مکمل اعراض ہی تمام مسائل کا حل
Al-Risala, May 1989, pp. 35–42
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے قارئین میں تقریبا ۳۰ فی صد ہندو ہیں۔ میں نے افکار کے ایڈیٹر صاحب سے اس کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے ایسے ہندو ہیں جو اردو زبان کو پسند کرتے ہیں مگر فارسی رسم خط نہ جاننے کی وجہ سے اردو کو پڑھ نہیں سکتے ۔ افکار ان کی اس مشکل کو حل کر دیتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ افکار میں ہندو کو دوسرا نقطہ نظر بھی پڑھنے کو مل جاتا ہے ۔ اس طرح اس کا شک دور ہو جاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ دوسری ریاستوں میں بھی اس قسم کے اخبار جاری کرنا چاہئے ۔ اس سے قومی ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
۱۱ نومبر کی شام کو روز نامہ افکار (ہندی ) نے انٹرویو لیا۔ ان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارہ میں میرے نقطہ نظر کو سمجھنے میں کچھ لوگوں کو اس لئے مشکل پیش آتی ہے کہ دوسرے لوگ مسلم اور غیر مسلم کے تعلق کو حریف اور رقیب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس میں یہ کہتا ہوں کہ دونوں کے درمیان جو تعلق ہے ، وہ داعی اور مدعو کا تعلق ہے۔ اگر آپ حریفانہ نفسیات سے اٹھ کر داعیانہ نفسیات کے ساتھ دیکھ سکیں تو آپ ہمارے نقطہ نظر سے اتفاق کرنے پر مجبور ہوں گے ۔
۱۱ نومبر کی شام کو سیرت کے جلسہ میں خطاب تھا۔ اس کو جناب خلیل اللہ خاں ایڈوکیٹ اور ان ر سالہ مئی ۱۹۸۹ ۳۵
کے ساتھیوں نے منظم کیا تھا۔ اس میں میں نے ایک حدیث کی تشریح کی جس کے الفاظ یہ ہیں: ان الفتنة نَائِمَةٌ لعن الله من ايقظها، فتنة سویا ہوا ہے۔ اس پر اللہ کی لعنت ہے جو اس کو جگائے، اس کا مطلب یہ ہے کہ "فتنہ" خود نظام تخلیق کے تحت اس دنیا میں موجود ہے، اور وہ لازماً موجود رہے گا۔ کا کام یہ نہیں ہے کہ فتنہ کی موجودگی پر شور و غوغا کریں، بلکہ اصل کام یہ ہے کہ سوئے ہوئے فتنہ کو سویا ہوا رہنے دیں، ایسا نہ کریں کہ اپنی نادانی کے ذریعہ اس کو جگا دیں۔
۲ نومبر کی دوپہر کو تعلیمی سیمینار میں شرکت کی۔ اس سیمینار کے مہمان خصوصی جناب سید حامد صاحب (سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) تھے۔ سید حامد صاحب نے اپنے علم اور تجربہ کی روشنی میں مسلمانوں کے تعلیمی مسائل کا نہایت عمدہ تجزیہ کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو خود اپنی محنت سے تعلیم میں آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر وہ دوسروں کی طرف دیکھتے رہے تو ان کی تعلیمی پسماندگی میں مزید اضافہ کے سوا کچھ اور ہونے والا نہیں۔
میں نے اپنی تقریر میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم بذات خود مطلوب ہے۔ اگر "مسلم اسکول" موجود نہ ہوں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ "غیر مسلم اسکول" میں داخلہ لیں۔ قوم کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو، اور یہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کا اصل مسئلہ اغیار کی مفروضہ سازش نہیں بلکہ سب سے بڑا مسئلہ مسلمانوں کا تعلیمی پچھڑاپن ہے۔ اس کی وجہ سے مسلم رہنماؤں اور مسلم عوام کے درمیان ایک ذہنی بعد (Intellectual gap) پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً مسلم یونیورسٹی کے ایک وائس چانسلر کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو امتیازی لیاقت کے راستہ پر آگے بڑھائے۔ مگر مسلم طلبہ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں رعایتی داخلے اور رعایتی سروسیں دی جائیں۔ اس بنا پر دونوں میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ حقیقی تعمیری کام انجام نہیں پاتا۔ جناب سلیم شمسی صاحب اس سیمینار کے داعی تھے۔ ۱۴ نومبر کو منشی حسین خاں ٹکنیکل اسکول کے جلسہ میں شرکت کی۔ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر مسٹر ارجن سنگھ اس کے مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر میری ایک تقریر ہوئی ۔ اس میں میں نے کہا کہ مسلمان موجودہ زمانہ میں تکنالوجی میں پیچھے ہوگئے۔ حالانکہ یہ عین اسلام کا تقاضا تھا کہ وہ اس میدان میں آگے رہتے۔ میں نے کہا کہ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ بقدر استطاعت طاقت فراہم کرو واعد و لہم الـرسـالـی ۱۹۸۹ ۳۶
ما استطعتم من قوة)، قدیم فہم کے تحت مسلمان یہ سمجھتے رہے کہ اس کا مطلب فوج اور تلوار کی طاقت جمع چنانچہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے وہ ہتھیاروں کے ذہن سے سوچتے رہے ۔ مگر پوری دنیا میں انہیں ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی اصل طاقت علم ہے، اور علم میں بھی سائنس اور ٹکنالوجی خصوصی طور پر طاقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مختلف مثالوں کے ذریعہ اس بات کو واضح کیا گیا۔ ۱۳ نومبر کی دوپہر کو قدسیہ مسجد میں قارئینِ الرسالہ کا اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے دعوت کی اہمیت پر زور دیا۔ اس اجتماع میں کچھ ہندو بھائی بھی شریک تھے ۔ وہ الرسالہ ہر ماہ پڑھتے ہیں۔ سے ایک بھائی مسٹر راج تیواری نے تقریر کے بعد اپنا تا ثربتاتے ہوئے کہا؛ دعوت کے بنا اسلام ایک فیوز بلب کی طرح ہے۔ بلب کا فیوز اڑ جائے تو ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلام میں دعوت نہ رہے تو گویا کچھ بھی نہ رہا۔ مسٹر پی این گپتا ایڈوکیٹ نے بھی اسی قسم کی بات کہی۔ 13 نومبر کو جناب محمد خاں صاحب سابق ڈسٹرکٹ جج کی رہائش گاہ پر ایک میٹنگ ہوئی۔ میں بھوپال کے وکلاء، اور جج صاحبان شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے اسلامی عبادت کی حقیقت اس سلسلہ میں نماز کے تین اعمال __ اللہ اکبر، الحمد للہ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کی وضاحت کی گئی۔ بھوپال میں جتنے خطابات ہوئے، ان کا ٹیپ مقامی لوگوں کے پاس موجود ہے۔ بھوپال میں پروگرام ۱۱ نومبر ۱۹۸۸ انٹرویو روزنامہ افکار (ہندی) مسلمانوں کے موجودہ مسائل کارکنان الرسالہ سے ملاقاتیں ۱۲ نومبر ۱۹۸۸ سیمینا ربمقام ٹیگور ہال میں تقریر ملت اسلامیہ کے تعلیمی مسائل جلسہ سیرت مقام برکت اللہ میدان میں خطاب سیرت محمدی کا پیغام امن ۱۳ نومبر ۱۹۸۸ محمد خاں صاحب سابق ڈسٹرکٹ جج کی رہائش گاہ پر وکلاء اور جج صاحبان سے گفتگو منشی حسین خاں ٹکنیکل اسکول کے اجلاس میں شرکت سائنسی تعلیم کی اہمیت قدسیہ مسجد میں قارئین الرسالہ کا اجتماع دعوت کی اہمیت
