Al-Risala · June 1989

أجيالنا المسلمة فى الغرب هل نتركها نهباً للضياع

Al-Risala, June 1989, pp. 43–47

By Maulana Wahiduddin Khan

مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت مغربی دنیا میں جو مسلمان آباد ہیں ، ان کی تعداد دس ملین

سے زیادہ ہے ۔ یہ لوگ گویا مغرب میں ہمارے سفیر ہیں ( هم سفراء نا فى الْغَرْبِ ) یہ بلاشبہ صحیح ترین لقب ہے جو مغرب میں مقیم مسلمانوں کو دیا جا سکتا ہے ۔ خاص طور پر امریکہ میں جو مسلمان آباد ہیں ، انھیں اگر اپنی اس حیثیت کا شعور ہو جائے تو وہ اسلام کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر سکتے ہیں ۔

میں نے انھیں ایک حدیث سنائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسی بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں ، مگر وہ مدینہ ہے ( أمرت بقرية تأكل القرى يقولون يثرب وهي المدينة ) اس حدیث سے اسلام کا طریق کار معلوم ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ " مکہ " میں اگر اسلامی دعوت کے لیے حالات نامساعد ہوں تو " مدینہ " کو دعوتی مرکز بنا کر دوسرے علاقوں کو مسخر کرو ۔ یہ طریق کار دور اول میں نہایت کامیابی کے ساتھ زیر عمل لایا جا چکا ہے ، اور موجودہ زمانہ میں بھی اس کے مواقع پوری طرح موجود ہیں ۔ میں نے کہا کہ امریکہ کو آج اسی قسم کے ایک " قریہ " کا مقام حاصل ہے ۔ امریکہ میں وہ حالات مکمل طور پر پیدا ہو چکے ہیں جو قدیم زمانہ میں " یثرب " میں پیدا ہوئے تھے ۔ یہاں کے لوگوں میں مختلف اسباب سے دین حق کی پیاس پیدا ہو چکی ہے ۔ یہاں دعوت و تبلیغ کے آزادانہ مواقع پوری طرح موجود ہیں ۔ یہاں وہ تمام جدید ترین اسباب و وسائل مہیا ہیں جو اشاعت فکر کے کام کو موثر طور پر انجام دینے کے لیے درکار ہیں ۔

مزید یہ کہ امریکہ کو ، ایک اعتبار سے ، عالمی قیادت کا مقام حاصل ہے ۔ اگر امریکہ میں موثر انداز میں دعوتی کام کر کے یہاں کی اکثریت کو اسلام کے دائرہ میں داخل کر لیا جائے تو وہ دوسری قوموں کو اسلام کے دائرہ میں داخل کرنے کا ذریعہ بن جائے گا ۔ حدیث کے الفاظ میں ، امریکہ کا " قریہ " دوسرے تمام قریوں کو نگل جائے گا ۔

مک کلوسکی (Pete McCloskey) امریکہ کے ایک سیاسی لیڈر ہیں ۔ وہ پندرہ سال تک کانگریس ( پارلیمنٹ ) کے ممبر رہے ہیں ۔ وہ مسلم نواز مشہور ہیں ، خاص طور پر فلسطین کے معاملہ میں وہ کھلے طور پر اسرائیل کے مخالف اور عربوں کے حامی ہیں ۔ چنانچہ یہاں کے یہودی ان کے سخت مخالف پچھلے الیکشن (کیلی فورنیا ) میں یہودیوں نے ان کے خلاف متحدہ ووٹ دے کر انھیں ہرا دیا ۔

