Come and tell me after third generation
Al-Risala, June 1989, pp. 36–40
By Maulana Wahiduddin Khan
جس ادارہ کی دعوت پر میرا یہ سفر ہوا، اس کے دفاتر گارڈن گروو (Garden Grove) میں واقع ہیں۔ تاہم سیرت کانفرنس کا اہتمام قریب کے شہر انا ہائم (Anaheim) میں کیا گیا تھا۔ امریکہ کا ایک خوبصورت شہر ہے۔ یہاں میرا قیام ہلٹن ہوٹل (Hilton and Towers) کے کمرہ نمبر ۱۲۸-۵ میں تھا۔ مذکورہ ”انٹرنیشنل سیرت کانفرنس" کی کارروائیاں اسی ہوٹل کے ایک بڑے ہال میں انجام پائیں۔
انا ہائم ، کیلی فورنیا میں واقع ہے۔ کیلی فورنیا کے بعض حصے نہایت گرم ہیں۔ وادی موت (Death Valley) کا تعلق اسی علاقہ سے ہے جو تقریباً ۲۲۵ کلومیٹر لمبی ہے۔ پروفیسر ارونگ (T. V. Irving) کی تحقیق ہے کہ کیلی فورنیا کا لفظ اسپین سے آیا ہے۔ جب اسپین آئے تو وہاں کے کسی گرم مقام کو انھوں نے قلعۃ القرن (تنور کا قلعہ ) کہا۔ لفظ اسپینی لہجہ میں بگڑ کر کیلی فورنیا ہو گیا۔ اس کے بعد جب اسپین کے لوگ امریکہ آئے اور چلتے ہوئے اس مقام پر پہنچے تو یہ مقام انھیں بہت گرم محسوس ہوا۔ چنانچہ اس کا نام
انھوں نے کیسی فورنیا رکھ دیا۔ گویا کیسی فورنیا ایک عربی لفظ قلعۃ الفرن کی اسپینی صورت
ہندوستان ایک زیر ترقی ملک ہے۔ اس کے مقابلہ میں امریکہ ایک ترقی یافتہ ملک سمجھا چنانچہ وہاں ہر چیز کا معیار ہندوستان سے ممتاز طور پر مختلف ہے۔ مثلاً ہندوستان کا ایک آدمی اپنے ٹی وی سیٹ کو چلانے کے لیے اس کے پاس جاتا ہے اور اس کا بٹن دبا کر اس کو آن کرتا ہے ۔ مگروہ یہاں آپ کو ٹی وی سیٹ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ فاصلہ پر لیٹے یا بیٹھے ہوئے دیا سلائی کے برابر ایک آلہ کا بٹن دبائیں گے اور آپ کا ٹی وی فورا چلنے لگے گا۔ ریموٹ کنٹرول کا یہ طریقہ اب امریکہ میں بہت زیادہ عام ہو چکا ہے۔
ہوٹل کے کمرہ کا دروازہ کھولنے کے لیے ہمیں چابی استعمال کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ ہمارے پاس تاش کے پتے کی مانند ایک چھوٹا سا سوراخ دار کارڈ تھا ۔ اس کو ایک خانہ میں ڈالا جاتا تو وہاں ہری بتی جل جاتی ۔ اس کے بعد ایک ہینڈل دبانے سے دروازہ اپنے آپ کھل یہ کمپیوٹر کا کرشمہ تھا۔ وغیرہ ، وغیرہ ۔
ہوٹل کے کمرہ کی پشت پر دیواری شیشہ کے باہر میں نے دیکھا تو کمرہ سے ملا ہوا وسیع پارک نظر آرہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے خیال آیا کہ میں تو ہوٹل کی پانچویں منزل پر ہوں ، پھر یہاں پارک کیسا ۔ مگر یہ چھت کا پارک تھا ۔ ہوٹل کے درمیان میں وسیع چھت پر درخت اور پھول اگا کر یہ پارک قائم کیا گیا تھا۔ تاہم اس کی زمین مصنوعی تھی۔ بظاہر زمین پر گھاس کا ہرا لان دکھائی دیتا تھا۔ مگر در حقیقت کیمیائی قالین تھا جو کٹی ہوئی گھاس کی مانند بنا کر زمین پر بچھا دیا گیا تھا۔ ہلٹن ہوٹل کے جس وسیع ہال میں سیرت کا نفرنس ہو رہی تھی ، ایک بار مجھے اس کے ٹوائیلٹ میں جانے کی ضرورت پیش آئی۔ اس کے اندر میں نے دیکھا کہ ایک ٹونٹی دار لوٹا (Watering can) رکھا ہوا ہے۔ پلاسٹک کا بنا ہوا یہ امریکی لوٹا اس ہندوستانی لوٹے سے بالکل مختلف تھا جس کے متعلق یہ استہزائی فقرہ مشہور ہے : " کیا آپ کے شامل بندھنا بھی ہے " یہ اتنا خوبصورت اور اتنا موزوں بنا ہوا تھا کہ وہ آرٹ کا ایک نمونہ معلوم ہوتا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اگر اتنا خوبصورت لوٹا بنایا ہوتا تو نا ممکن تھا کہ کسی جواہر لال نہرو
