Look at this bush chat
Al-Risala, May 1989, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی کا نام ذہنی ارتکاز ہے، اور اسی ذہنی ارتکاز میں تمام بڑی بڑی ترقیوں کا راز چھپا ہوا ہے۔ بہت سے ہندو بھائی رہائش گاہ پر اور اجتماعات میں آئے۔ یہ زیادہ تر وہ لوگ تھے ہو یا تو الرسالہ (انگریزی) پڑھتے ہیں یا اردو الرسالہ کسی سے پڑھوا کر سنتے ہیں۔ انھوں نے عام طور پر یہ بات کہی کہ الرسالہ کو ہندی زبان میں نکالا جانا چاہئے۔ ایک ہندو نوجوان نے کہا ، میرے جیسے کتنے لوگ ہیں جو ابھی تک اندھیرے میں ہیں۔ ان کو ہندی الرسالہ سے روشنی ملے گی۔ مسٹر راج تیواری کو الرسالہ سے اتنی دلچسپی ہے کہ اس کو براہ راست پڑھنے کے لئے انھوں نے اردو سیکھنا شروع کر دیا ہے۔ سے پہلے وہ انگریزی الرسالہ پڑھ رہے تھے۔
ایک نوجوان نے "آٹوگراف" کے لئے کہا۔ میں نے اپنے دستخط کے ساتھ ان کو یہ جملہ لکھ کر دے دیا: زندگی آسانیوں کا چمنستان نہیں، زندگی مشکلوں کا خارزار ہے۔
بھوپال سے دہلی کے لئے انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ ۴۳۴ سے واپسی ہوئی۔ ائیر پورٹ پر کئی لوگ آگئے تھے۔ یہاں ایک چھوٹا سا اجتماع ہو گیا۔ جس میں اسلامی دعوت سے متعلق کچھ باتیں عرض
ہوائی جہاز کی طرف بڑھاتو گیٹ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ انڈین ایئرلائنز کے عملہ کی ایک خاتون گیٹ پر اپنی ڈیوٹی پر کھڑی ہوئی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا : مولوی صاحب، میری بچی کے لئے دعا کیجئے، وہ بہت بیمار ہے۔ یہ لفظ وہ بار بار دہراتی رہی۔ اس نے اپنا نام روزی بتایا۔ حلیہ دیکھ کر اس نے سمجھا کہ یہ کوئی مذہبی آدمی ہے۔ اس بنا پر اس نے دعا کے لیے کہا۔ جدید انسان یہ کہتا ہے کہ مولوی آدمی سیاست نہیں جانتا۔ مگر عین اسی وقت اس کا یقین ہے کہ "مولوی آدمی" روحانیت جانتا ہے۔ ایسی حالت میں داعی کو اس دروازے سے داخل ہونا چاہئے جو اس کے لئے کھلا ہوا ہے، نہ کہ وہ اس دروازہ سے اندر داخل ہونے کی کوشش کرے جو اس کے لئے بند ہے۔