Al-Risala · May 1989

دو تصویریں

Al-Risala, May 1989, pp. 23–30

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے ایک مسلمان لیڈر ہیں۔ وہ دہلی میں رہتے ہیں۔ اوپر پچھلے دس برس سے اس ملک میں وہ سیاست چلا رہے ہیں جس کا نام انھوں نے " اپوزیشن کی سیاست " رکھا ہے۔ ایک ماہانہ رسالہ نکالتے ہیں جس کا نام "مسلم ہندوستان" مگر زیادہ صحیح لفظوں میں "ظالم مہندوستان" اس پرچے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہر مہینہ مسلمانوں کے اور ظلم و تعصب کی داستانیں چھاپی لیڈر صاحب کے ہر بیان اور ہر تقریر میں اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے۔ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ وہ پولیس کی گولیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ انھیں زندگی کے ہر شعبہ سے دھکے دے کر نکالا جا رہا ہے۔ ان کے ملی تشخص کو مٹانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

دسمبر ۱۹۸۸ء میں میں امریکہ کے سفر پر تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو مذکورہ لیڈر کے ماہنامہ (مسلم ہندوستان) کے خریدار ہیں۔ اور اس کو برابر پڑھتے ہیں۔ نے کہا کہ " اس ماہنامہ کو میں اس لئے پڑھتا ہوں تاکہ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات معلوم ہوسکیں۔ ماہنامہ کو پڑھنے سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لئے کوئی اسکوپ نہیں۔ اور مظلومی کے سوا ان کا کوئی اور مقدر نہیں"۔ اس ماہنامہ کا خاص طریقہ یہ ہے کہ یہاں اگر ۹۹ پینس پوائنٹ ہوں تو وہ ان کا ذکر نہیں کرے گا، اور اگر ایک مائنس پوائینٹ مل جائے تو اس کو خوب نمایاں کرکے بیان

مذکورہ مسلمان لیڈر کا ایک مفصل انٹرویو دہلی کے ایک اردو ہفت روزہ ۲۱ مارچ تا ۶ اپریل ۱۹۸۹) میں چھپا ہے۔ میں نے اس انٹرویو کو پڑھا۔ اس کو پڑھتے ہوئے میں اس کے حصہ پر پہنچا جہاں انھوں نے انٹرویو کو اپنے گھر کے اندرونی حالات بتائے ہیں۔ " اب میں ذاتی بات آپ سے کہہ رہا ہوں۔ میرے ۶ بچے ہیں۔ جن میں پانچ لڑکیاں ہیں"--- مسلمان لیڈر کے ان الفاظ کو پڑھ کر میں نے کچھ دیر کے لئے اخبار بند کر دیا۔ میں نے اپنے ذہن میں سوچنا شروع کیا کہ لیڈر صاحب نے اس کے بعد انٹرویو سے کیا کہا ہوگا۔ انھوں نے اپنے بچوں کے بارہ میں کس قسم کی خبریں بتائی ہونگی۔

لیڈر صاحب کے بیانات، ان کی تقریروں اور تحریروں میں جس ”مسلم ہندوستان“ کی تصویر پیش کی جاتی ہے، اس کی روشنی میں میں نے سوچنا شروع کیا تو قیاسی طور پر جو بات میری سمجھ میں آئی وہ بڑی بھیانک تھی۔

میں نے سوچا کہ لیڈر صاحب نے غالباً یہ خبر دی ہوگی کہ میرا ایک لڑکا ہے۔ اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ یہاں کے اسکولوں اور کالجوں میں مارا مارا پھرا۔ مگر اس کو کہیں داخلہ اس کی تعلیم نامکمل رہ گئی۔ آخر مجبور ہو کر وہ رکش چلانے لگا تاکہ کسی طرح اپنا پیٹ پال

