This lavatory is equipped with a smoke detector
Al-Risala, June 1989, pp. 30–35
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اس فقرہ کا اردو میں ترجمہ کرنا چاہا تو اس کا عمدہ لفظی ترجمہ سمجھ میں نہ آیا۔ ایک لمحہ کے لیے خیال ہوا کہ اردو زبان جدید ترقی یافتہ زبانوں کے مقابلہ میں بہت پیچھے ہے۔ مگر یہ بات کلی طور پر صحیح اصل یہ ہے کہ موجودہ انگریزی زبان کا ارتقاء جن حالات میں ہوا، اس کی وجہ سے اس کے اندر مشینی خیالات کو ادا کرنے کی زیادہ بہتر صلاحیت پیدا ہوگئی۔ مگر ایک اور میدان ایسا ہے جہاں اردو (اور عربی) کو مغربی زبانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ یہ ہے روحانی تجربات یا معرفتِ ربانی والے خیالات کو ادا کرنا۔
مسٹر خوشونت سنگھ نے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ مسٹر راجیو گاندھی جہاز چلا رہے تھے۔ سے خوشونت سنگھ بھی اسی جہاز سے سفر کر رہے تھے۔ راجیو گاندھی نے خوشونت سنگھ کو پیشکش کی کہ وہ پائلٹ کے کیبن (Cookpit) میں آئیں اور دیکھیں کہ ہوائی جہاز کس طرح چلایا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز کا ایک عام مسافر صرف ہوائی جہاز کو اڑتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ وہ اس کا مشاہدہ نہیں کرتا کہ ہوائی جہاز کس طرح اڑایا جاتا ہے۔
کوئی مجھ سے پوچھے تو میں کہوں گا کہ میں چاہتا ہوں کہ کائناتی جہاز کے انجن" کو دیکھوں ۔ عالم غیب کو دیکھوں جس کے تحت یہ عالم شہود چلایا جا رہا ہے۔ موت کے بعد ہر آدمی اس کو مگر اس لذت دیدار کی سعادت انھیں لوگوں کو ملے گی جنھوں نے دنیا میں اپنی "بینائی" کی حفاظت کی ہو۔ جو لوگ دنیا میں اپنی "بینائی" کو کھو دیں انھوں نے گویا اپنے آپ کو اس ربانی مشاہدہ کے لیے نااہل بنالیا۔ وہ دنیا میں خدا کی بات کو دیکھنے سے محروم تھے، آخرت میں وہ خدا کی ذات کو دیکھنے سے محروم رہیں گے۔
دہلی اور فرینکفرٹ کے درمیان سفر کرتے ہوئے جہاز ہلنے لگا۔ تقریباً ایک گھنٹے تک شدید جھٹکے خالص فنی اعتبار سے اس قسم کے جھٹکے خطر ناک نہیں ہوتے ۔ مگر ایک عام مسافر جو ۳۵ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہا ہو اور اس کی سواری ہچکولے کھانے لگے تو اس کا غیر متاثر رہنا سخت مشکل ہے ۔ بے اختیار میری زبان سے کلمہ کے الفاظ نکلنے لگے۔
اس وقت خیال آیا کہ آخر وقت میں کلمہ پڑھنے کی اہمیت کیوں ہے ۔ اس کی روح یہ ہے کہ مومن پر آخری وقت آئے تو وہ چاہئے کہ اپنے اعمال نامہ میں کوئی آخری نیکی ریکارڈ اس وقت اس کو سب سے بہتر چیز صرف کلمہ نظر آتا ہے۔ کیوں کہ کلمہ دو سب سے بڑی حقیقت کا اعلان ہے ۔ ایک یہ کہ اس دنیا کا معبود صرف ایک اللہ ہے۔ اور دوسرے یہ کہ یہاں کامل صداقت صرف ایک ہے ، اور وہ وہی ہے جو نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ انسانوں پر ظاہر کی گئی ۔ آخر وقت میں کلمہ پڑھ کر بندہ گویا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا ، میں کوئی عمل نہ کر سکا ، اب میں اعتراف کو تیری خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ میرے پاس اقرارِ عملی کا سرمایہ تو اقرارِ لسانی کو میری طرف سے قبول کرلے ۔
