NATURE BEATS NURTURE
Al-Risala, January 1989, pp. 27–29
By Maulana Wahiduddin Khan
Karl Marx and Sigmund Freud were wrong about human nature. Contrary to their view, inherited qualities are far more important than upbringing in determining personality, a team of psychologists has concluded. In an eight year study at the University of Minnesota involving 350 pairs of twins, 44 of them identical, the scientists found that the influence of genes was clearly victorious in the 'nature versus nurture' dispute. The results of their research will be seen as refuting Marxist dogma that insists that man can be 'remade.' 'In particular, we found that the tendency to believe in traditional values and the strict enforcement of rules is more an inherited trait,' said one of the researchers, Dr David Lykken. The Hindustan Times, Sunday Magazine, January 4, 1987. کارل مارکس اور سگمنڈ فرائڈ انسانی فطرت کے بارے میں غلطی پر تھے۔ ان کے نقطہ نظر کے برعکس ، انسانی شخصیت کی تشکیل میں تربیت کے مقابلہ میں اندرونی پیدائشی صفات کہیں زیادہ اہم نفسیاتی ماہرین کی ایک ٹیم نے اس نتیجہ کا اعلان کیا ہے۔ منی سوٹایونیورسٹی کے تحت کیے جانے والے ۸ سالہ مطالعہ میں ، جس میں ۳۵۰ توأم جوڑے شامل تھے ، اس میں ہم ہم بالکل یکساں قسم کے تھے، سائنس دانوں نے پایا ہے کہ جینز کا اثر فطرت بمقابلہ تربیت کی بحث میں واضح طور پر غالب رہا۔ ان کی تحقیق کے نتائج مارکس کے اس مفروضہ کی تردید ہیں جس کا شدت سے یہ دعویٰ
ہے کہ انسان کو دوبارہ بنایا جا سکتا ہے۔ ریسرچ ٹیم کے ایک شخص ڈاکٹر ڈیؤڈ لکن نے کہا کہ ہم نے یہ پایا ہے کہ روایتی قدروں میں عقیدہ اور قانون کے سختی سے نفاذ کا رجحان زیادہ تر پیدائشی صفات کا نتیجہ ہے۔
مذکورہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات سے، یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک برتر ہستی (خالق) کے آگے سپردگی کا جذبہ ایک فطری اور حقیقی جذبہ ہے۔ اگر وہ غیر فطری اور غیر حقیقی ہوتا تو اس کو اب تک ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ جدید نسل ایسے حالات میں پرورش پا کر نکلی ہے جب کہ اس کے ہر طرف لادہمیت اور بے خدا تہذیب کا چرچا تھا ۔ اس کے باوجود نئی نسل میں یہ مذہبی نفسیات مسلسل طور پر باقی رہی، وہ کسی طرح ختم نہ کی جا سکی۔
سیول (کوریا)، میں ستمبر ۱۹۸۸ میں کھیلوں کے اولمپک مقابلے ہوئے ۔ اس سلسلہ میں اخبارات میں روزانہ با تصویر رپورٹیں آ رہی تھیں۔ انھیں میں سے ایک تصویر وہ تھی جو ۳۰ ستمبر کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ آپ ٹائمس آف انڈیا (۳۰ ستمبر ۱۹۸۸ ) کا صفحہ ۱۰ دیکھیں۔ وہاں ایک عورت آپ کو عین نماز کی حالت میں نظر آئے گی۔ یعنی وہ حالت جو نماز کے خاتمہ پر کسی نمازی کی ہوتی اس تصویر میں مذکورہ عورت بالکل نماز کی ہیئت میں دونوں پاؤں توڑ کر بیٹھی ہوئی ہے ۔ اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر منہ کے پاس اس طرح کیے ہوئے ہے جیسے وہ نماز سے فارغ ہو کر دعا میں مشغول ہو۔ یہ کوئی نمازی عورت نہیں ہے۔ یہ کیلی فورنیا کی ایک ۲۷ سالہ کھلاڑی خاتون ہے جس کا نام فلارنس گر فیتھ جائنز (Florence Griffith-Joyner) ہے۔ ۲۹ ستمبر کو ۲۰۰ میٹر کی دوڑ میں اس نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اور دنیا کی تیز ترین عورت (Fastest woman) قرار دی گئی۔ اس کامیابی کی خبر نے اس کی اندرونی ہستی کو بے قرار کر دیا۔ وہ ابھی اپنے کھیل کے لباس ہی میں تھی کہ وہ زمین پر گر پڑی ۔ وہ بے اختیارانہ طور پر نمازی کی ہیئت میں بیٹھ گئی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر خدا سے دعا کرنے لگی اور اس کے سامنے اظہار جذبات میں مشغول ہو گئی۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک اظہار ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک محسن اور منعم کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ چھپا ہوا ہے ۔ آدمی کو جب کوئی غیر معمولی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اندرونی جذبہ بے اختیارانہ طور پر چاہنے لگتا ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، وہ اس احسان کو حقیقی
محسن کے خانہ میں ڈال دے۔