کو یہ جرات ہو کہ وہ ٹونٹی دار لوٹے کو مسلم تہذیب کا نشان بتاکر اس کا مذاق اڑائے۔ اس کے بعد لوٹے کا مذاق اڑانا خود اپنی بد ذوقی کا اشتہار دینے کے ہم معنی بن جاتا، اور کون ہے جو اپنی بد ذوقی کا اشتہار دینا پسند کرے ۔
کانفرنس کے دوران عربوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع ملا۔ ۲۷ دسمبر کو فجر کی نماز کے لیے مقررہ ہال میں پہنچا تو وہاں دوسرے لوگوں کے ساتھ ڈاکٹر جمال بدوی موجود تھے۔ وہ مصری ہیں اور آج کل کناڈا میں رہتے ہیں۔ انھوں نے مجھ سے نماز پڑھانے کے لیے اصرار کیا۔ میں نے یہ کہہ کر ان کو آگے بڑھا دیا: الأئمة من العرب، وانا احب ان اسمع قرأة العرب - فنی قاریوں کی قرأت مجھے پسند نہیں۔ مگر عربوں کی سادہ قرأت مجھے بے حد پسند ہے۔ ایک عرب عالم جب قرآن کی قرأت کرتا ہے تو اس کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ صوتی لہروں پر میرا رشتہ ماضی سے قائم ہوگیا ہے۔ یہ سوچ کر ایک ارتعاش (Thrill) کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ صحابہ کرام بھی اسی طرح قرآن کو پڑھتے ہوں گے۔
یہ اسلام کی ایک نادر خصوصیت ہے جو آج کسی بھی دوسرے مذہب کو حاصل نہیں۔ دوسرے مذاہب کی کتا بیں جن زبانوں میں تھیں وہ آج مردہ زبانیں بن چکی ہیں۔ یہ زبانیں جس لہجہ میں اپنے ابتدائی زمانے میں بولی جاتی تھیں، ان کا تسلسل بعد کی تاریخ میں قائم نہ رہ سکا ۔ اس لیے آج یہ جاننا ناممکن ہے کہ قدیم مذاہب کی مقدس کتابوں کو ان کے ابتدائی حاملین کس طرح پڑھتے تھے۔ مگر قرآن کی زبان پوری طرح ایک زندہ زبان ہے۔ اس کا لہجہ تواتر کے ساتھ تاریخ میں سفر کرتا ہوا ہم تک پہنچ رہا ہے۔ آج کا ایک فصیح عرب عالم جب قرآن کو پڑھتا ہے تو وہ عین وہی لہجہ ہوتا ہے جس میں اصحاب رسول قرآن کو پڑھتے تھے۔ اس طرح ہر فصیح عرب عالم گویا صحابہ کرام کی قرأتِ قرآن کا زندہ ٹیپ ہے۔ __ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب احسان ہے جو " قرآن محفوظ" کی صورت میں انسانیت کے حصہ میں آیا ہے۔
قومی آواز (۱۳ جنوری ۱۹۸۹) میں ایک عالم کی تقریر نقل ہوئی ہے۔ موصوف نے ایک عربی مدرسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا : اللہ تعالیٰ نے قرآن اور اس کی زبان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے جس کی وجہ سے ڈیڑھ ہزار سال سے یہ کلام اور زبان آج تک ایک حرف کی تبدیلی کے
بغیر محفوظ ہے ۔ تاریخ شاہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں تغیرات رونما ہوئے اور ان کی اصلی حالت زمانہ کی تبدیلی کے ساتھ بدلتی رہی ۔ لیکن عربی زبان انقلاباتِ زمانہ کے باوجود اپنی اصل حالت پر برقرار ہے ۔ کیوں کہ یہ کلام الٰہی ہے اور اس نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔ پر اس پر فخر کر سکتے ہیں (صفحہ ۶)
