Al-Risala · June 1989

دورِ اول کی مثال

Al-Risala, June 1989, pp. 14–18

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا عام خیال یہ ہو گیا ہے کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی یا اس کا استہزاء ایک ایسا جرم ہے جو علی الاطلاق طور پر مجرم کو واجب القتل بنا دیتا ہے۔ یعنی جیسے ہی کوئی شخص ایسے الفاظ بولے جو مسلمانوں کو رسول اللہ کی شان میں گستاخی نظر آئے ، اس کو فوراً قتل کر دیا جائے۔ اس قسم کا مطلق نظریہ شرعی اعتبار سے بے بنیاد ہے ، اسلام میں اس کے لیے کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے ساتھ استہزاء کا معاملہ کوئی اتفاقی نہیں۔ فعل بلا استثناء خدا کے تمام پیغمبروں کے ساتھ ہمیشہ جاری رہا ہے (الحجر ۱۱ ، الزخرف ۷) قرآن میں تقریباً ۵۰ مقامات پر بتایا گیا ہے کہ پیغمبروں کے معاصرین نے پیغمبروں کا استہزاء اور انھوں نے ان کی شان میں گستاخیاں کیں۔ مگر ایک جگہ بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جہاں بھی کوئی شخص پیغمبر کا مذاق اڑائے ، فوراً اس کو قتل کر دو۔ ایسے کسی شخص کو ہرگز زندہ نہ

قرآن میں استہزاء کے جرم کا ذکر تو بار بار آیا ہے مگر اس کے مجرم کے لیے سزائے قتل کا اعلان سارے قرآن میں کہیں بھی موجود نہیں۔ قرآن میں مستہزئین رسالت کے سلسلہ میں صرف دو قسم کے ردِ عمل کا ذکر پایا جاتا ہے۔ یا تو دلائل کے ساتھ ان کی کہی ہوئی بات کو رد کیا گیا ہے ، یا انہیں خدا کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے۔

یہ استہزاء کرنے والے غیر مسلمین بھی ہوتے تھے (یونس ۳۰) اور منافق قسم کے مسلمان بھی (البقرہ ۶۴ ، التوبہ ۶۵) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دونوں قسم کے لوگوں کی طرف سے یہ معاملہ اپنی بدترین صورت میں پیش آیا۔ مگر مجرد استہزاء کی بنا پر قرآن میں نہ غیر مسلموں کے لیے قتل کی قانونی سزا کا حکم دیا گیا اور نہ منافق مسلمانوں کے لیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر رسول کی اہانت اور آپ کے ساتھ گستاخی کو اس طرح مطلق انداز میں واجب القتل جرم قرار دے دیا جاتا تو یہ مجرم سے زیادہ خود اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان

کا باعث بن جاتا۔ کیونکہ اسلام کے وہ مقدس سپاہی جن کو صحابہ کرام کہا جاتا ہے ، ان کی بیشتر تعداد ابتدا ءِ عین اسی جرم میں مبتلا تھی جس کو "رسول کی شان میں گستاخی" کہا جاتا ہے۔ اگر اس جرم کا ارتکاب کرتے ہی فورا انہیں قتل کر دیا جاتا تو یہ سادہ معنوں میں صرف مجرم کا قتل نہ ہوتا بلکہ تاریخ ساز انسانوں کا قتل ہوتا۔ اس کے بعد اسلام کی وہ تاریخ ہی نہ بنتی جو بعد کو بنی، اور جو موجودہ مسلمانوں کا سب سے زیادہ پُر فخر سرمایہ ہے۔ تمام قیمتی زندگیاں اس سے پہلے ہی ختم ہو جاتیں کہ وہ اسلام قبول کریں اور دنیا کی تاریخ میں وہ عظیم الشان کردار ادا کریں جو منصوبہ الٰہی کے تحت ان کے لیے عالمی سطح پر مقدر کیا گیا تھا۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے کچھ واقعات نقل کیے جاتے ہیں۔ یہ واقعات بطور حصر نہیں ہیں، بلکہ صرف بطور مثال ہیں۔ غیر مسلموں کے واقعات درج کیے جائیں گے ، اور اس کے بعد کچھ مسلمانوں کے واقعات۔ مستقبل پر نظر قدیم مکہ میں جو ممتاز افراد تھے، ان میں سے ایک شخص کا نام سہیل بن عمروو تھا۔ بن عمر کا شمار صحابہ کی فہرست میں ہوتا ہے۔ مگر اس سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھے۔ وہ بدر کی لڑائی میں مشرکین کی طرف سے شریک ہوئے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں مشرکین کو شکست ہوئی۔ ان کے ۷۰ آدمی گرفتار کر کے مدینہ ان میں سے ایک سہیل بن عمر و بھی تھے۔

سہیل بن عمرو کے اندر زبان آوری کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔ وہ خطیب قریش کہے اپنی اس صلاحیت کو انھوں نے بھر پور طور پر اسلام کے خلاف استعمال کیا۔ شعر اور خطابت کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے۔ اور آپ کے خلاف اور اسلام کے خلاف لوگوں کو اکساتے رہتے تھے۔ جب وہ گرفتار ہو کر مدینہ آئے اور ان کے اوپر مسلمانوں کو پوری طرح قابو ہو گیا ، تو حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجیے کہ میں سہیل بن عمرو کے سامنے کے دانت توڑ دوں۔ اس طرح اس کی زبان باہر نکل پڑے گی اور اس کی آواز خراب ہو جائے گی۔

