مٹھاس کا اضافہ
Al-Risala, July 1989, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائمس آف انڈیا کے ضمیمہ (The Neighbourhood Star) بابت ۱۸ - ۲۱ مارچ ۱۹۸۹ (صفحہ ۶) پر ایک سبق آموز واقعہ شائع ہوا ہے ۔ ایران کے پارسی جب پہلی بار ہندوستان میں آئے تو وہ ہندوستان کے مغربی ساحل پر اترے ۔ اس وقت یا دو رانا گجرات کا راجہ تھا ۔ کا پیشوا راجہ سے ملا۔ اور اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ان لوگوں کو اپنی ریاست میں ٹھہرنے کی راجہ نے اس کے جواب میں دودھ سے بھرا ہوا ایک گلاس پارسی پیشواکے ہاتھ پر رکھ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہماری ریاست پہلے ہی سے آدمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ میں مزید لوگوں کو ٹھہرانے کی گنجائش نہیں۔
پارسی پیشوا نے لفظوں میں اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے صرف یہ کیا کہ ایک چمچہ شکر لے کر دودھ میں ملایا اور گلاس کو راجہ کی طرف لوٹا دیا۔ یہ اشاراتی زبان میں اس بات کا اظہار تھا کہ ہم لوگ آپ کے دودھ پر قبضہ کرنے کے بجائے اس کو میٹھا بنائیں گے، ہم آپ کی ریاست کی زندگی میں شیرینی کا اضافہ کریں گے ۔ اس کے بعد راجہ نے انھیں گجرات میں قیام کی اجازت دیدی۔ اس واقعہ پر اب ایک ہزار سال کی مدت گزر چکی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پارسیوں کے رہنما نے جو بات کہی تھی اس کو پارسی قوم نے پورا کر دکھایا ۔ پارسی اس ملک میں مطالبہ اور احتجاج اور ایجی ٹیشن کا جھنڈا لے کر کھڑے نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے اپنی خاموش محنت سے اس ملک کی ترقی میں اضافہ کیا۔ نے دوسروں سے زیادہ محنت کی۔ وہ تعلیم اور تجارت اور صنعت میں آگے بڑھے۔ انھوں نے ملک کی دولت اور ملک کی ترقی کو بڑھایا۔ اس ملک میں جہاں بہت سے لوگ لینے والے گروہ (Taker group) کی حیثیت رکھتے ہیں ، پارسیوں نے عمل کے ذریعہ اپنے لیے دینے والے گروہ (Giver group) کا درجہ حاصل کیا ہے ۔ یہی زندگی کا راز ہے۔ اس دنیا میں دینے والا پا تا ہے ۔ آدمی کو با عزت جگہ ملتی ہے جو لوگوں کے ”دودھ“ میں اپنی طرف سے " مٹھاس" کا اضافہ کرے ۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے صرف کڑوا پن ہو، انھیں بھی اس دنیا میں وہی چیز ملتی ہے جو انھوں نے دوسروں کو دی ہے۔