Al-Risala · June 1989

آج کا دشمن کل کا دوست

Al-Risala, June 1989, pp. 20–22

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی مخالفین میں سب سے بڑا کردار جس شخص نے ادا کیا، وہ مکہ کا عمروبن ہشام ہے جو تاریخ میں ابو جہل کے نام سے مشہور ہے۔ ابو جہل کے لڑکے کا نام عکرمہ تھا۔ عکرمہ آج اصحاب رسول کی معزز فہرست میں شامل ہیں، مگر فتح مکہ سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت مخالف تھے اور اس معاملے میں پوری طرح اپنے باپ کے ساتھ تھے۔ گستاخی اور جارحیت کی کوئی قسم نہ تھی جو انھوں نے آپ کے خلاف اختیار نہ کی ہو۔ حتیٰ کہ اپنے باپ کی موت کے بعد بھی وہ بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سرگرم رہے۔ مثلاً غزوہ احد میں مشرک فوج کے میمنہ کے سردار خالد بن ولید تھے، اور میسرہ کے سردار عکرمہ بن ابی جہل۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عکرمہ کا جرم اتنا واضح تھا کہ فتح مکہ کے بعد وہ مکہ کو چھوڑ کر یمن کی طرف بھاگ گئے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ ضرور قتل کر دیے جائیں گے۔

ان کی بیوی جو مسلمان ہو گئی تھیں ،وہ یمن جا کر باصرار انہیں واپس لے آئیں ۔ شرمساری کے ساتھ اپنا سر جھکائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ مجھے امان ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں ، تم کو امان ہے ۔ اس سلسلہ میں تفصیلی واقعات سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار انھوں نے کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔

عکرمہ جب یمن سے واپس ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عکرمہ تمہارے پاس آ رہے ہیں۔ تم ان کے باپ (ابو جہل) کو بُرا نہ کہنا۔ کیونکہ مُردہ کو بُرا کہنا مُردہ تک تو نہیں پہنچتا، البتہ وہ زندہ کو تکلیف دیتا ہے۔ عکرمہ جب آپ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت خوش ہو کر ان کی طرف تیزی سے بڑھے حتیٰ کہ آپ کی چادر آپ کے اوپر سے گر پڑی۔ اسلام قبول کر نے کے بعد عکرمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں آپ سے ایک چیز طلب کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم طلب کرو میں تمہیں ضرور وہ چیز دوں گا۔ عکرمہ نے کہا کہ میری آپ سے یہ درخواست ہے کہ ہر دشمنی جو میں نے آپ کے ساتھ کی ہے، یا ہر رُکاوٹ جو میں نے آپ کے راستہ میں ڈالی ہے ، ہر وہ لڑائی جو میں نے آپ کے خلاف لڑی ہے ، ہر وہ بد کلامی جو میں نے آپ کے منہ پر کی ہے یا آپ کے پسِ پشت کی ہے ، ان سب کو آپ معاف کر دیں اور ان کے بارے میں اللہ سے میرے لیے استغفار فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہی ان کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! ہر وہ عداوت جو عکرمہ نے میرے ساتھ کی ، ہر وہ سرگرمی جو انھوں نے اس ارادہ سے کی کہ تیرے نور کو بجھا دیں، ان سب کو تو ان کے لیے معاف کر دے اور وہ سب کچھ جو انھوں نے میری بے آبروئی کے لیے کیا ، خواہ میرے سامنے کیا ہو یا میرے پسِ پشت ، ان سب کو تو ان سے معاف کر دے ۔ اس کے بعد عکرمہ نے کہا کہ اے رسول اللہ ! خدا کی قسم ! ہر وہ خرچ جو میں اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کرتا تھا ، اب میں اس کا دُگنا اللہ کے راستہ میں خرچ کروں گا۔ اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جو جنگیں میں نے کیں ، اب اللہ کے راستہ میں اس سے

دگنا جنگ کروں گا۔ چنانچہ اس کے بعد عکرمہ اپنی جان اور اپنے مال کیساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں لگ گئے۔ وہ برابر اسی میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ وہ یرموک کے معرکہ میں زبردست جانبازی دکھاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ (حیات الصحابہ طبع دمشق، الجزئر الاول، صفحہ ۱۷۷-۱۷۶) عکرمہ نے گستاخی سے لے کر جارحیت تک ہر جرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بظاہر وہ صرف اس قابل تھے کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاتل نہیں تھے، داعی تھے۔ آپ نے عکرمہ کے ”آج “ میں ایک چھپا ہوا کل ”دیکھتا یہی وہ داعیانہ نگاہ تھی جس کی بنا پر آپ نے انہیں یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ بعد کے واقعات نے بتایا کہ آپ کا اندازہ نہایت درست تھا۔ چنانچہ دشمن عکرمہ کے اندر سے ایک دوست عکرمہ بر آمد ہوا۔ جو شخص اپنی ابتدائی زندگی میں کفر کا کھمبا بنا ہوا تھا، وہ اپنی بعد کی زندگی میں اسلام کا ستون بن گیا۔

Printed page