Al-Risala · June 1989

Dawah Activism: The Prophetic Method

Al-Risala, June 1989, pp. 40–43

By Maulana Wahiduddin Khan

۲۴ دسمبر کی شام کو ’’ورک شاپ‘‘ تھی۔ اس میں کافی لوگ شریک ہوئے ۔ کے ماڈریٹر ڈاکٹر عبدالرحیم الطالب (سوڈانی) تھے ۔ ایک اعتبار سے یہ ’’سوال وجواب‘‘ کی مجلس سب کے سب پڑھے لکھے لوگ تھے ۔ پوری گفتگو نہایت سنجیدہ علمی انداز میں ہوئی ۔ ابتداءً میں نے دعوت کے بارہ میں اپنے نقطۂ نظر کی کچھ مزید وضاحت کی ۔ اس کے بعد تحریری انداز میں سوالات آنا شروع ہوئے ۔ تقریباً دو درجن سوال آئے ۔ میں نے مختصر اور مثبت انداز میں سوالات کا جواب دیا۔ یہ سوالات کس قسم کے تھے ، اس کا اندازہ کرنے کے لیے تین سوالات یہاں نقل کیے جاتے ہیں :

1. Please tell us which are the books in English that can enlighten the non-Muslims who are interested in accepting Islam.

۲۳ دسمبر کی شام کو کانفرنس ہال میں ایک اثر انگیز واقعہ پیش آیا۔ اسی روز میں نے اپنا ۴۵ منٹ کا مقالہ پڑھا تھا۔ جیسے ہی میں نے اپنا مقالہ ختم کیا ۔ سامنے کی نشستوں پر ایک امریکی نوجوان کھڑا ہوگیا ۔ اس نے کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں ۔ اس نوجوان کو اسٹیج پر لایا گیا اور مانک کے پاس کھڑا کر کے اس سے کلمہ پڑھایا گیا۔ اس کے بعد انگریزی میں کلمہ شہادت کی تشریح بتائی گئی ۔

بعد کو اس نوجوان سے میری ملاقات ہوئی ۔ اس نے اپنا نام مير يوسرالو (Mario Serrano) اس کی عمر ۲۳ سال تھی ۔ اس نے بطور خود کچھ اسلام کا مطالعہ کیا تھا، مگر اسلام قبول کرنے کی بابت آخری فیصلہ اس نے کانفرنس میں میرا مقالہ سننے کے بعد کیا ۔ اسی طرح امریکہ میں اور پوری دنیا میں ہر روز کچھ نہ کچھ افراد اسلام قبول کرتے رہتے ہیں ۔ مگر یہ اسلام کی اپنی طاقت کے ذریعہ ہورہا ہے، مسلمانوں کے کسی باقاعدہ تبلیغی عمل کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔ ۲۴ دسمبر کی شام کو آخری پروگرام تھا ۔ اس موقع پر امریکن مسلم کمیونٹی کے قائد امام ویلیس (وارث) محمد نے خطاب کیا ۔ وہ باقاعدہ باڈی گارڈ کے ساتھ ہال میں داخل ہوئے ۔ شکاگو سے خاص اسی شرکت کے لیے آئے تھے ۔ انھوں نے اسلامی عبادت کے موضوع پر تقریر کی ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کا مقصد مکمل پریشن ہے ۔ یعنی انسان کو ہر عملی یا فکری بندھن سے آزاد کر کے ایک خدا کا عابد بنانا ۔

آخری تقریر سعودی عرب کے پرنس محمد الفیصل کی تھی ۔ وہ سعودی ایمبیسی (واشنگٹن) میں اسلامک افزرس شعبہ کے چیرمین ہیں۔ مسلم ملکوں میں غالباً سعودی سفارت خانہ پہلا سفارت خانہ ہے جس نے اس قسم کا اسلامی شعبہ بڑے پیمانے پر قائم کیا ہے ۔ پرنس محمد الفیصل نے نہایت

سادہ اور سنجیدہ انداز میں انگریزی میں تقریر کی جس میں لقد جاء کم رسول من انفسکم (التوبہ ۱۲۸) کی تشریح بیان کی۔ انھوں نے اپنی تقریر اس جملہ پر ختم کی کہ یہاں آنے سے میرا مقصد آپ کے ساتھ شریک ہونا تھا نہ کہ آپ سے کچھ کہنا :