اس کے بعد وہ اس قابل نہ رہے گا کہ آپ کے خلاف خطیب بن کر کھڑا ہو سکے۔ بظاہر یہ ایک جائز بات تھی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ماننے سے انکار آپ نے فرمایا کہ میں اس کا مثلہ نہیں کروں گا۔ اگر میں اس کا مسئلہ کروں تو اللہ میرا مسئلہ کرے گا، اگرچہ میں ایک رسول ہوں۔

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر سے مزید ایک بات فرمائی۔ بات بظا ہر شخصی ہے مگر وہ ایک عالمی انسانی حقیقت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آئندہ سہیل بن عمر و ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں تم ان کی مذمت نہ کر سکو۔ (انہ عسٰی ان يقوم مقاماً لا تذمّه) سیرت ابن ہشام ، الجز رثانی ، صفحه 293) چنانچہ مثلہ یا قتل کے بغیر سہیل بن عمر و کو چھوڑ دیا گیا کہ وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں۔ سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غیر معمولی سلوک کیا کہ غزوہ بدر (۲ھ) کے بعد ان پر قابو پانے کے باوجود انہیں رہا کر دیا۔ مگر اب بھی وہ اپنی اسلام دشمنی سے باز نہ آئے۔ انہوں نے مکہ کے لوگوں کو دوبارہ اکسایا اور تین ہزار کی فوج لے کر مدینہ پر حملہ اس کے نتیجہ میں وہ اندوہناک جنگ پیش آئی جس کو غزوہ احد (۳ھ) کہا جاتا ہے۔ یہی سہیل بن عمر و تھے جنہوں نے معاہدہ حدیبیہ (۶ھ) کے موقع پر لفظ رسول کو کاغذ سے محو کرایا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی یک طرفہ شرائط پر راضی ہونے کے لیے مجبور کیا تھا۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی مدد فرمائی ۔ ۸ھ میں مکہ فتح ہو گیا۔ تک سہیل بن عمر و کفر کی حالت میں تھے۔ مگر اب بھی ، ثابت شدہ جرائم کے باوجود ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ اس کے برعکس آپ نے اپنے اصحاب کو ان کے ساتھ حسن اخلاق کی ہدایت فرمائی۔ آپ نے کہا :

من لقّى سهيل بن عمر و فلا يحد اليه جو شخص سہیل بن عمرو سے ملے ، وہ اس کی النظر فلعمری ان سهیلاً له عقل طرف تیز نگاہوں سے نہ دیکھے ۔ میری جان کی قسم! وشرف و ما مثل سهيل يجهل الاسلام بلاشبہ سہیل عقل اور شرف والا آدمی ہے۔

اور سہیل جیسا آدمی اسلام سے بے خبر نہیں رہ

سہیل بن عمرو کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایتیں جاری رہیں۔ کے بعد آپ نے ان کو ایک سو اونٹ تالیف قلب کے طور پر دیے۔ اس عطیہ کے بعد وہ بالکل ڈھیر پڑے اور اسلام قبول کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی بن گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب قبائل میں یہ تاثر پھیل گیا کہ وہ شخص دنیا سے چلا گیا جس کی وجہ سے اسلام کو خدا کی مدد ملتی تھی۔ چنانچہ عرب قبائل کی اکثریت ارتداد کی طرف مائل ہوگئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو مکہ کے بیشتر لوگوں نے یہ چاہا کہ وہ اسلام سے پھر جائیں۔ انہوں نے اس کا پورا ارادہ کر لیا۔ مکہ کی فضا اتنی خراب ہوئی کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید روپوشی ہو گئے۔

مذکورہ سہیل بن عمر و اس وقت تک اسلامی جماعت کے ایک فرد بن چکے تھے۔ خطیب ہونے کے ساتھ ایک بارعب شخصیت والے آدمی تھے۔ جب انھوں نے مکہ کا یہ حال دیکھا تو وہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اپنی اعلیٰ خطیبہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک پرزور تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ سن لو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نے اس کے سوا کچھ اور نہیں کیا ہے کہ اس نے اسلام کی قوت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جو شخص ہمارے خلاف کچھ کرے گا، ہم تلوار سے اس کی گردن مار دیں گے۔

سہیل بن عمر و کی گرج دار تقریر کو سن کر لوگوں نے رجوع کر لیا۔ انھوں نے اسلام سے پھرنے کا جو ارادہ کیا تھا، اس سے باز آ گئے۔ اس کے بعد عتاب بن اسید بھی روپوش سے راوی کہتے ہیں کہ یہی مطلب تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا کہ ہو سکتا ہے کہ ایک دن وہ ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں وہ تمہارے نزدیک قابلِ مذمت نہ ہوں بلکہ قابل تعریف ہوں ۔ (سیرت ابن ہشام ، الجزء الرابع ، صفحه ۳۷۶)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ آپ کی نظر حال پر نہیں رکتی تھی۔

آپ آدمی کے حال سے گزر کر اس کے مستقبل کے امکانات کو دیکھتے تھے۔ ایک انسان کا آج اگر باغیانہ ہے تو اس کو نظر انداز کر کے آپ یہ سوچتے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ ہمارا وفادار ہو جائے ۔ اور پھر اس کی وہ خدا داد صلاحیتیں جو اس وقت اسلام کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، وہ اسلام کی تائید میں استعمال ہونے لگیں تاریخ بتاتی ہے کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔

Printed page