Al-Risala · June 1989

ایک سفر

Al-Risala, June 1989, pp. 27–30

By Maulana Wahiduddin Khan

اگست ۱۹۸۸ء کی ۲۷ تاریخ تھی ۔ اور دن کے ڈیڑھ بجے کا وقت ، میں اپنے دفتر میں مطالعہ میں مشغول تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی ۔ ریسیور اٹھایا تو معلوم ہوا کہ کیلی فورنیا (امریکہ) سے ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی بول رہے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ 23-24 دسمبر ۱۹۸۸ء کو وہ لوگ امریکہ میں ایک انٹر نیشنل سیرت کانفرنس کر رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں بھی اس میں شرکت کروں ۔ انھوں نے کہا کہ آپ اتنا وقت نکال کر آئیں کہ کانفرنس میں شرکت کے بعد امریکہ کے دوسرے مقامات پر بھی آپ کے خطابات کا پروگرام رکھا جا سکے ۔ اس گفتگو کے موقع پر میں دہلی میں تھا اور ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی (ڈائر کٹر اسلامک سوسائٹی کیلی فورنیا) میں ۔ اس وقت میرے اور ان کے درمیان ۱۲ ہزار میل سے بھی زیادہ کا فاصلہ تھا ۔ مگر ٹیلی فون پر دونوں کو ایک دوسرے کی آواز اس طرح صاف سنائی دے رہی تھی جیسے دونوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے ہوں ۔ ٹیلی فونی ربط کا یہ نظام شاید اس لیے بنایا گیا ہے کہ انسان اُس دوسرے عظیم تر ربط کے بارے میں سوچ سکے جو بندے اور خدا کے درمیان اعلیٰ ربانی سطح پر قائم ہوتا ہے ۔

۱۳ ستمبر کو ان کا باضابطہ دعوت نامہ (۵ ستمبر ۱۹۸۸) بذریعہ ڈاک مل گیا ۔ ٹیلی فونٰی دعوت نامہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ " انٹر نیشنل سیرت کانفرنس" کا عمومی موضوع حسب ذیل ہوگا :

The Sirah of Prophet Mohammed and its Message for Contemporary Men and Women. میرے پاسپورٹ کے صفحات ختم ہو گئے تھے ، مگر اس کی قانونی مدت ابھی باقی تھی۔ صفحات کے اضافہ کی درخواست دی گئی ۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی کارروائی تھی ۔ ایک مہینہ کی دفتری دوڑ دھوپ کے بعد ۱۰ صفحہ کا اضافہ ہو کر پاسپورٹ دوبارہ مل سکا۔ یہ ہندوستانی دفتر کا حال تھا۔ دوسری طرف امریکی سفارت خانہ میں ویزا کی درخواست

دی گئی تو انھوں نے درخواست کے اگلے ہی دن ایک سال (۱۲ دسمبر ۱۹۸۸ تا ۱۱ دسمبر 1989)کا کا ملٹی پل ویزا دے دیا۔ یعنی اس ویزا پر میں ایک سال تک امریکہ میں قیام کر سکتا تھا۔ سال کے دوران جتنی بار چاہے وہاں جا سکتا تھا۔ جب کہ ہماری درخواست میں صرف دو ہفتہ کا ویزا مانگا گیا تھا یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ کے نظام میں وہ کیا فرق ہے جس نے ایک کو پیچھے اور دوسرے کو آگے کر دیا ہے۔

اس فیاضانہ سلوک کا سبب غالباً یہ تھا کہ انھوں نے اپنے ریکارڈ کے مطابق پایا کہ اس سے پہلے نومبر ۱۹۸۵ میں میں امریکہ گیا تو میں کانفرنس میں شرکت کے بعد فوراً واپس آگیا۔ وہاں میں نے نہ ان کی انتظامیہ کے لیے کوئی مسئلہ پیدا کیا اور نہ ناجائز طور پر زیادہ ٹھہرنے کی ترقی یافتہ ملکوں میں صرف وہ شخص مشکلات سے دوچار ہوتا ہے جو وہاں کے نظام سے انحراف کرے۔ مگر ہندوستان جیسے ملکوں میں ہر حال میں آدمی کو دفتری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خواہ اس نے مقررہ نظام سے ادنیٰ انحراف بھی نہ کیا ہو۔