ساڑھے آٹھ گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز فرینکفرٹ کے ہوائی اڈہ پر اترا ۔ فرینکفرٹ کو مغربی جرمنی کا تجارتی مرکز (Business capital) کہا جاتا ہے ۔ گویا مغربی جرمنی میں اس کی حیثیت وہی ہے جو ہندوستان میں بمبئی کی اور امریکہ میں نیویارک کی۔ ۱۹۴۴ کے ہوائی حملہ میں فرینکفرٹ تباہ ہو گیا تھا ۔ تا ہم اب چند تاریخی عمارتوں کے سوا کہیں اور اس کا نشان موجود نہیں ۔ دنیا کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں تخریب کے بعد نئی تعمیر کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ فرینکفرٹ میں ایک دکان ہے جو ۳۲۵ سال سے مسلسل جاری ہے اس کا نام میسن یہ کٹلری کی دکان ہے ۔ یہاں سے آپ ۷۰ قسم کی قینچیاں اور ایک سو قسم کی چھریالں خرید سکتے ہیں ۔ تجارت کی کامیابی سب سے زیادہ استقلال پر منحصر ہے ۔ مگر یہی صفت موجودہ مسلمانوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔
فرینکفرٹ سے پین ایم کی فلائٹ نمبر ۷۰ کے ذریعہ سفر ہوا۔ ساڑھے نو گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز نیویارک پہنچا۔ نیویارک میں باہر کا موسم کافی ٹھنڈا تھا۔ تاہم ایئر پورٹ کے اندر
کا آدمی اپنے آپ کو ایک جزیرہ میں محسوس کر رہا تھا۔ نیو یارک کو عالمی اقتصادی مرکز (World Financial Centre) کہا جاتا ہے۔ یہ جدید مواصلاتی ذرائع کا کرشمہ ہے، اس کے بغیر کسی شہر کو عالمی اقتصادی مرکز کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکتی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد تقریباً سو سال تک امریکہ کو یہ حیثیت حاصل رہی۔ مگر اب امریکہ پر زوال کے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ اعتراف حال میں خود رونالڈ ریگن نے کیا۔
پین ایم کی میگزین (دسمبر (۱۹۸۸) میں ایک مضمون سفر کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ سفر میں اگر چہ بہت سے فائدے ہیں، لیکن سفر ایک تھکا دینے والا عمل (Tiring task) کم از کم یہ بات میرے لیے صد فی صد سے بھی زیادہ صحیح ہے۔ اس سفر کے لیے جب میں دہلی سے روانہ ہوا تو گھر سے رخصت ہوئے ہوتے میری زبان سے نکلا : مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں مذبح کی طرف جا رہا ہوں۔ سفر میں خواہ بظاہر کتنی ہی چمک دمک ہو، مگر میرے لیے وہ ہلاکت خیز حد تک تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ہر بار یہ سوچتا ہوں کہ اب کبھی کسی سفر میں نہ جاؤں گا۔ مگر مشن کا تقاضا مجبور کرتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی بار بار سفر کرنا پڑتا ہے۔
انسان کا ذہن قدرت کا ایک خاموش کارخانہ ہے۔ وہ ہر آن اپنی " پیداوار " دیتا رہتا البتہ عام کارخانوں کی طرح، ذہن کا معاملہ بھی یہ ہے کہ جیسا " خام مال " اس کے اندر ڈالا جائے اسی کے مطابق وہ اپنی پیدا وار دے گا۔ مثلاً ایک شخص حسد، بغض، گھمنڈ اور ناجائز نفع اندوزی جیسی چیزیں اپنے ذہن میں ڈالے تو اس کے ذہن سے جو چیزیں بن کر نکلیں گی، وہ انھیں برائیوں کا مرکب ہوں گی۔ اس کے برعکس جو شخص صالح چیزیں اپنے ذہن میں ڈالے اس کا ذہن صالح پیدا وار کا کار خانہ بن جائے گا۔
میرے اندر خدا کے فضل سے توحید، آخرت اور تعمیر پسندی کا مزاج ہے۔ اس لیے میرے ذہن سے جو فکری پیدا وار برآمد ہوتی ہے وہ ہمیشہ انھیں چیزوں کا مرکب ہوتی ہے۔ سے لاس اینجلس جاتے ہوئے راستہ میں بن جانسن کا واقعہ ذہن میں آیا، اس نے کہا تھا کہ لوگوں نے مجھ سے میرا میڈل چھینا ہے نہ کہ میری رفتار (الرساله فروری ۱۹۸۹، صفحه ۵) میرے ذہن میں آیا کہ اس بات کو اگر لفظ بدل کر کہیں تو وہ یہ ہوگا کہ : لوگوں نے مجھ
سے اپنی دی ہوئی چیز چھینی ہے نہ کہ خدا کی دی ہوئی چیز۔ انسان کی دی ہوئی چیز ہمیشہ کم ہوتی ہے اور خدا کی دی ہوئی چیز ہمیشہ زیادہ ۔ ہر آدمی جب بھی کوئی چیز کھوتا ہے تو وہ "کم" کو کھوتا ہے "زیادہ" پھر بھی اس کے پاس باقی رہتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ کم کو بھول کر زیادہ پر اپنی ساری توجہ لگا دے ۔
