Al-Risala · May 1989

تاریخی تفصیلات

Al-Risala, May 1989, pp. 17–22

By Maulana Wahiduddin Khan

طارق بن زیاد رمضان ۹۱ ھ میں اسپین کے ساحل پر اترے تو ان کے ساتھ سات ہزار کا لشکر ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان دس میل کی آبنائے کو، ان کے لشکر نے چارکشتیوں کے ذریعہ پار کیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک " مورخ اسلام " لکھتے ہیں: " اس سے اس زمانہ کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے "۔

موصوف نے قیاس کیا کہ پورا لشکر ایک ہی بار چار کشتیوں پر لاد کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں۔ اس زمانہ میں ایسی کشتی وجود میں نہیں آئی تھی جس پر دو ہزار فوجی اپنے تمام ساز وسامان کے ساتھ بیک وقت بیٹھ سکیں. اصل یہ ہے کہ ان لشکر یوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارق کو پار کیا تھا۔

ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحر روم کے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ باز نطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی۔ تاہم مراکش کے ساحل پر سبطہ اور اس کے مضافات کے علاقے اب بھی اسپینی گورنریلیان (کاؤنٹ جولین) کے قبضہ میں تھے۔ نے زبردست قلعہ بنایا تھا۔ موسیٰ بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انھوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ جولین سے صلح کر لیں اور اس ساحلی قلعہ کو اس کے قبضہ میں چھوڑ دیں۔ افریقہ سے باز نطینی سلطنت کے خاتمہ کے بعد جولین نے اپنے سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کر لئے۔ سبطہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا تھا۔ اندلس سے برابر کشتیوں کے ذریعہ اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی۔

یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر سے خود اپنے مفتوحہ براعظم میں صلح کرنے پر مجبور ہوئے تھے، انھوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرات کس طرح اس کا جواب زیر بحث مسئلہ کے تاریخی مطالعہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

۴۱۵ء میں قوط (Visigoths) قبائل اسپین میں گھس آئے اور پانچ سو سالہ رومی سلطنت کو ختم کر کے، وہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح مسیحی مذہب کو اختیار کر لیا جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام قبول کر لیا تھا۔

کا مقصد اس تبدیلی مذہب سے یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کرکے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کریں۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے باز نطيني اقتدار کو شام، مصر، فلسطین سے ختم کیا، طلیطلہ (طالیڈو) پر گا تھ کا آخری بادشاہ ویٹیکا (ویٹیشہ) حکمران تھا۔ ویٹیکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے ایک فوجی افسر ذریق (Radrick) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمران بن جائے۔

سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ ویٹیکا کا رشتہ دار تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں ذریق سے وابستہ کر دیں۔ مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کر دیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کر کے مسلمانوں کے قریب کر دیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔ اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امراء کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب و قواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی رزریق کے عہد میں جولین کی لڑکی فلورنڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی ۔ لڑکی جوان ہوئی تو ذریق اس پر فریفتہ ہو گیا اور جبری طور پر اس کی عصمت دری کی ۔ لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دے دی۔

جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک رزریق کی سلطنت کو دفن نہ کر لے، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولاًوہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کرکے اس کو سبطہ واپس اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکسا کر تسخیر اندلس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسٰی کو اندلس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندلس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ ۹۰ھ کا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔

اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے خط و کتابت کی۔ کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: "مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگر تم پر امید ہو جب بھی ابتداءً "تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو۔

موسیٰ نے رمضان ۹۱ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابو زرعہ تھی پہلی مہم کے طور پر پر

پا پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر گئے۔ یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کر کے دوبارہ واپس آگئے۔

اس کے بعد اگلے سال رمضان ۹۲ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار دس میل کی آبنائے کو پار کر کے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں جلا دیں۔ مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ زمانہ میں ، اور آج بھی ، فاتح کی داستانوں میں اس قسم کے افسانے عام رہے ہیں۔ ہمارے اس خیال کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ تاریخ اندلس کی قدیم کتابوں میں یہ واقعہ سرے سے مذکور نہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سمندر کو پار کر کے جب طارق بن زیاد اسپین کے ساحل پر اترے تو انھوں نے اپنے فوجیوں کو للکارا :

