڑا ، اور دوسری تصویر میں دو سیکنڈ کی خلاف ورزی کو۔ یہ تصویر لندن کے اخبار ٹائمس (۲۸ جولائی ۱۹۸۸) سے لی گئی ہے۔ اس اخبار میں یہ تصویر ایک خبر کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ کار چلانے والے دس اشخاص اس جرم میں پکڑے گئے اور ان پر جرمانہ کیا گیا کہ انھوں نے سڑک کی لال بتی جل جانے کے باوجود اپنی گاڑی نہیں روکی تھی ان گاڑیوں کو پکڑنے کی یہ کارروائی دور سے کنٹرول کئے جانے والے کیمروں کی شہادت پر عمل میں آئی۔ مذکورہ گاڑیاں سڑک پر تیزی سے گزرتی ہوئی دیکھنے والوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو چکی تھیں۔ مگر کیمرہ میں ان کی مکمل تصویر پوری طرح محفوظ تھی۔ ان تصویروں کے ذریعہ انھیں باآسانی شناخت کر لیا گیا۔ کیوں کہ ان کیمروں نے عین ہنگام کے موقع پر ان کی تصویریں لے لی تھیں۔
ان کاروں کے ڈرائیوروں نائٹنگھم شائر پولیس کی ایک خاص اسکیم کے تحت پکڑے گئے. اس اسکیم کے مطابق شہر کے دو مصروف چوراہوں پر مخصوص کیمرے نصب کر دئے گئے۔ کمپیوٹر سے جڑے ہوئے تھے اور ان کے زیر اثر کام کر رہے تھے۔
اس اسکیم کے تحت مذکورہ چوراہبہ پر سڑک کی سطح کے نیچے خاص طرح کے حساس تار رکھ دئے کوئی گاڑی جب اس تار کے اوپر سے گزرتی تو عین اسی وقت اس سے جڑے ہوئے کیمرے متحرک ہو جاتے ۔ وہ سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں فوراً مذکورہ گاڑی کا فوٹو لے لیتے. سڑک کے نیچے بچھے ہوئے ان تاروں کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ وہ مذکورہ کیمروں کو عین اس وقت متحرک کر دیتے تھے جب کہ سڑک کی بتی لال ہوگئی ہو۔ اب یہ کیمرے خود کار نظام کے تحت گزرنے والی گاڑی کا فوٹو لے لیتے ۔ مزید یہ کہ وہ ایسے زاویہ سے گاڑی کا فوٹو لیتے تھے کہ اس کا رجسٹریشن نمبر بھی پوری طرح فوٹو میں آجائے۔
ان کیمروں کی شہادت اتنی قطعی اور اتنی مسلم تھی کہ ماخوذ افراد کے لئے ان کو غلط ثابت کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ سٹی مجسٹریٹ نے انھیں کی شہادت کی بنیاد پر مس الیسن مارٹن پر ۱۰۰ پونڈ کا جرمانہ اس خاتون نے ایک ہی دن میں دو جگہ اپنی گاڑی لال بتی پر دوڑا دی تھی۔ دوسرے کئی ڈرائیوروں پر مختلف جرمانے لگائے گئے۔ یہ تمام عدالتی سزائیں انھیں کمپیوٹر کیمروں کی لی ہوئی تصویروں کی بنیاد پر دی گئیں جنھوں نے دو سیکنڈ اور ایک سیکنڈ تک کی خلاف ورزی کو نہایت صحت کے ساتھ ریکارڈ کر لیا تھا۔
اس طرح کے واقعات ، قرآن کے لفظوں میں ، آیات اللہ (خدا کی نشانیاں) ہیں ۔ " نشانی کے روپ میں حقیقت کا اظہار ہیں۔ یہ واقعات دنیوی تجربہ کے ذریعہ آخرت کے تجربہ کا تعارف کراتے ہیں۔ وہ انسانی سطح پر پیش آنے والے معاملہ کی صورت میں خدائی سطح پر پیش آنے والے معاملہ کو بتا رہے ہیں۔
مذکورہ واقعہ انسان کی خفیہ ریکارڈنگ کی مثال ہے۔ یہی خفیہ ریکارڈنگ زیادہ بڑے پیمانے پر خدا کی طرف سے ہو رہی ہے۔ انسان کی تمام گزرگاہوں پر خدا کے تار لگے ہیں اور اس کے ہر راستہ پر خدا کے کیمرے نصب ہیں۔ آدمی جیسے ہی مقررہ حد کو پار کرتا ہے ، خدا کا تصویر کشی کا
نظام فوراً متحرک ہو کر اس کو محفوظ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آخرت کی عدالت میں اسی ریکارڈ کی بنیاد پر ہر آدمی کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ انسان کا بنایا ہوا نظام ہے جو ایک سیکنڈ کے بقد ر خلاف ورزی کو بھی فوراً پکڑ لیتا ہے پھر جب انسان کے بنائے ہوئے نظام کا یہ حال ہے تو خدا کے بنائے نظام کی گرفت کتنی زیادہ ہوگی۔ انسانی نظام محدود ہے اور خدائی نظام لامحدود۔ اسی سے دونوں نظاموں کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ آدمی اگر اس سنگین حقیقت پر غور کرے تو اس کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں۔ کی بولتی ہوئی زبان بند ہو جائے۔ اس کا قلم اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑے۔ دنیا میں آدمی کسی سڑک پر صرف اس وقت تک اپنی گاڑی کو غلط چلاتا ہے جب تک اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس سڑک پر ٹریفک پولیس نے اس کی غلطی کو پکڑنے کا طاقت ور انتظام کر رکھا ہے۔ پولیس کے اس انتظام کا علم ہوتے ہی ہر آدمی چوکنیا ہو جاتا ہے اور اپنی گاڑی کو غلط دوڑانے سے رک جاتا ہے۔
اسی طرح آدمی کو اگر اس بات کا پورا یقین ہو جائے کہ اس کے چاروں طرف خدا کی ’’پولیس‘‘ لگی ہوئی ہے جو ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہی ہے اور اس کی ہر چھوٹی یا بڑی کارروائی کا ریکارڈ تیار کرنے میں مشغول ہے تو اس کی ساری سرکشی ختم ہو جائے ۔ یہ احساس پیدا ہوتے ہی آدمی ایک محتاط انسان بن جائے گا۔ وہ اپنی زندگی کے ہر معاملہ میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار
انسان کا بگاڑ اس کا نام ہے کہ وہ اس سنگین حقیقت سے بے خبر ہو۔ اس کے مقابلہ میں انسان کی اصلاح یہ ہے کہ اس کو اس سنگین حقیقت کا زندہ احساس ہو جائے۔ حقیقت حج از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۱۱۳ ہدیہ ۲۵ روپیہ