اس سفر میں ایک نئی بات یہ سامنے آئی کہ پچھلے ایک سال کے عرصہ میں ڈاکٹر حمید اللہ ندوی اور ان کے ساتھیوں نے ہند و مسلم تعلقات کو خوش گوار بنانے کا کام وسیع پیمانہ پر کیا ہے۔ اس کے بعد دونوں فرقے ایک دوسرے سے قریب آئے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف روک قائم ہوا ہے بلکہ دعوت کے کام کے لئے بھی نئے امکانات کھلے ہیں۔ اس انداز کی کوششیں ملک کے ہر شہر اور ہر علاقے میں کی جانی چاہئیں۔ مسٹر پریم نرائن گپتا ایڈوکیٹ بھوپال کی انسانی برادری کے صدر ہیں۔ ایک مشترک نشست میں اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہمارا ملک دو مرحلوں سے گزر چکا ہے اور اب اسے تیسرے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔
پہلا مرحلہ1947 سے پہلے کا ہے۔ اس وقت ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ نے کہا کہ ہماری تمام مصیبتوں کی جڑ بدیشی حکومت ہے۔ اگر بدیشی راج ختم ہو جائے اور ملک والوں کی اپنی حکومت قائم ہو جائے تو یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہیں گی، ہر آنکھ کے آنسو پونچھ دیئے جائیں گے۔ ۱۹۴۷ء میں یہ نشانہ پورا ہو گیا۔ مگر آدھی صدی گزرنے کے بعد بھی ہمارا کوئی مسئلہ حل نہ ہوا۔
دوسرا مرحلہ وہ ہے جو آزادی کے بعد شروع ہوا۔ اس کو ایک لفظ میں، قانون کے ذریعہ اصلاح، کہا جا سکتا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے لے کر اب تک بے شمار قانون ہر چیز کے بارہ میں بنائے گئے۔ مگر قانون کی بھر مار کے باوجود ہمارا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہ ہوا۔ بلکہ "غلام ہندوستان" میں جتنے مسئلے تھے، اب "آزاد ہندوستان" میں اس سے زیادہ مسئلے پائے جاتے ہیں۔
اب آخری بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں ہم مذہب کا تجربہ کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب ہی واحد چیز ہے جو زندگی کے معاملات کو درست کرتا ہے۔ میں نے کہا کہ مذہب کا مطلب لاؤڈاسپیکروں کا شور اور جلوسوں کے مظاہرے نہیں ہیں۔ مذہب کی اصل حقیقت جوابدہی (Accountability) ہے۔ یعنی یہ کہ انسان کو اپنے تمام کاموں کا خدا کے سامنے جواب دینا ہے۔ اب کرنے کا کام یہ ہے کہ لوگوں میں اس احساس کو ایک نشست ہوئی جس میں کچھ مسلمان تھے اور زیادہ تر ہند و بھائی شریک تھے۔ میں نے کہا کہ برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) کا اگر آپ سفر کریں تو آپ پائیں گے کہ ہر آدمی بس ایک ہی سوچ میں گرفتارہے، اور وہ ہند و مسلم سوچ ہے۔ اس علاقہ میں تقریباً ۲۰۰ ملین انسان آباد ہیں۔
مگر ہر ایک بس ایک ہی اصطلاح میں سوچنا جانتا ہے۔ اور وہ ہندو مسلم کی اصطلاح ہے۔ میں نے کہا کہ یہ جھوٹی سوچ ہے۔ اصل سوچ یہ ہے خدا اور انسان کے اعتبار سے سوچا جائے۔ زندگی اور موت، دنیا اور آخرت کی اصطلاحوں میں معاملہ کو سمجھا جائے۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں قومی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں، مگر یہ سب کے سب مصنوعی جھگڑے ہیں۔ اصل چیز، جو سامنے آنے والی ہے وہ یہ کہ انسان کو مرنا ہے۔ اور اس کے بعد اس کو اپنے رب کے سامنے حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی جہنم۔
میں نے کہا کہ اگر ایک بلڈنگ میں آگ لگ جائے تو ہر طرف شعلے بھڑکنے لگیں گے ، اس وقت کوئی شخص ہندو مسلم اصطلاحوں میں نہیں سوچے گا۔ اس وقت ہر آدمی زندگی اور موت کے ذہن سے سوچے گا۔ ضرورت ہے کہ آگ لگنے سے پہلے یہی سوچ پیدا ہو جائے۔