قرآن کا اور عربی زبان کا محفوظ ہونا اہل اسلام کے لیے فخر کی بات نہیں بلکہ شکر کی بات کوئی شخص کہے کہ سورج کروڑوں سال سے برابر روشن ہے اور اس پر ہمیں فخر کرنا چاہیے تو یہ ایک لغو بات ہوگی ۔ کیوں کہ سورج کو دیکھ کر ہمارے اندر شکر کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے نہ کہ فخر کا جذبہ ۔ اسی طرح قرآن اور عربی کا محفوظ ہونا بھی شکر کا موضوع ہے نہ کہ فخر کا موضوع ۔ زمانہ کے مسلمانوں کی اصل غلطی یہی ہے کہ انھوں نے قرآن اور اسلام کو اپنا قومی فخر بنا لیا ہے ۔ یہی وہ برائی ہے جس میں اس سے پہلے یہود مبتلا ہوئے ، اور اب مسلمان بہت بڑے پیمانہ پر اس میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔
کانفرنس کے پروگرام میں شیخ جاد الحق د شیخ الازہر، قاہرہ ) ، ڈاکٹر عبد المحسن الترکی (ریاض) اور ڈاکٹر عبد اللہ عمر نصیف (مکہ) کا نام بھی تھا ۔ وہ لوگ اس کے اجلاس کو خطاب کرنے والے تھے مگر آخر وقت میں کچھ اسباب پیش آنے کی وجہ سے وہ شرکت نہ کر سکے ۔ ان لوگوں کے نمائندے کانفرنس میں شریک ہوئے ۔
کانفرنس میں ایک عرب شیخ نے بہت دلچسپ تقریر کی ۔ انھوں نے عربی میں خطاب کرتے ہوئے کہا : هل قرأتم في القرآن : أدع الى سبيل ربك بالسيف او بالارهاب کیا آپ نے قرآن میں پڑھا ہے کہ اپنے رب کے راستہ کی طرف تلوار اور دہشت گردی کے ذریعہ بلاؤ) اس کے برعکس قرآن میں ہے کہ اپنے رب کے راستہ کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ بلاؤ (النحل ۱۲۵) اس کے بعد انھوں نے بہت اچھے انداز میں اس کی تفصیل کی کہ دعوت ، دل کو جیتنے کا نام ہے نہ کہ جسم کو قتل کرنے کا ۔ میں نے کہا کہ میں اس میں صرف اتنا اضافہ کروں گا کہ دوسرے لوگ اگر " سیف " کو استعمال کریں تب بھی ہمیں حکمت اور موعظت حسنہ ہی کے طریقہ پر قائم رہنا ہوگا۔
بغیر حکیمانہ دعوت کا عمل جاری رہنا ممکن نہیں ۔
ڈاکٹر محمد تحسین صدیقی (ملک عبدالعزیز یونیورسٹی ، جدہ) نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کی نظر میں ان کی منفی تصویر (Negative image) بن گئی ہے ۔ اس صورتِ حال کو بدلنا اور لوگوں کی نظر میں مسلمانوں کی مثبت تصویر (Positive image) بنانا وقت کا سب سے بڑا کام ہے۔ یہ عین وہی بات ہے جس کی الرساله مشن کے ذریعہ کوشش کی جارہی ڈاکٹر محمد تحسین صدیقی ہمارے اس مشن سے پوری طرح واقف ہیں ۔
میں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے ، مگر وہ اس وقت تک نا مکمل ہے جب تک اس میں یہ دوسری بات شامل نہ کی جائے کہ تصویر کو بدلنے کا یہ کام خود مسلمانوں کو کرنا ہو گا۔ اور یہ اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مسلمان دوسروں کی ایذا رسانی پر یک طرفہ طور پر صبر اور اعراض کی پالیسی اختیار کریں ۔ ۲۳ دسمبر ۱۹۸۸ء کو شام کے اجلاس میں میں نے اپنا مقالہ (انگریزی) پڑھ کر سنایا ۔ کے بعد بہت سے لوگوں نے اس کی کاپی حاصل کرنا چاہا۔ کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ مقالہ (دوسرے مقالوں کے ساتھ) کتابی مجموعہ میں شائع کیا جائے گا ۔ نیز اس کا مکمل ویڈیو ٹیپ بھی کانفرنس کے منتظمین کے پاس موجود ہے ۔ مقالہ کا عنوان یہ تھا :