Al-Risala · June 1989

اسلام قبول کرنے کے بعد

Al-Risala, June 1989, pp. 22–26

By Maulana Wahiduddin Khan

اوپر ان لوگوں کی مثال نقل کی گئی ہے جو قبولِ اسلام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہوئے مگر انہیں سزا دینے کی بجائے ان کو معاف کر دیا گیا۔ اب کچھ ایسی مثالیں درج کی جاتی ہیں جب کہ آدمی نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی شان میں گستاخی کی اور آپ کو اذیت پہنچائی۔ اس کے باوجود اس مسلمان کو قتل کی سزا نہیں دی گئی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ‘ مجھ سے ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے مقسم بن ابوالقاسم مولیٰ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل کی روایت بیان کی ۔ انھوں نے کہا کہ میں اور تلید بن کلاب اللیثی دونوں نکلے، یہاں تک کہ ہم عبداللہ بن عمروبن العاص کے پاس پہنچے۔ وہ اپنا جوتا ہاتھ میں لٹکائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا۔ کیا آپ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب حنین کے دن تمیمی نے آپ سے بات کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ بنو تمیم کا ایک شخص آپ کے پاس آیا، اس کو ذو الخویصرہ کہا جاتا تھا۔ آپ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو مال غنیمت دے رہے تھے (وہ دیکھ رہا یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اے محمد، میں نے اس کو دیکھ لیا جو آپ نے آج کیا ہے۔

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، پھر تم نے کیا دیکھا۔ اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے عدل کیا ہو ( لم أرَكِ عدلت )۔

عبد اللہ بن عمر و بن العاص نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو گئے ۔ آپ نے کہا کہ تیرا بُرا ہو، اگر میرے پاس عدل نہیں ہو گا تو پھر کس کے پاس عدل ہو گا ۔

حضرت عمر بن الخطاب نے یہ سن کر کہا کہ اے خدا کے رسول ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں۔ آپ نے کہا کہ نہیں ، اس کو چھوڑ دو ۔ عنقریب اس کی ایک جماعت ہو گی جو دین میں تعمق کرے گی ، یہاں تک کہ وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ تیر شکار سے۔ (سیرۃ ابن ہشام ، الجزء الرابع ، صفحہ ۴۴۱)

مذکورہ مسلمان ( ذو الخویصرہ ) کے معاملہ پر غور کیجئے ۔ اس نے خدا کے رسول کی شان میں جو گستاخی کی وہ سادہ معنوں میں صرف ایک لفظی گستاخی نہ تھی ، وہ خود آپ کی حیثیت رسالت پر ضرب لگانے کے ہم معنی تھی ۔ اس شخص نے آپ کی عدالت پر شبہ کیا تھا اور آپ کو اپنے خیال کے مطابق غیر عادل بتایا تھا ۔ یہ بات انتہائی حد تک سنگین ہے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت قرآن کے راوی کی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے واسطہ جبریل خدا کا کلام پایا ہے ۔ اور اس کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں ۔ آپ کی اسی روایت پر یقین کر کے ہم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں ۔

یہ معلوم ہے کہ کسی روایت کو قبول کرنے کے لیے راوی کا عادل ہونا شرط لازم ہے ۔ جس راوی کی عدالت مشتبہ ہو ، اس کی روایت کبھی قبول نہیں کی جائے گی ۔ ایسی حالت میں مذکورہ تمیمی مسلمان کا آپ کو غیر عادل بتانا گویا آپ کے راوی قرآن ہونے کی حیثیت کو مشتبہ قرار دینا ہے ۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ سخت بات ہے جو آپ کے خلاف کہی جاسکتی مذکورہ شخص نے اتنی سنگین بات کہی ، اس کے باوجود اس کو نہ کوئی سزا دی گئی اور نہ اس کو قتل کیا گیا ۔

کیا اس کے بعد بھی اس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کہ رسول اللہ کی شان

