اگلی نسلوں تک انتظار
Al-Risala, June 1989, pp. 18–20
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی تاریخ میں ۱۰ نبوی کو عام الحزن کہا جاتا ہے ، کیونکہ اسی سال اولاً ابو طالب اور اس کے بعد حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہو گیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ کے حالات انتہائی حد تک غیر موافق ہو گئے ۔ اس کے بعد آپ نے اسی سال مکہ سے طائف کا سفر کیا۔ سفر اس امید میں تھا کہ شاید طائف میں آپ کے لیے کام کے موافق حالات مل سکیں ۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ طائف کے سرداروں (عبد یالیل ، مسعود، حبیب) نے آپ کے ساتھ بے حد گستاخی اور اہانت کا سلوک کیا۔ مزید یہ کہ انھوں نے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جو آپ کی ہنسی اڑائیں اور آپ پر پتھر برسائیں۔ آپ اس حال میں طائف سے واپس ہوئے کہ پتھروں کی مار سے آپ کا جسم خوں آلود ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عائشہؓ سے فرمایا کہ میری زندگی کا سب سے زیادہ سخت دن وہ ہے جو طائف کے سفر کے موقع پر گزرا صحیح بخاری (باب ذکر الملائکہ) میں ہے کہ جب آپ طائف سے زخم خوردہ اور غمگین حالت میں واپس لوٹ رہے تھے تو قرن ثعالب کے مقام پر حضرت جبرئیل آپ کے پاس آئے انھوں نے آپ کو آواز دے کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کے سلوک کو دیکھا۔ اب اللہ نے ملک الجبال (پہاڑوں کے فرشتہ) کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آپ اہل طائف کے بارہ میں جو کچھ چاہتے ہیں، اس کا انہیں حکم دیں ۔
اس کے بعد ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) سامنے آیا۔ اس نے آپ کو سلام کیا اور
میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ اگر آپ کہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو باہم ملا کر اس کے درمیان طائف کی بستی کو پیس ڈالوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے وہ انسان پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے۔ (ارجوان يخرج الله من اصلابهم من يعبد الله لا يشرك به شيئا)
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر موجودہ نسل نہ مان رہی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اگلی نسلوں تک انتظار کرنے کے لیے تیار تھے۔ موجودہ لوگوں کی طرف سے توہین اور سرکشی کا تجربہ ہونے کے باوجود آپؐ اس امید میں انھیں ہلاک کرنا پسند نہیں کرتے تھے کہ شاید ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد میں وہ انسان پیدا ہو جو خدا کی خدائی کا اعتراف کرے اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد کے دور میں طائف کے تمام باشندے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام کی راہ میں بڑے بڑے کارنامے انجام مثلاً ابو عبیدہ مسعود ثقفی انہیں اہل طائف کی اولاد تھے۔ وہ اس مسلم فوج کے قائد تھے جس نے حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کے زمانہ میں ایران میں جہاد کیا۔ انھوں نے ہاتھیوں کی فوج کے مقابلہ میں غیر معمولی جانبازی دکھا کر ایرانی فوجوں کو اس قدر مرعوب کیا کہ انہوں نے جنگ کا حوصلہ کھو دیا۔
محمد بن القاسم ثقفی (۱۱، ۷۹۵ھ) میں سندھ کے راستہ سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ وہ ایک انتہائی عادل اور باصلاحیت سردار تھا۔ اس نے صرف دو سال کے عرصہ میں سندھ اور پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اسلام کی اشاعت کی کہ ایک پورا علاقہ اللہ کے دین کے سایہ میں آگیا۔ موجودہ پاکستان محمد علی جناح کی دین نہیں بلکہ حقیقتاً وہ محمد بن القاسم ثقفی کی دین ہے۔
محمد بن القاسم اتنا لائق اور شریف سردار تھا کہ جب وہ ہندوستان سے واپس ہو کر دمشق گیا تو ، فتوح البلدان کے بیان کے مطابق ، اہل ہند اس کے لیے روئے اور اس کا مجمع
بن کر اس کی تعظیم و تقدیس کی (فبکی اہل الھند وصودوہ) اسلام کا یہ قیمتی مجاہد اسی قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا جس کی بدترین گستاخی اور ایذارسانی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر معاف کر دیا تھا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی اگلی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کے عبادت گزار بنیں گے۔
قبیلہ ثقیف (اہل طائف) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی اور ایذارسانی کا بدترین فعل کیا تھا۔ مزید یہ کہ ان کو سزا دینے کا معاملہ پوری طرح آپ کے قابو میں تھا، کیونکہ پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ کے حکم کے نفاذ کے لیے آ چکا تھا۔ مگر آپ نے انہیں سزا دینے کے بجائے اس کو پسند کیا کہ ان کی نسلوں سے ایسے افراد نکلیں جو اسلام کے سپاہی بن کر اسلام کی تاریخ بنائیں۔
حالات بتاتے ہیں کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔ اگر آپ طائف والوں کی گستاخی کی سزا دینے کے لیے ملک الجبال کو استعمال کرتے تو طائف آج صرف کھنڈروں کی داستان ہوتا، نہ کہ اسلام کے قلعہ کی تعمیر کی شاندار تاریخ۔