I came here to share something with you, rather than to say something 23دسمبر ۱۹۸۹ء کو تھی ۔ لوگوں کا اصرار تھا کہ یہاں مزید قیام کیا جائے اور مختلف مقامات (نیو یارک ، شکاگو، سان فرانسسکو وغیرہ) میں پروگرام رکھا جائے اور وہاں خطابات کیے اگر میں ان لوگوں کی تجویز مان لیتا تو مجھے کئی مہینے تک یہاں ٹھہرنا پڑتا۔ مگر یہ میرے لیے ممکن نہ تھا، اس لیے کانفرنس کے بعد میں صرف چند دن ٹھہر سکا اور بعض اجتماعات کو خطاب کیا۔ ۲۴ دسمبر کو جمعہ کا دن تھا۔ اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی۔ یہ مسجد پہلے مسیحی حضرات نے اس کو فروخت کر دیا۔ چرچ کی یہ عمارت اب مسجد کے طور پر استعمال ہوتی ہے ۔ نماز جمعہ کے بعد مسجد میں قرآن کا مختصر درس دیا۔ ۲۵ دسمبر کو نماز ظہر کے بعد دوبارہ اس مسجد میں درس حدیث کا پروگرام تھا۔

جمعہ کے دن جب میں مسجد میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ نمازی لوگ اس کے اندر متفرق طور پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ مگر جب پہلی اذان ہوئی تو اس کے فوراً بعد تمام لوگ مل مل کر صف کی صورت میں کھڑے ہو گئے ۔ جماعت سے پہلے کی سنتیں انھوں نے صف بندی کر کے پڑھیں ۔ سنتوں سے فارغ ہو کر وہ صف بہ صف بیٹھ گئے۔ خطبہ کے بعد جب جماعت کی نماز شروع ہوئی تو ان کے اٹھتے ہی صفیں قائم ہوگئیں ، ” آگے آجائیے ، آگے آجائیے “ کی پکار بلند کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی ۔ یہی طریقہ ہندوستانی مسجدوں میں بھی رائج ہوجائے تو کتنا اچھا ہو ۔ پروفیسرا یوانے یا زبیک حداد کے حوالہ سے معارف (جنوری ۱۹۸۹) میں ایک رپورٹ (امریکہ میں مسلمان) شائع ہوئی ہے۔ اس میں درج ہے کہ :

" امریکہ میں مسلمان عورتیں جمعہ کی نماز باجماعت ادا کرتی ہیں۔ مگر مرد اپنی ملازمت اور کاروباری مشغولیتوں کی وجہ سے جمعہ کی نماز کے لیے

مسجدوں میں نہیں جاسکتے۔ چنانچہ وہ اتوار کو اجتماعی طور پر ظہر کی نماز ادا کرتے ہیں " صفحہ 60 امریکہ کے مسلمان مردوں کے بارے میں اس رپورٹ میں جنرلائزیشن سے کام لیا گیا ہے۔ کے مسلمان مرد تین قسموں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتا۔ ایک گروہ اتوار کے دن ظہر کی باجماعت نماز کو جمعہ کے بدل کے طور پر ادا کرتا ہے۔ تیسرا گروہ وہ ہے جو حسب قاعدہ جمعہ کے دن جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے ، ۲۳ دسمبر کو میں خود جمعہ کی ایک جماعت میں شریک ہوا۔

جناب صغیر اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر ۲۵ دسمبر کو عورتوں اور مردوں کی ایک تعداد جمع ہوئی، یہ زیادہ تر تاجر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ اس موقع پر آیات اور احادیث کی روشنی میں مفصل خطاب ہوا۔ ۲۷ دسمبر کو نماز عشاء کے بعد اسلامک سوسائٹی کی مسجد میں تیسرا خطاب ہوا۔ اس کا موضوع حقیقت دین تھا۔ پھر ۲۸ دسمبر کی شام کو صغیر اسلم صاحب کی رہائش گاہ پر دوباره اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے اسلام میں آخرت کا تصور اور اس کی اہمیت پر ایک ان سب تقریروں کا ٹیپ وہاں کے لوگوں کے پاس موجود ہے۔

29 دسمبر کے اجتماع میں ایک انجینئر صفی الرحمن قریشی (پیدائش ۱۹۵۱) بھی موجود تھے۔ میں نے دیکھا پورے مجمع میں وہ سب سے کم بولنے والے ہیں۔ اجتماع کے دوران وہ مکمل طور پر بعد کو ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کی اس خصوصیت کا ذکر کرتے ہوئے ایک حدیث سنائی جس میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص چپ رہا ، اس نے نجات پائی (من سکت نجا) میں نے کہا کہ آپ اس حدیث کی تشریح رکن الفاظ میں کریں گے ۔ انھوں نے کہا : " جب میں بول رہا ہوں تو میں سیکھ نہیں رہا ہوں " ان کی یہ مختصر تشریح مجھے بہت پسند آئی۔ ایک مجلس میں دعوتی موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہفت روزہ الدعوة (ریاض) کے شمارہ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۸ میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس کا عنوان یہ تھا کہ کیا ہم مغرب کی مسلم نسلوں کو ضائع ہونے کے لیے چھوڑ دیں :

Printed page