Al-Risala · January 1989

10 THE TIMES OF INDIA, TUESDAY, JUNE 26, 1984

Al-Risala, January 1989, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

Carl Lewis kisses the track after winning the 200 meters at the recent U.S. Track and Field trials. With victory Lewis assured himself of a crack at Jesse Owens' record of four gold medals at the Berlin Olymples In 1936. Lewis had earlier qualified for the 100 meters, the long Jump and the 4 x 100 meters

سجدہ فطرت انسانی کی طلب ہے۔ اس طلب کا حقیقی جواب یہ ہے کہ آدمی اپنے اپنا کو اپنے خالق و مالک کے آگے جھکا دے۔ مگر انسان اپنی بے خبری کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسری دوسری چیزوں کے آگے جھکاتا ہے، جو چیز صرف ایک خدا کا حق ہے اس کو وہ غیر خدا کو دے دیتا ہے۔ پہلی تصویر امریکی کھلاڑی کارل لیویس کی ہے۔ لاس اینجلس میں دوڑ کا عالمی مقابلہ ہوا۔ ۲۲ جون 1984 کو کارل لیو یس نے اعلیٰ کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد کارل لیو یس کی ایک تصویر اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس تصویر کا عکس ہم مقابل کے صفحہ پر نقل کر رہے ہیں۔ اس تصویر میں کارل لیو یس بالکل سجدہ کی حالت میں دکھائی دے رہا ہے جس پٹری پر دوڑ کر اس نے یہ مقابلہ جیتا تھا، اس پٹری کے لئے اس کے دل میں عقیدت اور احسان مندی کا اتنا شدید جذبہ پیدا ہوا کہ پٹری پر اپنی پیشانی رکھ کر وہ سجدہ میں گر پڑا۔

یہ ایک تازہ مثال ہے جو بتاتی ہے کہ انسانی فطرت میں کس طرح یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ کسی کو اپنا محسن سمجھے اور اس کے آگے اپنے بڑھے ہوئے جذبات عقیدت کو پیش کر سکے۔

یہ مثال وہ کہتی جب کہ احساس شکر کے تحت آدمی زمین پر گر پڑتا ہے۔ اب دوسری مثال لیجئے جس میں احساس عجز نے انسان کو مجبور کیا کہ وہ زمین پر آپ سر رکھ دے۔ یہ مثال ۲۹ سالہ جان میک انرو کی ہے۔ وہ امریکہ کے رہنے والے ہیں۔ وہ ۱۹۸۱ سے بیڈ منٹن کے عالمی چیمپین تھے۔ 24 جون ۱۹۸۸ء

کو ان کا مقابلہ آسٹریلیا کے ۲۵ سالہ والی ما سور سے لندن میں ہوا۔ اس مقابلہ میں جان میک انرو کو ان کی عالمی چیمپئن کی حیثیت ختم ہوگئی (ہندوستان ٹائیمز ۔ ۲۵ جون ۱۹۸۴) جان میک انرو پر اس واقعہ کا زبردست اثر پڑا۔ تاہم انھوں نے اپنی شکست کی ساری ذمہ داری خود قبول کی۔ انھوں نے کہا کہ میں بالکل بنیادی تقاضے بھی پورے نہ کر سکا، اس نے مجھے بیمار بنا دیا :

I couldn't even do the basics. It almost made me sick. اس سلسلہ میں اخبارات میں جو رپورٹ شائع ہوئی ہے ، اس میں جان میک انرو کی ایک تصویر بھی شامل ہے۔ اس تصویر میں سابق چیمپین بالکل سجدہ کی حالت میں زمین پر گرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ دراصل انسانی عجز کا اعتراف ہے۔

یہ دونوں جذبات (احساسِ شکر اور احساس عجز ، انسانی فطرت کے نہایت گہرے جذبات اس دنیا میں انسان کبھی پاتا ہے اور کبھی کھوتا ہے۔ کبھی کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ناکام۔ جب کامیاب ہوتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کامیابی کو کسی کا عطیہ قرار دے کر اس کا شکر ادا اسی طرح جب وہ ناکام ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہاں کوئی اور طاقت ہے جو سب کے اوپر ہے۔ یہ جذبہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس قادر مطلق کے آگے جھک جائے ۔ یہ جذبات انسانی فطرت کے نہایت گہرے جذبات ہیں۔ کوئی بھی انسان ان سے خالی نہیں۔ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب۔ انسانی فطرت کا علمی مطالعہ کرنے والے ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ جذبات انسانی فطرت میں اس طرح پیوست (Interwoven) ہیں کہ ان کو کسی بھی طرح انسان سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ جذبہ دراصل خدا کی پرستش کا جذبہ ہے۔ اس جذبہ کا مرجع حقیقتِ دہ ہستی ہے جو انسان کی خالق یہ جذبہ اس لئے ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک کو پہچانے ، وہ اس کی عظمت کا اعتراف کرے وہ اس کے آگے اپنے آپ کو ڈال دے۔

مگر انسان فطرت کے راستہ سے انحراف کرتا ہے۔ جو چیز خدا کو دینا چاہتے وہ اسے دوسروں کو دیتا

اسی کا دوسرا نام شرک ہے۔ آدمی اگر اپنے فطری جذبات کا مرجع ایک خدا کو بنائے تو یہ توحید ہے اور اگر وہ ان کا مرجع کسی دوسری زندہ یا مردہ چیز کو بنائے تو یہ شرک ہے۔ توحید انسانی فطرت کا صحیح استعمال ہے اور شرک انسانی فطرت کا غلط استعمال۔

انسان عین فطرت کے زور پر مجبور ہے کہ وہ کسی کو اپنا ’’ خدا ‘‘ بنائے ۔ حقیقی خداچوں کہ ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا اس لئے وہ دکھائی دینے والی چیزوں کو خدا سمجھ لیتا ہے ۔ خدا کو دینا چاہئے وہ اسے غیر خدا کو دے دیتا ہے۔

انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ انسانی فطرت کوئی چیز نہیں ۔ یہ صرف خارجی حالات ہیں جو انسان کی صورت گری کرتے ہیں۔ تحقیقات اس نظریہ کو غلط ثابت کر رہی ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہم ایک امریکی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس کا خلاصہ حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوا ہے :

Printed page