حضرت پیر سعید میاں صاحب مجددی بھوپال کے مشہور بزرگ ہیں۔ ان کی ہر بات نصیحت اور وعظ سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ گفتگو کے دوران کامیاب زندگی کا گر دو لفظوں میں اس طرح بیان فرمایا۔ ذوق کی بلندی، زندگی کی سادگی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ڈیڑھ سو سال سے مسلمانوں میں کوئی صحیح رہنما پیدا اس درمیان میں جو لوگ اٹھے وہ حالات کے رد عمل کی پیداوار تھے نہ کہ مثبت فکر کی میں نے کہا کہ میں نے تو صرف ڈیڑھ سو سال کی بات کہی ہے مگر آپ کے محبوب شاعر اقبال تو اس مدت کو اس سے بھی زیادہ وسیع کر رہے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے: تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند۔
میں نے کہا کہ اگر آپ میری بات پر تنقید کرتے ہیں تو اقبال کی بات پر دگنا طاقت کے ساتھ تنقید اس کو سن کر وہ خاموش ہوگئے۔
شتری برج کشور سانگھی ایڈوکیٹ سے دوبارہ ملاقات ہوئی۔ وہ نہایت سلجھے ہوئے ذہن کے آدمی ہیں، وہ اگر چہ ہندو مذہب میں یقین رکھتے ہیں۔ مگر اتنی ہی قوت کے ساتھ وہ مذہبی رواداری کے بھی حامی ہیں اور ہندو مسلم تعلقات کو خوشگوار دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو مسلم لیڈر وزیروں اور حکمرانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں ، انھیں اس قسم کے سنجیدہ ہندوؤں سے ربط بڑھانا چاہئے ۔
بلاشبہ ملکی حالات کو درست کرنے کے لئے اول الذکر دوڑ دھوپ سے زیادہ کار آمد ہے۔ قاضی وجدی حسینی صاحب نے بتایا کہ ایک بار ان کی ملاقات علامہ اقبال سے ہوئی ہے۔ ملاقات لاہور میں موصوف کی وفات سے تقریباً ایک سال پہلے ہوئی۔ اس وقت علامہ اقبال مرض الموت میں میں نے قاضی صاحب سے کہاکہ علامہ اقبال کی کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے خود براہ راست
قاضی صاحب نے کہا کہ مذکورہ ملاقات میں موت کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے ایک لطیفہ بتایا تھا جو اب تک مجھے یاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ شیخ سعدی نے ایک کہانی لکھی ہے کہ کسی بادشاہ کے دربار میں ایک پہلوان رہتا تھا۔ پہلوان کی عمر زیادہ ہونے لگی تو بادشاہ نے اس سے کہا کہ کسی جوان آدمی کو اپنے کر تب سکھا کر پہلوان بنا دو تا کہ تمہارے بعد در بار کی یہ جگہ خالی نہ رہے۔ پہلوان نے ایک نوجوان کو منتخب کرنے اس کو سکھانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ ایک تربیت یافتہ پہلوان بن گیا۔ اس کے بعد وہ شخص اپنے استاد سے باغی ہو گیا ۔ وہ شہر میں لوگوں کے درمیان اس طرح کی باتیں کرنے لگا گویا کہ وہ اپنے استاد سے زیادہ بڑا پہلوان ہے۔ یہ بات بادشاہ کو اچھی نہیں لگی۔ سے گفتگو کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ استاد اور شاگ دونوں کا مقابلہ کرایا جائے۔ دونوں اکھاڑے کے اندر جمع ہوئے۔ شاگرد نے کچھ دیر تک زور آزمائی کی اس کے بعد اچانک استاد نے اس کو زمین پر پٹخ دیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے استاد سے پوچھا کہ تم تو اپنا سارا کر تب اپنے شاگرد کو سکھا چکے تھے۔ پھر تم کس طرح اس کو ہرانے میں کامیاب ہوئے۔ استاد نے جواب دیا : پہلوان ہمیشہ ایک داؤ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔
علامہ اقبال نے اس کہانی کو بیان کرنے کے بعد کہا۔ اسی طرح پہلوان فطرت نے ایک داؤ اپنے پاس محفوظ رکھا ہے ، اس کا نام موت ہے۔
سید مسعود الحسن صاحب (عمر 45سال ، بھوپال زو کے ڈائرکٹر ہیں۔ وہ برسوں تک جنگلوں میں رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جنگل میں کئی بار ایسا ہوا کہ چلتے ہوئے شیر سامنے آگیا۔ مگر شیر رد دفاع کے سوا کبھی انسان پر حملہ نہیں کرتا ۔ چنانچہ مجھ کو دیکھتے ہی شیر اپنے آپ راستہ بدل کر دوسری طرف چلا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ شیر جب آدمی کو دیکھتا ہے تو فورا واپس ہو کر تیزی سے بھاگ جاتا ہے۔