میرا لڑکا ماشاء اللہ پنج وقتہ نمازی ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک ویران مسجد تھی۔ لڑکے نے محلہ والوں کی مدد سے اس کو رنگ روغن کرایا اور اس میں باقاعدہ نماز قائم کی۔ اور ملک دشمن عناصر کو یہ بات سخت ناپسند ہوئی۔ وہ ایک روز ہجوم کر کے آئے۔ انھوں نے مسجد میں گھس کر میرے لڑکے کو بری طرح مار پیٹا۔ اس کی داڑھی نوچی جس کو وہ اپنے مذہبی تشخص کے نشان کے طور پر نہایت عزیز رکھتا ہے۔ لڑکے کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں وہ بہت دنوں تک زیر علاج رہا۔

میری ایک لڑکی کو تعلیم کا بہت شوق تھا۔ کوشش کے باوجود اس کو اچھے انگریزی اسکول میں داخلہ نہیں ملا۔ مجبوراً اس کو ایک معمولی قسم کے اردو میڈیم اسکول میں داخل کرنا پڑا۔ لڑکی نے پاس کورس سے بی اے کیا۔ اس کے بعد وہ ایم اے کرنا چاہتی تھی۔ مگر داخلہ نہ ملنے کی وجہ سے وہ ایم اے نہ کر سکی۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد اس کو کوئی اچھی سروس نہیں مل سکتی تھی۔ چنانچہ اب وہ گھروں پر جا جا کر اردو اور قرآن کا ٹیوشن کرتی ہے۔ اور اس طرح زندگی کے دن گزار رہی ہے۔ یہی میرے سب بچوں کا حال ہوا۔ ملک میں اندھے تعصب کی وجہ سے کسی کی بھی اچھی تعلیم میری تمام لڑکیاں ماشاء اللہ مذہبی ہیں۔ سب کی سب خدا کے فضل سے شرعی برقعہ نتیجہ یہ ہے کہ وہ جہاں بھی جاتی ہیں، ان کے برقعہ کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کے مذہبی تشخص پر حملے کئے جاتے ہیں۔ کسی بھی اسکول یا کالج میں ان کو نہ داخلہ ملتا ہے اور نہ ملازمت۔ آخر کار میں نے اعلیٰ تعلیم سے مایوس ہو کر یہ طے کیا کہ لڑکیوں کی شادی کر دوں۔

میں اپنی لڑکیوں کے لئے مسلمان شوہر کی تلاش میں نکلا تو معلوم ہوا کہ یہاں تعلیم سے بھی زیادہ بڑی مشکلات حائل ہیں۔

ہندوستان کی ظالم پولیس نے مسلم نوجوانوں کو صحیح سالم حالت میں باقی نہیں رکھا تھا۔ پایا کہ کسی مسلم نوجوان کا حال یہ ہے کہ اس کے پاؤں میں پولیس کی گولی لگی اور اس کو اسپتال میں داخل ہونا پڑا، جہاں ڈاکٹر نے اس کا ایک پاؤں کاٹ دیا۔ کسی مسلم نوجوان کو پولیس تھانہ میں لے گئی اور اس کے ساتھ اتنی زیادہ مار پیٹ کی کہ اس کا دماغی توازن خراب ہو گیا۔ کسی مسلم نوجوان کو پولیس نے رائفل کے کندوں سے مار مار کر اس کا ہاتھ توڑ ڈالا۔ میری تلاش نے مجھے بتایا کہ قوم کے نوجوانوں کو پولیس نے یا تو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے، اور جو زندہ بچے ہیں وہ بھی اس حال میں ہیں کہ ان کا جسم اور ان کے اعضاء صحیح سالم نہیں۔

مجھ کو بہرحال اپنی لڑکیوں کی شادی کرنی تھی۔ میں نے اللہ کا نام لے کر انھیں مظلوم اور معذور نوجوانوں میں سے کچھ نوجوانوں کو منتخب کیا اور ان کا نکاح اپنی لڑکیوں کے ساتھ کر دیا۔ گھر کا حال یہ ہے کہ وہ بیک وقت معذور خانہ بھی بنا ہوا ہے اور اسی کے ساتھ غریب خانہ بھی۔ میرا گھر اس ’’مسلم ہندوستان‘‘ کی ایک چھوٹی سی تصویر ہے جس کا زیادہ بڑا نقشہ میں ہر مہینہ اپنے پرچہ میں دکھاتا ہوں۔