میں گستاخی بجائے خود موجب قتل جرم نہیں ہے۔ کسی کے واجب القتل ہونے کے لیے اسی کے ساتھ کچھ مزید اسباب درکار ہیں۔ مثلاً ریاست اسلامی سے بغاوت۔ چند افراد جو دورِ اول میں قتل کیے گئے ہیں، ان کا معاملہ اسی دوسرے حکم کے تحت آتا ہے ۔ سے بغاوت کے جرم میں قتل کیا گیا نہ کہ مجرد گستاخی رسول کے جرم میں۔ ۲ شعبان6 ھ میں وہ غزوہ پیش آیا جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوہ بنی المصطلق کہا جاتا ہے ۔ اس غزوہ کے لیے جو لشکر روانہ ہوا، اس میں عبد اللہ بن ابی اور دوسرے بہت سے منافق قسم کے مسلمان بھی شریک تھے۔ یہ لوگ اپنی بے حسی اور بے خوفی کی بنا پر معمولی باتوں کو شوشہ بنا لیتے اور رسول اللہ ﷺ اور مخلص مسلمانوں کے خلاف فتنے برپا کرتے رہتے ۔ اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر بھی آپ کے ساتھ واپسی میں فوج نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا۔ حضرت عائشہ حسب معمول رات کے آخری حصہ میں رفع حاجت کے لیے دور چلی گئیں۔ اس وقت ان کے گلے میں ایک معمولی قسم کا ہار تھا، وہ اتفاق سے ٹوٹ کر گر پڑا ۔ حضرت عائشہ اس کو تلاش کرنے لگیں ۔ کی وجہ سے اس میں بہت زیادہ دیر لگ گئی۔

حضرت عائشہ ابھی لوٹی نہیں تھیں کہ قافلہ روانہ ہو گیا ۔ قاعدہ یہ تھا کہ کوچ کے وقت حضرت عائشہ اپنے ہودج میں بیٹھ جاتی تھیں جو چاروں طرف کپڑے سے ڈھکا ہوتا تھا ، اور چار آدمی اس کو اٹھاکر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ حضرت عائشہ اس وقت ایک چھوٹی اور دُبلی خاتون تھیں ۔ چنانچہ ہودج اٹھانے والوں کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ اس میں کوئی سواری نہیں ہے ۔ انھوں نے خالی ہودج کو اونٹ پر رکھ دیا اور اس کو لے کر روانہ ہو گئے۔ حضرت عائشہ واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ کوئی اور صورت نہ پا کر وہ وہیں چادر اوڑھ کر لیٹ گئیں ۔ صبح کے وقت صفوان بن معطل سلمی وہاں آئے جو قافلہ کے پیچھے چلنے پر مامور تھے ۔ میدان میں ایک خاتون کو دیکھ کر وہ فورا سمجھ گئے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ (عائشہ) ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اس کے سوا انھوں نے کوئی اور کلام نہ کیا۔ صرف اپنا اونٹ لا کر حضرت عائشہ کے پاس

حضرت عائشہ اشارہ کو سمجھ کر اونٹ پر سوار ہوگئیں ۔ اس کے بعد وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر تیزی سے آگے کی طرف روانہ ہو گئے ۔