وجہ یہ ہے کہ شیر انسان سے ڈرتا ہے۔ وہ "چوپایہ" پر حملہ کرتا ہے۔ مگر "دوپایہ" سے خود ڈرتا ہے۔ انسان خور صرف اس وقت بنتا ہے جب کہ انسان خود کوئی حماقت کر کے شیر کو یہ حقیقت بتا دے کہ وہ شیر سے
یہی معاملہ انسانی دنیا کا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی طاقت کا ضرورت سے زیادہ اندازہ کر لیتا ہے۔ اس لئے ایک شخص دوسرے شخص سے خائف رہتا ہے۔ خوف کی یہ نفسیات جارحیت کے خلاف ایک مستقل چیک ہے۔ مگر جب کوئی آدمی غلط اور ادھورا اقدام کر کے اپنی کمزوری سے فریقِ ثانی کو باخبر کر دے۔ تو ایسے آدمی کا حال اپنے سماج میں وہی ہو جاتا ہے جو مردم خور شیر کے پڑوس میں انسان کا۔
سید مسعود الحسن صاحب جو وائلڈ لائف کے عالم ہیں، انھوں نے بتایا کہ شیر، دوسرے اکثر جانوروں کی طرح ایک علاقہ پسند (Territorial) جانور ہے۔ شیر ہمیشہ ایک علاقے کو اپنا علاقہ بنا لیتا اس کے نشان کے طور پر وہ ایسا کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقہ کی "سرحدوں" پر گھوم کر پیشاب کے راستہ سے ایک خاص طرح کا کیمیکل چھڑک دیتا ہے۔ اس کے اندر ایک خاص قسم کی بو ہوتی ہے جس کو دوسرے شیر پہچان لیتے ہیں۔ چناچہ دوسرا کوئی شیر جب وہاں آتا ہے تو وہ اس بو کو سونگھ کر جان لیتا ہے کہ یہ ایک اور شیر کا علاقہ ہے، وہ فوراََ وہاں سے واپس چلا جاتا ہے۔
شیر علاقائی تقسیم کے ذریعہ اس سے بچتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ انسان کے لئے قدرت کا بتایا ہوا طریقہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنی حد پر رہے۔ شخص اپنی حد سے باہر نکلے اور نہ دوسرا شخص اس کی حد کے اندر داخل ہو۔
سید مسعود الحسن صاحب نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ شیڈول نیشنل پارک میں تھے۔ جاپانی فوٹو گرافر آیا اور ایک ہوٹل میں دو مہینے تک ٹھہرا رہا۔ اس کا روزانہ کا خرچ تقریباً ۵۰۰ روپیہ وہ ہاتھی پر چڑھ کر پارک میں گھومتا تھا اور شیروں کے فوٹو لیتا تھا۔ اس طرح اس نے تقریباً دس ہزار فوٹو حاصل کئے اور پھر واپس چلا گیا۔
فوٹو گرافر سے پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ یہاں ایک ماہانہ میگزین نکلتا ہے۔ مہینہ کسی خاص جانور کے فوٹو شائع کرتا ہے۔ آئندہ ہمارامیگزین شیر کے فوٹو شائع کرنے والا ہے۔
میں نے جو فوٹو لیے ہیں، ان میں سے ایک سو فوٹو چنے جائیں گے اور ان کو میگزین میں شائع کیا جائے اس میگزین کی اشاعت ایک لاکھ ہے، اور ہر ایک شمارہ کی قیمت ڈیڑھ سو روپیہ جوتی ہے۔ فوٹو گر افرنے واپسی کے بعد اپنے میگزین کا وہ شمارہ سید مسعود الحسن صاحب کے پاس بھیجا جس میں اس کے فوٹو شائع کئے گئے تھے۔ اس کو میں نے دیکھا۔ آرٹ پیپر پر شیروں کی نہایت عمدہ تصویریں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ تصویریں شیر کی زندگی کے ہر پہلو سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ میگزین گو یا شیر کی بابت ایک فلم ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ قوموں کی صحافت کا معیار کتنا بلند ہے۔ سید مسعود الحسن صاحب سے میں نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر سالم علی کی سوانح حیات پڑھی ہے جس کا نام ہے :