میری لڑکیاں اپنے لنگڑے لولے شوہروں کے ساتھ اس طرح رہ رہی ہیں کہ ان کی زندگیاں خوشیوں سے خالی ہو چکی ہیں۔ آسمان نے کبھی ان کو مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔ بچوں اور اپنے دامادوں سے کہتا ہوں کہ گھبراؤ نہیں، جو دنیا میں کھوئے وہ آخرت میں پاتا ہے۔ جو انسانوں کی طرف سے محروم کیا جائے اس کو خدا کی طرف سے سرفرازی عطا کی جاتی ہے۔ لیڈر صاحب کے اپنے بیانات کی روشنی میں میں نے ان کے گھر کی یہ قیاسی تصویر بنائی اور اس کے بعد دوبارہ اخبار کھولا اور لیڈر صاحب کے انٹرویو کا بقیہ حصہ پڑھنا شروع کیا۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ لیڈر صاحب کے گھر کا نقشہ اس نقشہ سے سراسر مختلف ہے جو میں نے قیاسی طور پر سمجھا تھا۔ نا قابل فہم حیرانی کے ساتھ مجھے ایسا محسوس ہوا گویا

وہ اس ”مسلم ہندوستان“ میں نہیں، جس کی خبر وہ صبح و شام اپنے ہم قوموں کو دیتے رہتے ہیں۔ وہ ایک اور ملک میں ہیں جو ان کے بیانات والے ملک سے یکسر مختلف ہے۔ انٹرویو کے مطابق، لیڈر صاحب کے الفاظ یہ تھے :

”اب میں ذاتی بات آپ سے کہہ رہا ہوں۔ میرے 6 بچے ہیں۔ جن میں پانچ لڑکیاں اور ہمارے سماج میں جس کی اتنی لڑکیاں ہوں، اس کے لئے کتنی پریشانیاں ہوتی ہیں، اس کا احساس آپ کو بھی ہوگا۔ میں نے ایک ہی بات کا وعدہ اپنی اہلیہ سے کیا کہ کچھ ہو جائے، ہم بھوکے مریں، مگر بچوں کی تعلیم پر اثر نہیں ہونے دیں گے۔ آج دس برس بعد اللہ کے فضل سے میری بڑی بیٹی کی شادی ہو گئی۔ اس کا شوہر آئی اے ایس آفیسر ہے۔ دوسری بیٹی کی شادی ہو گئی اور اس کا شوہر ایم ڈی ہے۔ میرا لڑکا امریکہ کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی سب سے مایہ ناز ڈگری آپریشن ریسرچ میں پی ایچ ڈی ہے۔ اس کے بعد کی میری لڑکی اللہ کے فضل سے ڈاکٹر ہو چکی ہے، اور آج وہ دہلی میں ہاؤس سرجن ہے۔ اس کے بعد کی لڑکی آئی آئی ٹی سے دو مہینوں میں انجینئرنگ کا کورس مکمل کر لے گی۔ وہ وہاں کی ٹاپر ہے۔ آج اس کے سامنے دسیوں ملازمتوں کے آفر ہیں۔ اور میری آخری اولاد دہلی یونیورسٹی میں بی ایس سی آنرز کے دوسرے سال میں ہے۔ یہ دیکھ کر مجھے بے حد حیرت ہوئی کہ لیڈر صاحب اگر چہ اسی ملک میں رہتے ہیں، مگر ان کے گھر کا حال اس مسلم ہندوستان (یا ظالم ہندوستان) سے سراسر مختلف ہے جس کی خبر وہ دنیا کو اپنی تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ پچھلے دس سال سے دے رہے ہیں۔ ان کے بیانات کے مطابق، ”مسلم ہندوستان“ میں مسلمان صرف ایک برباد شدہ قوم بنا دئے گئے ہیں۔ مگر اسی ”مسلم ہندوستان“ میں ان کا اپنا گھر ترقی اور خوش حالی کی اعلیٰ شاہراہ پر گامزن ہے۔ ۱۹۸۹ میں مذکورہ مسلمان لیڈر کے سیاسی کیریئر کے دس سال پورے ہو گئے۔ سال میں، خود ان کے اپنے بیان کے مطابق، ان کے ”۶ بچوں“ کا مستقبل اتنا شاندار ہو چکا ہے کہ وہ خود اس پر فخر کرتے ہیں۔ مگر اسی دس سال میں ملت کے بچوں کا حال یہ ہے کہ دوبارہ، خود