اس حلقہ انتخاب میں یہودی ووٹوں کی تعداد ۸۰۰۰ ہے۔

دسمبر ۱۹۸۸ میں نیو یارک میں پانچواں "مسلم ورلڈ ڈے" منایا گیا۔ اس موقع پر روز ویلٹ ہوٹل کے ہال (Grand Ballroom) میں تقریر کرتے ہوئے مسٹر مک کلو سکی نے کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی مجموعی تعداد یہودیوں سے زیادہ ہے۔ اس کے باوجود یہودی یہاں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، اور مسلمانوں کا یہاں کی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں۔ اس کی وجہ خود مسلمان ہیں نہ کہ امریکی امریکی مسلمان اگر اپنے ووٹوں کا بھر پور استعمال کریں تو وہ یہاں کے نظام کو بدل سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہود نوازی امریکہ کی روایتی پالیسی نہیں۔ موجودہ یہود نواز پالیسی کا سبب یہ ہے کہ امریکہ کا یہودی گروپ نہایت گہرے طور پر یہاں کے سیاسی عمل میں شریک ہے اور ہر سطح پر اس میں حصہ لیتا ہے۔ امریکہ میں ایک اور طاقتور گروپ ہے جو تعداد میں زیادہ بڑا ہے۔ ہمدردوں (مسلمانوں) کا گروپ ہے۔ مگر وہ ہمارے سیاسی عمل میں شرکت نہیں کرتا۔ کی پامالی کے بارہ میں آپ کے احساسات امریکی نظام میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک آپ اس مقصد کے لیے منظم نہ ہو جائیں :

The reason for the pro-Israeli policy of the United States is because one group of people in this country is deeply involved in political process and participates in it at all levels. The United States has another strong group which is greater in size and that group is Arab sympathisers, (yourselves), which has not participated in our political process.. Your feelings about human rights violations will not be translated into American system unless you are not organized. (The Minaret, New York, December 16, 1988)

آپ کو امریکہ میں اور امریکہ کے باہر بے شمار مسلمان ملیں گے جو امریکہ کی مسلم دشمنی پر الفاظ کا دریا بہائیں گے۔ مگر ایسا مسلمان شاید ایک بھی نہ ملے جو سنجیدہ طور پر یہ رائے رکھتا ہو کہ یہ خود اپنی عملی کوتاہی کا مسئلہ ہے نہ کہ امریکہ کی اسلام دشمنی کا ۔ امریکہ کو "مسلم دشمنی" کے مقام سے ہٹا کر مسلم نوازی اور اسلام دوستی کے مقام پر لانے کے دو یقینی راستے ہیں۔ ایک دعوتی عمل کا راستہ، جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔ دوسرا سیاسی عمل کا راستہ ، جس کی نشاندہی مسٹر مک کلو سکی نے کی۔

مگر مسلمانوں کے اندر نہ پہلے عمل کے لیے کوئی حقیقی جذبہ ہے اور نہ دوسرے عمل کے لیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ خود تو اپنی ساری طاقت اپنا ذاتی مستقبل بنانے میں لگائے رہیں، اور دوسرے لوگ آکر ان کا مل مستقبل بنادیں، مگر اس دنیا میں ایسا واقعہ کبھی ظاہر ہونے والا نہیں۔

مسلمانوں کی ایک مجلس میں امریکہ میں رہنے والے ہندوؤں کا ذکر آیا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ وہ لوگ تو رات دن بس ڈالر کمانے میں لگے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ بھی تو یہاں یہی کر رہے ہیں۔ دونوں میں صرف نام کا فرق ہے۔ ہندو کے نزدیک " ڈالر " اگر مذہبی دیو تا ہے تو آپ کے یہاں ڈالر زندگی کا مقصد ۔

ڈاکٹر رالف سسن (Dr Ralph R. Sisson) اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک میں کمیونی کیشن کے پروفیسر ہیں۔ پیدائشی طور پر وہ عیسائی ہیں اور امریکہ کی سفید فام نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان سے میں نے ایک ملاقات میں پوچھا کہ امریکہ میں یہودی صرف ۳ فی صد ہیں، اس کے باوجود وہ یہاں چھائے ہوئے ہیں۔ ان کی اس غیر معمولی کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے فوراً کہا کہ ہارڈ ورک (سخت محنت) اس کے برعکس یہی سوال کسی مسلمان سے کیجیے تو بلا تامل اس کا جواب ہوگا

موجودہ زمانہ کے مسلمان دوسری قوموں کے بارہ میں نفرت میں مبتلا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دوسری قوموں کے بارہ میں صحیح رائے قائم نہیں کر پاتے۔ مذکورہ امریکی پروفیسر اس نفسیاتی پیچیدگی سے خالی تھا۔ اس نے محبت اور نفرت سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ صحیح رائے قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔

موجودہ زمانہ کے مسلمان لکھنے والوں نے امریکی یہودیوں کے بارہ میں بے شمار کتابیں اور مضامین شائع کیے ہیں جن میں جوش و خروش کے ساتھ یہودی سازشوں کا انکشاف کیا جاتا ہے۔ مگر یہ تمام تحریریں بالکل سطحی ہیں۔ وہ اپنے قاری کو اصل حقیقت سے باخبر نہیں کر تیں۔ امریکہ کے موجودہ سفر میں میں نے جو نئی باتیں دریافت کیں، ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کی طاقت کا اصل راز ان کی تنظیم ہے۔ انسائیکلو پیڈیا بر ٹانیکا (۱۹۸۴) نے امریکہ میں یہودیوں کی تعداد ۵ لاکھ بتائی ہے ۔ اس قلت تعداد کے باوجود، انھوں نے اپنے تمام

قابل ووٹ افراد کو ووٹر لسٹ میں درج کرا رکھا ہے ۔ ہر الیکشن میں ان کے بیشتر افراد ووٹ دیتے ہیں اور ہمیشہ متحدہ طور پر اپنے ووٹوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان کے تمام ادارے شیرازہ کی طرح باہم مربوط ہیں ۔ اپنے قومی مقاصد کے لیے وہ بے دریغ دولت خرچ کرتے ہیں ۔ انفرادی سطح پر اختلافات ہیں، مگر قومی نوعیت کے معاملہ میں وہ ہمیشہ متحد رہتے ہیں ۔ کار سے مسلسل ربط رکھتے ہیں اور ان کی رائے کو اپنے حق میں متاثر کرنے کی بھر پور کوشش کرتے وہ ہر کام منظم انداز میں کرتے ہیں نہ کہ اس طرح منفرد انداز میں جس کا ہمارے یہاں عام رواج ہے ۔

امریکی مسلمانوں کی مجموعی تعداد ۸ سے ۱۰ ملین تک ہے ۔ جب کہ یہودیوں کی موجودہ تعداد زیادہ سے زیادہ 6 ملین قرار دی جاسکتی ہے ۔ مگر مسلمان ہر معاملہ میں یہودیوں کے بالکل برعکس ہیں ۔ کے درمیان کوئی ملک گیر تنظیم نہیں ۔ ان کے بے شمار ادارے ہیں ، مگر سب کے سب آزاد ادارہ کے طور پر کام کرتے ہیں ۔ ان کے ووٹ یہودیوں سے زیادہ ہیں مگر سیاسی بے شعوری کی بنا پر اب تک وہ اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال نہ کرسکے ۔ امریکی مسلمانوں کا نقطہ نظر ایک لفظ میں یہ ہے کہ ____ زیادہ سے زیادہ ڈالر کماؤ ، اور بقیہ ہر چیز سے غیر متعلق رہو۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی یہودیوں کا متحد اور منظم ہونا ان کی اصل طاقت ہے ، اور امریکی مسلمانوں کا غیر متحد اور غیر منظم ہونا ان کی اصل کمزوری ۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں وہ امریکی زندگی کی الف ب بھی نہیں جانتے ۔

آخری اجتماع (6 ۲ دسمبر) میں اسلامک سوسائٹی (گارڈن گروو) کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی ۔ لوگوں نے ڈالر کی صورت میں اپنے عطیات دینے شروع کیے ۔ اسٹیج کے پاس ایک بلیک بورڈ رکھا ہوا تھا ۔ اس پر جلی حرفوں میں مسلسل رقم کی مقدار لکھی جارہی تھی ۔ ______ ایک ہزار ڈالر ، ۲۰۰ ہزار ڈالر ، ۳۵ ہزار ڈالر ، اس طرح گنتی بڑھتے بڑھتے تقریباً ۶۰ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ۔ بیک وقت بلیک بورڈ پر عطیات کی مقدار دیکھ رہا تھا ۔ یہ گویا چندہ کے قدیم طریقہ کو ماڈرنائز کرنا ہے ۔ مجھے یہ طریقہ پسند آیا ۔

گارڈن گروو (Garden Grove) امریکہ کا ایک شہر ہے جو لاس اینجلس کے قریب

Printed page