Al-Risala · January 1989

برائے اعزاز

Al-Risala, January 1989, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کی سابق خاتون وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی نے "غریبی ہٹاؤ" کا اس کے لئے انھوں نے دھواں دھار تقریریں کیں۔ ہوائی جہازوں پر سارے ملک کے دورے کئے۔ مگر اندرا گاندھی کو اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی کہ وہ ملک کے غریبوں کے لئے کوئی حقیقی عملی کام کریں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ "غریبی ہٹاؤ" کا نعرہ انھیں ملک کا وزیر اعظم بنا ر ہا تھا، جب کہ غریبی ہٹانے کے خاموش عمل میں نتیجہ اس کے برعکس وہ وزارت عظمی کی کرسی بھی کھودیتیں اور اسی کے ساتھ موجودہ ملی ہوئی عزت اور عظمت بھی۔

موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کا حال بھی یہی ہے۔ ان کے اندر اسلام اور مسلماتوں کی خدمت کا بہت جوش ہے۔ مگر انھیں صرف اس خدمت سے دلچسپی ہے جو انھیں مقام اعزاز پر بٹھانے والی ہو۔ اسلام اور مسلمانوں کی ایسی خدمت جس میں کوئی اعزاز نہ ملے بلکہ وہ ساری قوم کے درمیان نکو بن کر رہ جائیں، ایسی خدمت سے اور ایسے میدان میں سرگرم ہونے سے انھیں کوئی دلچسپی فہمیں۔

یہی وہ صورت حال ہے جس کی بابت قرآن میں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کو اور ایمان لانے والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں ، مگر وہ صرف اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں، اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے (البقرہ ۹)

یہ خود فریبی کی بدترین قسم ہے۔ یہ لوگ بظاہر اپنے آپ کو خادم اسلام اور خادم ملت کی حیثیت سے نمایاں کر رہے ہیں۔ مگر ان کا یہ تضاد ان کی اصل حقیقت کو بتا رہا ہے کہ وہ اعزاز کے مقامات پر نو خوب متحرک ہوتے ہیں مگر جہاں دنیوی اعزاز ملنے کی امید نہ ہو وہاں بے حس اور غیر جانبدار بنے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ کچھ انسانوں کو وقتی طور پر غلط نہی میں مبتلا کرسکتے ہیں ، مگر وہ اللہ عالم الغیب کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ انھیں جاننا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ معاملہ کرے گا نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔

Printed page