ان کے اپنے بیان کے مطابق، وہ بدستور ظالمانہ تعصب کا شکار ہیں۔ ان کے سینے اب پولیس کی گولیوں سے چھلنی کئے جا رہے ہیں۔ گویا شاعر کے الفاظ میں:

دو پھول ساتھ پھولے قسمت جدا جدا ہے نوشہ نے اک پہنا ایک قبر پر چڑھا ہے اس فرق کار از کیا ہے۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے مجھے اپنا ایک واقعہ یاد آیا جو نومبر ۱۹۸۷ء میں میرے ساتھ پیش آیا تھا۔ میں ہندوستان کے ایک شہر میں چند روز کے لئے گیا ہوا تھا۔ میرا قیام ایک ہوٹل میں تھا۔ ایک مقامی مسلمان لیڈر مجھ سے ملنے کے لئے میرے کمرے میں آئے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ میں آپ کا رسالہ ہر ماہ پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں۔ مگر آپ مسلمانوں کو جو سبق پڑھارہے ہیں، وہ بزدلی کا سبق ہے۔ وہ مسلمانوں کو ہزیمت، شکست، احساس محرومی اور مایوسی کی طرف لے جارہاہے۔ مجھے آپ کے اس نظریہ سے سخت

آخر میں انھوں نے کہا کہ چلئے، آپ کو شہر کی سیر کرا دیں۔ اس کے بعد وہ مجھ کو اپنی نئی ماروتی کار پر بیٹھاکر شہر کے مختلف حصوں کو دکھاتے رہے۔ راستہ میں انھوں نے بتایا کہ میں یہاں کی میونسپل کمیٹی میں نائب چیئر مین ہوں۔ میں نے کہا کہ اس شہر میں مسلمانوں کی تعداد بمشکل ۵ فی صد ہوگی۔ ایسی حالت میں آپ میونسپل انتخابات میں کس طرح کامیاب ہوتے ہیں۔ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : اپنے ذاتی معاملہ میں میری پالیسی وہی ہے جو رسالہ کی پالیسی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں یہاں کے ہندوؤں سے ہمیشہ خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آتا ہوں، ان کے کام آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مقامی پولیس اور انتظامی افسران سے میرے اچھے تعلقات ہیں۔ برادران وطن کو مختلف مواقع پر تحفے تحائف بھی دیتا رہتا ہوں ۔ یہاں کے سب لوگ مجھ سے خوش ہیں۔ مجھ کو مسلمانوں کے علاوہ ہندوؤں کے بھی کافی ووٹ کوئی بات ناخوشگواری کی ہو تو میں اس کی پروا نہیں کرتا۔

اب مذکورہ مسلمان لیڈر کی کامیابی کا راز میری سمجھ میں آگیا۔ میں نے جان لیا کہ انٹرویو دینے والے لیڈر صاحب کا معاملہ بھی یقیناً یہی ہے۔ لیڈری کے اسٹیج پر تو وہ اپنی وہ پالیسی چلاتے ہیں جس کو وہ" اپوزیشن کی سیاست " یا احتجاجی سیاست کہتے ہیں۔ مگر اپنے گھر اور اپنے بچوں کے

