Al-Risala · June 1989

مصلحتِ دعوت

Al-Risala, June 1989, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

عبداللہ بن ابی مدینہ کا ایک منافق مسلمان تھا۔ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت عناد تھا۔ چنانچہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت بے ہودہ قسم کی گستاخیاں کیں۔ آپ کی ازواجِ مطہرات کے خلاف گھناؤنے الزامات لگائے۔ حتیٰ کہ اس کا مجرم اکبر ہونا خود قرآن (النور ۱۱) میں ثبت کر دیا گیا۔

عبداللہ بن ابی کے اس مجرمانہ فعل کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق ؓ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کو قتل کردوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، اگر میں ایسا کروں تو لوگ چرچا کریں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور آپ کی ازواجِ مطہرات کی کردار کشی نہایت سنگین بات ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت بتاتی ہے کہ ایک اور بات ہے جو اسلامی نقطۂ نظر سے اس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ وہ ہے لوگوں کو اسلام کی تصویر بگاڑنے کا موقع دینا۔

ایک گستاخِ رسول کو سزا دینے میں اگر یہ اندیشہ ہو کہ لوگ اس کو بہانہ بنا کر اسلام کی دعوتی تصویر کو بگاڑنے کی کوشش کریں گے ، تو ایسی حالت میں اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی اور گستاخِ رسول کی سزا کے معاملے کو اللہ کے حوالہ کر دیا جائے گا۔ اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز دعوت اور دعوت کا مفاد ہے۔ بقیہ چیزوں کا درجہ اس کے بعد آتا ہے۔

اسلام کے اس تقاضے کی روشنی میں موجودہ مسلمانوں کے اس شدید ردِ عمل پر غور کیجیے جو انہوں نے سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف ساری دنیا میں ظاہر کیا ہے۔ معاملہ میں یہ یقینی تھا اور ہے کہ سلمان رشدی کو اگر قتل کر دیا جائے ، یا اس کے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کیا جائے تو عالمی پریس اور غیر مسلم صحافت اس کو بہت بڑے پیمانہ پر اسلام کی تصویر بگاڑنے کے لیے استعمال کرے گا۔

عبداللہ بن ابی کے قتل پر قدیم زمانے میں اسلام کو بدنام کرنے کا جو عمل کیا جاتا اس کا اثر مدینہ یا زیادہ سے زیادہ عرب تک محدود رہتا، مگر سلمان رشدی کے معاملہ میں اس کا زبر دست اندیشہ تھا کہ اس کے خلاف قتل کے فتویٰ کو لے کر سارے کرہ ارض پر اسلام کو بدنام کرنے کی مہم جاری کردی جائے گی، جیسا کہ فی الواقع ہوئی۔ سلمان رشدی کے معاملہ میں غور کرنے کا سب سے زیادہ قابلِ لحاظ پہلو یہی ہے مگر یہی وہ پہلو ہے جس کو موجودہ مسلم رہنماؤں نے اور ان کی پیروی میں عام مسلمانوں نے سب سے زیادہ نظر انداز کیا ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں نے بلاشبہ اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کی۔ رسول کے نام پر رسول کے طریقہ کی خلاف ورزی کی اس سے زیادہ سنگین مثال شاید پوری اسلامی تاریخ میں نہیں ملے گی۔

نیو یارک کے ٹائم میگزین ( ۲۰ مارچ ۱۹۸۹ء) میں اُٹا وہ کے عبد الحسین ماجد کفائی کا خط چھپا وہ سلمان رشدی کی کتاب کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ زیادہ بہتر تھا کہ رشدی کو زندہ رہنے دیا جائے اور تمام لوگ اس پر لعنت کریں ، بمقابلہ اس کے کہ رشدی کو قتل کر دیا جائے اور پھر تمام لوگ مسلمانوں پر لعنت کریں :

It is better to let Rushdie live and be cursed by fanatical Muslims than have him killed and the Muslim world cursed by all. راقم الحروف عبد الحسین ماجد کفائی کے اس تبصرہ سے متفق ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا و آخرت میں مقام محمود پر فائز کیے جا چکے ہیں۔ آپ کی شخصیت اس سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ کسی " رشدی " کی تحریریں اس کو ادنی درجہ میں بھی داغدار کر سکیں ۔ مگر رشدی کے خلاف مسلمانوں نے قتل کا فتویٰ دے کر جو ہنگامہ بر پا کیا ، اس نے اسلام کے معاندین کو اس بات کا سنہری موقع دے دیا کہ وہ اس کو لے کر اسلام کو بدنام کریں۔ وہ تمام دنیا کو یہ تاثر دیں کہ اسلام ایک خونخوار مذہب ہے ، وہ قتل و خون کا دین ہے۔ اعتبار سے دیکھا جائے تو سلمان رشدی کے خلاف ہنگامہ کر کے مسلمانوں نے پایا کچھ نہیں ، البتہ انھوں نے ایک بہت بڑی چیز کھودی اور جو چیز انھوں نے کھوئی وہ وہی چیز ہے جو اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ حیثیت رکھتی ہے اور وہ ہے دعوتِ اسلامی کے مواقع ۔

قدیم عرب میں جو ”میڈیا“ اہل کفر کے پاس تھا، وہی میڈیا اہل اسلام کے پاس بھی تھا۔ اس معاملہ میں دونوں برابر تھے۔ موجودہ زمانہ میں صورتِ حال بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ آج عالمی صحافت کا زمانہ ہے۔ مگر صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمانوں کے پاس ایک بھی ایسا اخبار یا ایسا میگزین نہیں جو عالمی سطح پر پھیلے اور تمام قوموں کے درمیان پڑھا جائے۔ طرف غیر مسلم اقوام کا حال یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر عالمی صحافت پر قابض ہیں۔ ان کے پاس ایسے اخبارات و رسائل ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں چھپتے ہیں اور ساری دنیا میں پڑھے

اس فرق نے بے حد نازک صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ وہ یہ کہ مسلمانوں کی بات صرف ان کے اپنے مقامی یا گروہی پرچوں میں چھپتی ہے، وہ اس کو خود ہی چھاپتے ہیں اور خود ہی پڑھتے ہیں۔ جبکہ فریق ثانی کا یہ حال ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف باتوں کو اپنے عالمی پرچوں میں چھاپتا ہے اور رات دن کے اندر ان کو ساری دنیا میں پھیلا دیتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں کو نازک معاملات میں ہنگامہ آرائی کرنے سے انتہائی حد تک پرہیز کرنا چاہیے۔ کیونکہ موجودہ حالت میں ان کی ہنگامہ آرائی کا کوئی مثبت فائدہ تو ان کو نہیں پہنچے گا، البتہ یہ منفی نقصان ہو گا کہ غیر مسلم عالمی صحافت اس کو شوشہ بنا کر ساری دنیا میں انہیں بدنام کرے گی۔ وہ بے بسی کے ساتھ اپنی اور اسلام کی بدنامی کو دیکھیں گے اور اس کے دفعیہ کے لیے کچھ نہ کر سکیں گے۔

Printed page