ايها الناس ! العدو امامكم والبحر وراءكم وليس لكم والله الا الجلد والصبر اے لوگو دشمن تمہارے سامنے ہے اور سمندر تمہارے پیچھے ہے ۔ تمہارے لئے خدا کی قسم اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ صبر کرو اور جم کر مقابلہ کرو۔

سپہ سالار کے یہ جوشیلے الفاظ سن کر لشکر کی چیخ اٹھے :

انا ورا١ك يـا طارق طارق ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔

تمام تاریخوں کے متفقہ بیان کے مطابق مخالف فوجوں سے مقابلہ ساحل پر اترتے ہی فوراً پیش نہیں آیا ۔ قیاس یہ ہے کہ یہ تقریر بعد کو اس وقت کی گئی ہے جب کہ عملاً مقابلہ پیش آیا ہے۔ اور فتح اندلس کے بعد جب تقریر کے الفاظ " سمندر تمہارے پیچھے ہے " لوگوں میں عام ہوئے تو قصہ گویوں نے اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا کہ یہ تقریر کشتیوں کو جلانے کے بعد کی گئی تھی۔ شاید ان کے نزدیک سمندر کے پیچھے ہونے کے لئے ضروری تھا کہ سمندر اور فوجوں کے درمیان سے کشتیوں کو ہٹایا جا چکا ہو ! وائرلیس کے دور سے ایک ہزار سال پہلے سمندر پار کے ملک میں اترنے والا ایک کا نڈر

اس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد یہی کشتیاں وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے وہ اپنے مرکز سے مربوط رہ سکتا ہے۔ طارق اور موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے درمیان پیغام رسانی کا دوسرا کوئی ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ یہ صرف قیاس نہیں ہے بلکہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ، ساحل اسپین پر اترنے اور مقابلہ پیش آنے کے درمیان تقریباً دو ماہ تک یہی کشتیاں جو دونوں کے درمیان باہمی ربط اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں۔

طارق جس مقام پر اترے اس کا نام قلعۃ الاسد (Lion’s rock) تھا۔ بعد کو وہ جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے مشہور ہوا۔ طارق اسپین کے جس ساحل پر اترے وہ اس وقت ایک غیر آباد علاقہ تھا۔ وہاں ایک دشوار گزار پہاڑی کو جائے پناہ قرار دے کر وہ لوگ اکٹھا ہو گئے، تاکہ حالات کو سمجھ کر آئندہ کا نقشہ بناسکیں ۔ اسپین کا بادشاہ رذریق ان دنوں بنبلونہ (Pamplona) کی ایک جنگ میں مشغول تھا، جہاں اس کے خلاف بغاوت ہو گئی تھی۔ اس کو جب طارق کے اسپین میں داخلہ کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ ایک لاکھ فوج جمع کی جائے تاکہ مداخلت کاروں کو باہر نکالا جاسکے۔ طارق کا جاسوسی نظام بھی کام کر رہا تھا۔ انھیں جب رذریق کی تیاریوں کی خبر ملی تو انھوں نے فورا اپنا ایک قاصد موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے یہاں روانہ کیا اور مزید کمک کی ادھر موسیٰ بھی خاموش نہ تھے۔ بلکہ مسلسل تیاریوں میں مشغول تھے۔ چنانچہ انھوں نے کشتیوں کے ذریعہ پانچ ہزار مزید سپاہی بھیج دیئے۔ اس طرح طارق کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی۔ طارق نے پیغام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعہ کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا۔ اور پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنھوں نے پانچ ہزار ہرار فوجوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد طارق اس قابل ہو گئے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ طارق اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی اور نہ مقابلہ کے وقت مزید کمک پہنچ سکتی۔ اس معرکہ میں جولین بھی پوری طرح طارق کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ رذریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپینی شہریوں کی ایک جماعت طارق کی خدمت میں حاضر کر دی۔ ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا اور فوجی اعتبار سے کمزور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں

کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال - ۸۸ (88-90ھ) تک اندلس میں سخت قحط پڑا تھا، اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔

مزید یہ کہ رذرریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی رذرریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شہرت اور ابہہ بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے تھے۔ انھوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا:

’’رذرریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہوگیا ہے، حالاں کہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو ہمارے یہاں کے کمینوں میں سے ہے۔ رہے مسلمان ، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ لئے مقابلہ کے وقت اس خبیث کو زرک دینے کے لئے ہم کو خود شکست کھا جانا چاہئے۔ رذرریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ شکست ہوئی اور رذرریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔

اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسیٰ بن نصیر نے، جو بعد کو ۱۸ ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مددگار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) نے لکھا ہے کہ اسپین پر مسلمانوں کا حملہ گاتھ کی دعوت پر ہوا تھا نہ کہ محض اپنی تحریک پر۔ ۷۰۹ء میں وٹیزا (Witiza) کی موت سے اسپین میں خانہ جنگی شروع اس جنگ میں رذرریق کے مقابلہ میں وٹیزا کے خاندان نے موسیٰ بن نصیر سے مدد چاہی۔ اس کے بعد طارق ۷۱۱ء میں آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے اسپین میں اترے اور رذرریق کو فیصلہ کن

اس کے بعد تعجب خیز طور پر اکثر اسپینیوں نے رضا کارانہ طور پر اس کی اطاعت قبول کرلی۔ ۲۰ ہزار کی ایک فوج کے ہاتھوں اس تیز رفتار فتح کا سبب غالباً یہ تھا کہ اس وقت اسپین کے لوگوں میں الـسـلامـی ۱۹۸۹ ۲۱

اتحاد نہ تھا۔ مزید یہ کہ مسلمانوں سے اسپین کے لوگوں کو بہت فائدے پہنچے۔ مثلاً نئے حکمرانوں نے ان کے اوپر سے ٹیکس کا بو جھ کم کر دیا۔ نچلے طبقہ کے لوگوں کو آزادی حاصل ہوگئی۔ یہود پر عیسائیوں کی طرف سے ہونے والے مظالم ختم ہو گئے اور انہیں سماج کے اندر برابری کا درجہ مل گیا۔ آٹھویں صدی عیسوی کے پہلے نصف حصہ میں مسلم اسپین کے اندر ایک نیا اور بالکل مختلف سماج قائم ہو گیا (414/ تاریخ انسانی عمل کا ریکارڈ ہے۔ تاریخ کا مطالعہ حقائق حیات کا مطالعہ ہے۔ لیکن تاریخ کو اگر افسانہ بنا دیا جائے تو وہ ایک ایسی ذہنی کار خانہ بن جاتی ہے جس میں صرف خوش فہمی کی مہلک گولیاں تیار ہوتی ہوں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں طارق بن زیاد کی کامیابی ایک سوچے سمجھے منصوبہ کا نتیجہ تھی نہ کہ محض پر جوش اقدام کا نتیجہ۔

خدا کی یہ دنیا کوئی طلسماتی کار خانہ نہیں ہے۔ یہ نہایت اٹل اصولوں پر قائم ہے جن کو پوری طرح سمجھا اور جانا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی واقعہ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب کہ ان قوانین کے ساتھ مطابقت کر کے عمل کیا جائے جن پر موجودہ دنیا کا نظام چل رہا ہے۔ جو شخص یا قوم اپنے لئے کوئی حقیقی مستقبل دیکھنا چاہے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ فطرت کی اٹل بنیادوں کو جانے اور ان کے اوپر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خدا کی اس دنیا میں اس کا کوئی انجام نہیں، خواہ اپنے طور پر وہ اپنے بارہ میں کتنا ہی زیادہ خوش فہم ہو اور اپنی مفروضہ کامیابی کو بتانے کے لئے اس نے کتنے ہی زیادہ شاندار الفاظ پالئے ہوں۔ میوات کا سفر از مولانا وحید الدین خاں صفحات ہدیہ ۲۵ روپیہ

Printed page