معاملہ میں وہ عین اسی طریقہ کو اختیار کیے ہوئے ہیں جس کی نشان دہی الرسالہ میں تقریبا پندرہ سال سے کی جارہی ہے۔ یعنی حقیقت پسندانہ انداز میں سوچنا اور حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے معاملات کو باہر وہ الرسالہ کے مخالف ہیں اور اندر وہ اس کو اپنا پیرومرشد بنائے ہوئے ہیں۔ لیڈر صاحب نے اپنے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے کہ اس وقت ہندوستان میں جو حالات ہیں، اس کے باقی رہتے ہوئے بھی مسلمان ترقی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں ، ان کی موجودگی میں بھی مسلمان اپنے لئے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں : مسلمان ایجی ٹیشن کی سیاست چھوڑ کر اگر صرف تجارت کریں تو یہاں کوئی انھیں تجارت کرنے نہیں دے گا۔ مسلمان اگر صرف تعلیمی جدوجہد میں مصروف ہونا چاہیں ، تو انھیں تعلیمی جدوجہد کی اجازت نہیں ملے گی۔ اس ملک میں جو یلغار ہے ، وہ ہمارے پورے وجود پر ہے۔ اس میں اقتصادی، سماجی، سیاسی سارے حقوق اور اختیارات شامل ہیں۔ سیاسی تبدیلی لائے بغیر اور حقوق کی مانگ کے بغیر مسلمانوں کو اس ملک میں کچھ نہیں ملے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ وہی مسلم ہندوستان جس میں عام مسلمانوں کے لئے، لیڈر صاحب کے بیان کے مطابق، ترقی کے مواقع بالکل ختم ہو چکے ہیں۔ یہاں موجودہ حالات میں مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں مل سکتا۔ مگر اسی مسلم ہندوستان میں خود ان کا اپنا خاندان جو بچوں اور ان کے متعلقین کو ملا کر ایک درجن سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے، وہ کیسے کامیاب ہو گیا۔ کس طرح اس نے اسی ظالم ہندوستان میں اپنے لئے قابل رشک حد تک ایک شاندار مستقبل تعمیر کر لیا۔ مذکورہ مسلمان لیڈر نے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ انھوں نے طے کیا کہ "ہم بھوکے رہیں گے مگر ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے"۔ لیڈر صاحب نے اس پر باقاعدہ عمل کیا۔ ان کا کامیاب تجربہ بتاتا ہے کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ "مسلم ہندوستان" کا ایک باشندہ "بھوکا" رہ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا سکے۔ حتی کہ صرف دس برس میں ان کا شاندار مستقبل بن کر کھڑا ہو جائے۔ دس سالہ محنت کے بعد اس کا اپنا پیٹ بھی بھر جائے اور اس کے تمام بچوں کا بھی۔ لیڈر صاحب کے مذکورہ جملہ ( ہم بھوکے رہیں گے مگر اپنے بچوں کو پڑھائیں گے) پر میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس ایک جملے کے اندر معانی کا پورا خزانہ ہے۔ اس کے اندر زندگی کی تعمیر کا

زبردست ر از چھپا ہوا حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کو الرسالہ کے ذریعہ مسلسل طور پر مسلمانوں کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ زندگی کی تعمیر کا یہی وہ بنیادی اصول ہے جس کو راقم الحروف نے اپنے آرٹیکل مطبوعہ ٹائمس آف انڈیا (۵ ستمبر ۱۹۸۷) میں ان لفظوں میں بیان کیا تھا کہ مسائل کو بھوکا رکھو ، مواقع کو کھلاؤ: Starve the problems, feed the opportunities. لیڈر صاحب نے ، الرسالہ کے اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے ، اپنے بچوں کو سکھایا کہ مسائل کو بھلاؤ اور مواقع کو استعمال کرو۔ حقوق طلبی کا جھنڈا مت اٹھاؤ بلکہ محنت کے ذریعہ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرو۔ شکایت اور احتجاج کو چھوڑ دو اور مثبت ذہن کے تحت کام کرو۔ حالات سے لڑنے کی حماقت نہ کرو بلکہ حالات سے مطابقت کر کے اپنے مستقبل کی تعمیر کرو۔ ملک کے اندر غیر موافق پہلو بھی ہیں اور موافق پہلو بھی۔ تم لوگ غیر موافق پہلو کو نظر انداز کرو اور جو موافق پہلو ہیں ان پر اپنی ساری توجہ لگا دو۔ تم ٹکراؤ کے بجائے ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرو۔ ایک لفظ میں یہ کہ میں گھر کے باہر لیڈری کے اسٹیج پر الرسالہ کے اصول کی مخالفت کروں گا، اور تم لوگ گھر کے اندر الرسالہ کے اصول کو دانتوں سے پکڑ لو۔ کیوں کہ یہاں کے حالات میں لیڈرانہ مقام الرسالہ والے طریقہ کی مخالفت کرنے میں ملے گا، اور حقیقی کامیابی اس کے طریقہ کو اختیار کرنے میں ہے۔ یہی دو طرفہ تکنیک ہے جس نے بیک وقت دونوں کو کامیاب و با مراد کر دیا ہے، لیڈر کو بھی اور لیڈر کے تمام لڑکوں اور لڑکیوں کو بھی۔