ایک اور موقع پر ایک تجربہ گذرا ۔ اس کے بعد میری زبان پر یہ الفاظ آگئے : آج کا انسان تمنا کے درجہ میں بھی جنت کا طالب نہیں ، عمل کے درجہ میں اس کا طالب ہونا تو درکنار ۔ حالت میں لوگوں پر جنت کے دروازے کھلیں تو کیسے کھلیں ۔
ہندوستان سے امریکہ جانے کے لیے پان امریکن کی دو روٹ ہیں۔ ایک لندن کے راستہ دوسرا ، فرینکفرٹ کے راستہ سے ۔ پچھلی بار نومبر ۱۹۸۵ میں جب میں امریکہ گیا تھا تو لندن کے راستہ سے گیا تھا ۔ امریکہ کے لیے میرا موجودہ سفر ۲۱ دسمبر ۱۹۸۸ کو ہوا۔ منتظمین نے اس بار جو ٹکٹ بھیجا وہ فرینکفرٹ کے راستہ سے تھا۔ جس دن میں نے فرینکفرٹ سے نیو یارک کے لیے پین ایم کی فلائٹ نمبر ۷۴ سے سفر کیا۔ عین اسی دن پین ایم کا دوسرا جہاز فلائٹ نمبر ۱۰۳ لندن سے نیویارک کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اگر میری روٹ لندن
کے راستے سے ہوتی تو میں عین اسی جہاز میں ہوتا۔
لندن سے نیویارک جانے والے اس جہاز (فلائٹ ۱۰۳) کے ساتھ عجیب حادثہ پیش آیا۔ لندن سے روانہ ہو کر وہ فضا میں بلند ہوا اور ۳۱ ہزار فٹ کی اونچائی پر پہنچ کر ۸۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑنے لگا۔ جب وہ اسکاٹ لینڈ میں داخل ہوا تو اچانک اس میں دھماکہ ہوا۔ وہ وہاں کے ایک گاؤں لاکربی (Lockerbie) کے اوپر گر پڑا۔ جہاز مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ کے اوپر اس وقت ۲۵۸ مسافر تھے جو سب فوراً ہی ہلاک ہو گئے۔
امریکہ کی سرزمین پر اترنے کے بعد مجھے جو پہلی خبر ملی وہ یہی تھی۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے میری روٹ کو بدل دیا۔ اگر میرا سفر لندن کے راستے سے ہوتا تو الرسالہ کے قارئین کو "سفرنامہ" کے بجائے شاید میری موت کی خبر پڑھنے کو ملتی۔ امریکہ کی سرزمین پر پہلی بار میں اپریل ۱۹۸۳ میں آیا تھا۔ اس کی مختصر روداد الرسالہ جون ۱۹۸۳ میں چھپ چکی ہے۔ اس وقت میں ٹرانزٹ پیسنجر کے طور پر نیو یارک ائیر پورٹ پر اس موقع پر ایک عجیب ناقابل فہم واقعہ پیش آیا۔ ہوائی جہاز سے اتر کر میں بھی دوسرے مسافروں کے ساتھ کاؤنٹر پر کھڑا ہو گیا۔ میری باری آئی تو کلرک نے میرے پاسپورٹ پر مہر لگانے کے بجائے اس کو اپنے پاس رکھ کر مجھے ایک طرف کھڑا کر دیا۔
میں انتظار میں کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ تمام مسافر ایک کے بعد ایک چلے گیے۔ ایک سیاہ فام سپاہی آیا۔ کلرک نے فوراً میرا پاسپورٹ اس کے حوالے کر دیا جیسے کہ وہ اسی کا انتظار کر رہا ہو۔ اب میں اس سپاہی کی تحویل میں تھا، اور میرا پاسپورٹ اس کے قبضہ وہ مجھ کو لے کر لاؤنج میں کھڑا ہو گیا۔ اب دوبارہ ایک اور شخص کے انتظار کا مرحلہ کافی دیر کے بعد ایک سفید فام پولیس افسر آیا۔ سیاہ فام سپاہی نے اب میرا پاسپورٹ اس کے حوالے کر دیا۔
سفید فام پولیس افسر نے کہا کہ میرے ساتھ آؤ۔ چنانچہ میں اس کے ساتھ چلا۔ کہ ہم لوگ ائیر پورٹ کے باہر پہونچ گیے۔ یہاں پولیس کی ایک کار کھڑی ہوئی تھی۔ کار پر بیٹھ گئے ۔ کار روانہ ہوئی اور مختلف سڑکوں سے ہوتی بالآخر ایک بڑی بلڈنگ کے سامنے کار پر بیٹھ گئے۔ ۱۹۸۹ جون ۳۲
پولیس افسر مجھ کو لے کر اندر داخل ہوا۔ یہ اس کا دفتر تھا۔ یہاں اس نے مجھے کرسی پر بٹھایا۔ اور مشین پر میرے پاسپورٹ کے ہر صفحہ کا فوٹو لینے لگا۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے پولیس افسر