آخری دنوں میں ایک مسئلہ پیش آیا۔ میرے رفیق سفر کوئی دہلی کے امریکی سفارت خانہ سے ویزا حاصل کرنے کے لیے ایک تحریر درکار تھی جس میں بتایا گیا ہو کہ امریکہ کے متعلقہ اسلامی ادارہ نے ان کو بھی میرے ساتھ کانفرنس میں شرکت کے لیے مدعو کیا ہے۔ مگر وقت اتنا کم تھا کہ ڈاک کے ذریعہ سے امریکہ کا خط ہندوستان نہیں پہونچ سکتا تھا۔ تاہم اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے امکانات کو استعمال کر کے جدید انسان نے اس مسئلہ کو حل کر لیا ہے۔ چنانچہ امریکہ کے دفتر کو بذریعہ ٹیلی فون ضرورت بتائی گئی اور ایک گھنٹہ کے اندر ان کا دستخط شدہ خط دہلی میں موجود

یہ تیز رفتار ترسیل اس آلہ کے ذریعہ ممکن ہوئی ہے جس کو موجودہ زمانہ میں تصویری مشین (Facsimile machine) کہا جاتا ہے اور جس کا مختصر نام فیکس (Fax) ہے۔ تحریر یا ایک خط تیار کر کے مشین میں ڈالیں، اور ایک سیکنڈ کے اندر وہ مطلوبہ مقام پر پہونچ کر ویسا ہی چھپا ہوا نکل آئے گا۔

ابتدائی انسانی دور میں صرف پیدل پیغام رسانی کا طریقہ رائج تھا۔ پھر گھوڑوں کا

استعمال ہونے لگا۔ اس کے بعد ٹیلی گرام ، ٹیلی فون اور فیکس کے طریقے دریافت ہوئے۔ اب ٹیلكس کے طریقے نے سب پر برتری حاصل کرلی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی زیادہ نعمتیں انسان کو دے رکھی ہیں، مگر کتنے کم لوگ ہیں جو اس کے واقعی شکر ادا کر تے ہوں۔ دہلی کا انٹرنیشنل ایرپورٹ ہے۔ انتظار گاہ میں بہت سے ملکی اور غیر ملکی مسافر دروازہ کھلنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کچھ ہندوستانیوں نے ہندوستانی ہوائی اڈوں پر تبصرہ شروع ایک شخص نے کہا کہ میں نے فلاں فلاں ملکوں کے ہوائی اڈے دیکھے ہیں ، ان کے مقابلے میں ہندوستانی ہوائی اڈے بالکل پسماندہ نظر آتے ہیں۔ قریب کی کرسی پر ایک جاپانی مسافر بیٹھا ہوا ان کی پر جوش باتیں سن رہا تھا۔ آخر میں وہی نہایت آہستگی کے ساتھ بولا : دوستو! ملک کا ہوائی اڈہ ویسا ہی ہوتا ہے جس کا وہ تحمل کر سکتا ہو اور جس کا وہ مستحق ہو ، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم :

Friends, a country gets the airports it can afford — and deserves. No more, no less. جاپانی کا یہ تبصرہ سن کر اکثر لوگ چپ ہو گئے۔ تاہم ایک شخص بولا : جناب عالی ، اصل بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی داداؤں (Political dadas) کسی حکومت اور جب تک یہ صورت حال قائم ہے ، ہمارے ملک میں کوئی ترقی نہیں ہو سکتی۔ دہلی سے پین ایم (Pan Am) کی فلائٹ نمبر ۷ کے ذریعے روانگی ہوئی ۔ ۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو صبح چار بجے کا وقت تھا کہ جہاز اپنا پر پھیلائے ہوئے رن وے پر دوڑا، اور پھر اوپر اٹھ کر پرواز یہ عین وہ انداز تھا جو کسی بڑی چڑیا کا انداز پرواز کا وقت ہوتا ہے۔ بھی عین اسی اصول کے تحت اڑتا ہے جس طرح کوئی چڑیا اڑتی ہے۔

ہوائی جہاز کیا ہے۔ ہوائی جہاز در اصل چڑیا کی مشینی نقل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہوائی جہاز کا پہلا کامیاب ماڈل وہ ہے جو نیچر (قدرت) نے تیار کیا۔ اب اگر ہوائی جہاز کی نقل تیار کرنے کے لیے ذہانت درکار ہے تو ہوائی جہاز کی اصل بنانے کا کام کیا ذہانت کے بغیر انجام پا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہوائی جہاز ، دوسری بے شمار

چیزوں کی طرح ، اس بات کا خاموش اعلان ہے کہ یہاں ایک زندہ ذہانت موجود ہے۔ کے پیچھے زندہ ذہانت کا اقرار کیے بغیر کائنات کی توجیہہ نہیں کی جا سکتی۔ ہوائی جہازوں میں سگریٹ پینے کی اجازت ہوتی ہے۔ مگر ٹوائلٹ (غسل خانہ) میں سگریٹ پینا سخت منع ہے۔ حسب معمول ٹوائلٹ کے باہر لکھا ہوا تھا کہ اس کے اندر اسموکنگ نہ کریں۔ ممانعت کے نیچے یہ سطر درج تھی :

Printed page