مسلمان لیڈر نے غالباً اسی مصلحت کی خاطر مزید اہتمام یہ کیا کہ اپنے تمام بچوں کو انگلش اسکولوں میں داخل کر کے پڑھایا۔ انھوں نے اپنے کسی بچہ کو اردو میڈیم اسکول میں تعلیم نہیں دلائی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے مفروضہ مسلم ہندوستان (یا ظالم ہندوستان ) کو جاننے کا سب سے بڑا ذریعہ مسلمانوں کے وہ " زرد اخبارات " ہیں جو اردو زبان میں شائع ہوتے ہیں۔ بچوں نے اگر اردو جان لی تو وہ اردو کے زرد اخبارات پڑھیں گے ، اور پھر ان کا ذہن غیر ضروری طور پر شکایت اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو جائے گا۔ وہ دوسرے مسلمان بچوں کی طرح سڑکوں پر مظاہرے کریں گے اور خواہ مخواه پولیس کی گولیاں کھائیں گے۔ اس لئے عقل مندی یہ ہے کہ اپنے بچوں کو اردو زبان سے

نا واقف رکھا جائے تا کہ وہ نہ اردو زبان کے زرد اخبارات پڑھیں اور نہ اس مفسدہ ہندوستان کو جان سکیں جہاں مسلمانوں کے لئے احتجاج اور ایجی ٹیشن کے سوا کچھ اور کرنے کا موقع جب بانس ہی نہ ہوگا تو بانسری کہاں سے بجے گی۔

یہاں میں یہ اضافہ کروں گا کہ یہ صرف ایک مسلم لیڈر کی بات نہیں، یہی تقریباً تمام مسلم لیڈروں اور رہنماؤں کی بات ہے، خواہ وہ بے ریش رہنما ہوں یا با ریش رہنما۔ ان میں سے ہر ایک کا معاملہ وہی ہے جو اوپر کی مثال میں مذکورہ لیڈر کا نظر آتا ہے۔ یہ لوگ دوسروں کے سامنے الرسالہ کی مخالفت کرتے ہیں، مگر خود وہ دل و جان سے الرسالہ کو اپنا پیر و مرشد بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ظاہری طور پر الرسالہ کے طریقہ کو غلط بتاتے ہیں۔ مگر اندرونی طور پر وہ اپنے بچوں کو اور اپنی زندگی کے تمام ذاتی معاملات کو الرسالہ کے بتائے ہوئے طریقہ پر چلا رہے ہیں۔ یہی وہ دو طرفہ کردار ہے جس کو فارسی شاعر نے تمثیلی طور پر ان لفظوں میں بیان کیا تھا کہ وہ بظاہرمَے کا انکار کرتے ہیں، مگر عملاً وہ خود بھی مے پرستوں ہی کے رنگ میں جیتے ہیں: منکر مئے بودن و ہم رنگ مستان زیستن یہ تقسیم کیسی المناک ہے کہ مسلمانوں کے نام نہاد لیڈروں نے اپنے لئے زندگی کا انتخاب کیا ہے، اور عوام کے لئے موت کا۔ ایک لفظ میں یہ کہ جنہیں مرنا نہیں وہ للکارتے ہیں، اور جو للکارتے نہیں وہ مارے جاتے ہیں۔

کتنے ہوشیار ہیں مسلمانوں کے لیڈر ، اور کتنے نادان ہیں ان کے مسلمان پیرو جو کھلے ہوئے استحصال کو دیکھتے ہیں، پھر بھی پوری وفاداری کے ساتھ ان کے پیچھے چلے جارہے ہیں۔ اتنا عجیب منظر شاید اس سے پہلے آسمان نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔

دینِ کامل از مولانا وحید الدین خاں صفحات ۴۰۸ ہدیہ ۳۰ روپے

Printed page