Al-Risala · July 1989

فطری ڈھال

Al-Risala, July 1989, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۷۳ء میں ہندوستان کے جنگلوں میں تقریباً ۸۰۰ شیر تھے ۔ اس کے بعد شیر کی نسل بڑھانے کے لیے شیر منصوبہ (Project Tiger) شروع کیا گیا۔ یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ شیروں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ تاہم شیر کی تعداد بڑھنے سے خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ یوپی کی ترائی میں دُودھوا نیشنل پارک ہے۔ اسی طرح ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سندر بن ہے۔ یہاں شیر اکثر باہر آ کر گاؤں والوں کے مویشی مار ڈالتے ہیں ۔ تاہم ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ شیر انسان کے اوپر حملہ کرے ۔ شیر اگر انسان کے اوپر حملہ بھی کرتا ہے تو پیچھے کی طرف سے کرتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیر انسان کے چہرے سے ڈرتا ہے ۔ ایک رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا ، ۱۱ دسمبر ۱۹۸۸) میں بتایا گیا ہے کہ سندر بن کے جنگل میں جو لوگ ضرورت کے تحت شیر کے مخصوص علاقہ میں داخل ہوتے ہیں، وہ اپنے سر کے پیچھے پیچھے کی طرف مکھوٹا ڈال تاکہ سامنے کی طرح ان کے پیچھے بھی انسانی چہرہ دکھائی دے ۔ اس تدبیر کی وجہ یہ ہے کہ شیر بہت کم ایسا کرتا ہے کہ وہ سامنے سے انسان کے اوپر حملہ کرے :

Those that do enter the buffer zone of the Sundarbans wear masks on the back of their heads because a tiger seldom attacks a man from the انسان کے چہرے میں فطری طور پر رعب کی صفت ہے ۔ یہ رعب جس طرح جانوروں کے مقابلہ میں ایک روک ہے ، اسی طرح وہ انسانوں کے مقابلہ کے لیے بھی روک ہے ۔ شیر انسانی چہرہ سے مرعوب ہو کر اس پر حملہ کی جرأت نہیں کرتا۔ شیر انسان کے اوپر صرف اس وقت حملہ کرتا ہے جب کہ انسان نے اپنی ناکافی کارروائی سے شیر پر یہ ظاہر کر دیا ہو کہ وہ اس کے مقابلہ میں کمزور یہی معاملہ انسان کے مقابلہ میں انسان کا بھی ہے ۔ فطری حالت میں ایک انسان دوسرے انسان کے چہرے سے ہیبت زدہ رہتا ہے۔ یہ ہیبت صرف اس وقت ختم ہوتی ہے جب کہ کوئی ایسا واقعہ پیش آئے جو فطری حالت کو توڑنے کا سبب بن جائے۔

ایک حدیث میں ہے کہ اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر بنایا ( خلق الله آدم علی صورته)

یہ روایت اگرچہ باعتبار سند کمزور ہے، مگر باعتبار معنی وہ درست ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کا چہرہ ساری معلوم کائنات میں سب سے زیادہ پر شوکت چیز ہے۔ وہ اپنے اندر ایک بڑے عظمت لیے ہوئے ہے۔

خدا نے آپ کے چہرہ اور آپ کی شخصیت کو آپ کے لیے ایک غیر مفتوح ڈھال بنایا ہے۔ آپ ہر ضرورت کے موقع پر اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر اس معاملہ میں آپ کی کامیابی کا سارا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے دوسروں کی نظر میں اپنی کیا تصویر بنائی ہے۔ اگر آپ نے اپنے ماحول میں اپنی یہ تصویر بنائی ہو کہ آپ ایک سطحی اور بے قیمت انسان ہیں، آپ صرف جھوٹی لڑائی لڑنا جانتے ہیں۔ آپ اقدام کا نعرہ لگاتے ہیں اور دھمکی سن کر اقدام ملتوی کر دیتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب آپ دوسروں کے سامنے آئیں گے تو آپ کا آنا ایک بے وزن انسان کا آنا ہوگا۔ اس وقت آپ گویا ایک ٹوٹی ہوئی ڈھال ہوں گے جس کے اندر لوگوں کے لیے کوئی زور نہیں ۔

اس کے برعکس اگر آپ نے اپنے آس پاس اپنی یہ تصویر بنائی ہے کہ آپ ایک بھاری بھرکم انسان ہیں۔ آپ کے اعلیٰ اخلاق نے لوگوں کو آپ کا معترف بنا رکھا ہو۔ ایسی حالت میں آپ کے سامنے آتے ہی لوگوں کی نظریں آپ کے لیے جھک جائیں گی۔ آپ کا آنا " وہ آیا ، اس نے دیکھا، اس نے فتح کر لیا " کا ہم معنی بن جائے گا :

Printed page