دوپہر کے قریب یہ اونٹ مسلمانوں کے قافلہ سے جا ملا جبکہ وہ اگلے مقام پر ٹھہرا ہوا ابن ابی ملیکہ نے عروہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ جب اس طرح قافلہ میں پہنچیں تو منافقین کے ایک گروہ نے ان کو دیکھ لیا جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ وہاں بیٹھا ان کے سردار عبد اللہ بن ابی نے پوچھا کہ یہ کون ہے ۔ لوگوں نے بتایا کہ عائشہ ہیں۔ اس نے کہا کہ خدا کی قسم نہ یہ اس سے بچی ہیں اور نہ وہ ان سے بچا ہے۔ اس نے مزید کہا کہ تمہارے پیغمبر کی بیوی نے ایک غیر شخص کے ساتھ رات گزاری ، یہاں تک کہ صبح ہو گئی ، اب وہ ان کو لے کر آ رہا ہے۔ (قال عبد الله بن ابی رئيسهم من هذه ۔ قال : والله ما نجت منه وما نجامتھا۔ وقال : امرأة نبيكم باتت مع رجل حتى اصبحت ثم جاء يقود بها ، (التفسیر المظهري؛ المجلد السادس، صفحه ۴۴۷) اس کے بعد جب یہ قافلہ مدینہ پہنچا تو عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھی سرگرم ہو گئے ۔ انھوں نے اس معاملہ کو پروپیگنڈہ کا ایشو بنایا اور اس کو بھر پور طور پر آپ کے خلاف استعمال یہاں تک کہ سارے شہر میں ہنگامی حالت پیدا ہو گئی۔ ہر طرف اس کا چرچا تھا، ہر زبان پر اسی کا تذکرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید ذہنی اذیت میں مبتلا تھے ۔ حضرت عائشہ کا یہ حال تھا کہ وہ رات دن روتی رہتی تھیں ۔ اس قصہ کی تفصیلات حدیث اور سیرت کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

یہ ہنگامی صورتِ حال ایک مہینہ تک جاری رہی۔ یہاں تک کہ سورہ النور کی آیتیں ۱۱- ۲۱ اتریں ۔ ان آیات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا کہ عائشہ مکمل طور پر معصوم اور بے قصور ہیں ۔ اس معاملہ میں سارا جرم یک طرفہ طور پر عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کا ہے۔ اس طرح یہ سنگین معاملہ براہِ راست خدائی مداخلت کے ذریعہ

عبد اللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا ۔

مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھتا تھا۔ اس کے باوجود اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہلِ بیت کے ساتھ اتنا بڑا بہتان تراشا۔ خود قرآن کی گواہی (النور: ۱۱) کے مطابق، اس معاملے میں عبد اللہ بن ابی سب سے بڑا مجرم تھا۔ قرآن میں اس کے ابلیسی جرم کا اعلان کیا گیا، مگر اس کے لیے کوئی قانونی سزا تجویز نہیں کی گئی۔ اس کی سزا کے معاملے کو تمام تر آخرت پر چھوڑ دیا گیا۔ چنانچہ وہ اس واقعے کے بعد زندہ رہا، یہاں تک کہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مر کر وہ اپنا حساب دینے کے لیے خدا کے یہاں چلا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضرت عمر فاروق نے عبد اللہ بن ابی کی بابت کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (صفحہ ۷۰) ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے مزید یہ فرمایا کہ ہم اس کے ساتھ نرمی برتیں گے اور بہتر سلوک کریں گے، جب تک وہ ہمارے درمیان رہے (وفی نتفرق به ونحسن صحبته ما بقى معنا، تفسير ابن كثير، الجزء الرابع صفحه ۷)

عبد اللہ بن ابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو کچھ کیا، وہ آپ کی اور آپ کے اہلِ بیت کی کردار کشی کی بدترین صورت تھی۔ یہ پیغمبر کے خلاف اتنی بڑی مجرمانہ حرکت تھی کہ اس سے بڑی کسی مجرمانہ حرکت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مدینہ کے حاکم تھے۔ اس اعتبار سے آپ کو عبد اللہ بن ابی کے اوپر کامل قانونی اختیار حاصل تھا۔ اس کے باوجود آپ نے اس کو قتل نہیں کرایا۔ صرف اس کے جرم کا اعلان کر کے اس کو آزاد چھوڑ دیا۔

ایسی حالت میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر کے ساتھ گستاخی علی الاطلاق طور پر مستوجب قتل جرم ہے، وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جس کے لیے ان کے پاس قرآن و سنت کی کوئی دلیل

Printed page