چند مثالیں
Al-Risala, July 1989, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
سلمان رشدی کی کتاب میں ایک بات نعوذ باللہ یہ کہی گئی ہے کہ قرآن میں جبریل کی لائی ہوئی آیتوں کے ساتھ شیطان کی القاء کی ہوئی آیتیں بھی شامل تھیں۔ اسی بنا پر اس نے اپنی کتاب کا نام "شیطانی آیات" رکھا ہے۔ یہ نام زیادہ صحیح طور پر خود رشدی کی کتاب پر صادق آتا ہے۔ تاہم اس نے اپنے خیال کے مطابق، یہ نام قرآن کو دینا چاہا ہے۔ سلمان رشدی نے اپنا یہ نظریہ اس قصہ کی بنیاد پر کھڑا کیا ہے جس کو غر انیق کا قصہ کہا یہ قصہ، جس کی تفصیل دوسرے مضمون میں بتائی گئی ہے، اس وقت گھڑا گیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اس لغو قصہ کے ابتدائی مصنف مکہ کے مشرکین تھے۔ مکہ فتح ہوا تو ان مشرکوں کے اوپر آپ کو مکمل قابو حاصل ہو گیا۔ مگر آپ نے یہ
اعلان نہیں فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے غرانیق کا جھوٹا قصہ گھڑا تھا، انہیں قتل کر کے ان سب کو جہنم رسید کر دو۔ اس کے برعکس آپ نے ان سے فرمایا کہ اذھبوا فانتم الطلقاء (جاو تم سب آزاد ہو)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں اسلام کی نظریاتی طاقت پر بھروسہ کیا، نہ کہ اسلام کی شمشیری طاقت پر۔ چنانچہ تاریخ بتاتی ہے کہ اگر چہ آپ نے ان پر تلوار استعمال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ مگر اسلام کی نظریاتی طاقت نے ان کو مسخر کر لیا۔ کو آزادی دینے کے جلد ہی بعد وہ اسلام کے عقیدہ اور آپ کے اعلیٰ اخلاق سے اتنا متاثر ہوئے کہ کلمہ اسلام کا اقرار کر کے اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے خدا کی غلامی میں دے دیا۔ سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محاونڈ (Mahound) لکھا ہے۔ یہ ایک استہزائی نام ہے۔ جس طرح بعض لوگ وہابی کو وہابیڑا اور دیوبندی کو دیو کے بندے وغیرہ کہتے ہیں؛ اس طرح سلمان رشدی نے آپ کے لیے اس بگڑے ہوئے نام کو استعمال کیا ہے جو صلیبی جنگوں کے بعد یورپ کے عیسائیوں نے آپ کے لیے گھڑا تھا۔
اس مجرمانہ حرکت کی مثال بھی زمانہ نبوت میں موجود ہے۔ حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اگر چہ آپ کے دادا عبد المطلب نے محمد رکھا تھا، مگر مکہ کے قریش نے استہزائی طور پر آپ کا نام مذمّم رکھ دیا۔ محمد کے معنی ہیں تعریف کیا ہوا۔ جبکہ مذمّم کے معنی ہیں مذمّت کیا ہوا۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل شاعرہ تھی۔ اس نے مذمّم کے لفظ کو لے کر شعر کہا تھا اور اس کو اس طرح پڑھا کرتی تھی :