Al-Risala · June 1989

The Last Temptation of Christ

Al-Risala, June 1989, pp. 7–9

By Maulana Wahiduddin Khan

اس فلم میں نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام کی جنسی زندگی کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ان کو اور ان کی والدہ محترمہ (حضرت مریم) کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے ان کے تقدس پر حرف آتا یہ فلم برطانیہ میں کھلے طور پر دکھائی جا رہی ہے مگر مذکورہ قانون کے باوجود اس فلم پر آج تک پابندی نہیں لگائی گئی اور نہ اس کے بنانے والوں کو کوئی سزا دی گئی۔

اب اسی ملک کی ایک برعکس مثال لیجئے ۔ پیٹر رائٹ (Peter Wright) ایک انگریز ہے جو ریٹائر ہونے کے بعد اب آسٹریلیا میں رہتا ہے ۔ وہ برطانیہ کے محکمہ انٹیلیجنس میں ایک اعلیٰ افسر تھا۔

ریٹائر ہونے کے بعد اس نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام اسپائی کیچر (Spy Catcher) ہے ۔ اس کتاب میں برطانیہ کے محکمہ جاسوسی کے بہت سے راز بتائے گئے ہیں۔ پیٹر رائٹ نے اپنی یہ کتاب لندن کے ایک پبلشر کے ہاتھ فروخت کی مگر اس کی اشاعت سے پہلے حکومت برطانیہ کو اس کا علم ہو گیا۔ اس نے فوراً یہ کہہ کر اس پر پابندی لگا دی کہ یہ کتاب سرکاری رازوں کی پردہ داری کے خلاف ہے۔ مصنف اور پبلشر کی تمام کوششوں کے باوجود یہ کتاب لندن سے چھپ نہ سکی۔ ۱۹۸۸ میں وہ ایک بیرونی ملک میں چھاپی گئی ہے۔ تا ہم برطانوی حدود میں اس کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے ۔

اس تقابلی مثال پر غور کیجئے ۔ ایک ہی ملک ہے۔ وہاں " تو ہین پیغمبر “ کا واقعہ ہوتا ہے مگر باقاعدہ قانون کے ہوتے ہوئے بھی اس پر پابندی نہیں لگائی جاتی ۔ دوسری طرف اسی ملک میں " توہین ریاست " کا واقعہ ہوتا ہے تو حکومت اس کے خلاف فوراً سرگرم ہو جاتی ہے اور پورا ملک اس کو اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کر دیتا ہے ۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ صرف ایک برطانیہ تو ہین ریاست کی اہمیت سے واقف ہے ، مگر تو ہین نبوت کی اہمیت کا اسے احساس یہی وہ فرق ہے جس نے ان کے یہاں دونوں مثالوں میں وہ فرق پیدا کر دیا ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ۔

اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کا اصل مسئلہ کیا ہے ۔ آج اسلام کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام کی عظمت و اہمیت جدید لوگوں کے ذہن سے نکل گئی ہے ۔ وہ اسلام کو ایک بقیمت اور آج کے لحاظ سے بے ضرورت چیز سمجھنے لگے ہیں ۔ یہی وہ حالات ہیں جس نے لوگوں کو اسلام کے خلاف بولنے کے لیے جری کر دیا ہے ۔ نہ صرف غیر مسلموں میں بلکہ خود مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو مذکورہ قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ، چنانچہ وہ اسلام کے خلاف نہایت سطحی انداز میں لکھتے اور بولتے رہتے ہیں ۔

اس وقت جڑ کا یہ ہے کہ اسلام کے بارہ میں جدید انسان کی غلط فہمی کو دور کیا جائے ۔ اسلام کی اہمیت کو آج کے انسان کے لیے دوبارہ ایک ثابت شدہ حقیقت بنایا جائے ۔ تصویر کو لوگوں کی نظر میں اتنا با عظمت بنا دیا جائے کہ کوئی آدمی اس کے خلاف بولنے کی جرأت نہ

اور اگر بالفرض کوئی شخص اس قسم کی نازیبا حرکت کرے تو اس کی بات ماحول کے اندر اپنے آپ بے وزن ہو کر رہ جائے ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے آج کوئی شخص جمہوریت (ڈیموکریسی) کے خلاف بولے تو اس کی بات موجودہ ماحول میں اپنے آپ بے وزن ہو کر رہ جائے گی۔

Printed page