Al-Risala · July 1989

مذممّاً عصینا، و امره ابینا، و دینه قلیینا

Al-Risala, July 1989, pp. 11–13

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم نے ایک قابل مذمت شخص کی نافرمانی کی۔ اس کی بات کا انکار کیا اور اس کے دین سے نفرت کی۔

اس معاملہ میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے یہ فرمایا ہو کہ دیکھو فلاں لوگ میرا نام بگاڑ کر مجھ کو مذمّم کہتے ہیں، ان سب کو قتل کر دو۔

برعکس جو ہوا، وہ تاریخ کے الفاظ میں یہ ہے۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کا نام مذمم رکھتے تھے۔ اور پھر اسی نام سے آپ کو گالی دیتے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ کیا تم لوگوں کو اس بات سے تعجب نہیں ہوتا جو اللہ نے قریش کی ایذارسانی کو مجھ سے پھیر دیا۔ وہ مجھ کو گالی دیتے ہیں اور مذمم کہہ کر میری ہجو کرتے ہیں۔ حالانکہ میں محمد (تعریف کیا ہوا) ہوں۔

قال ابن اسحاق۔ وكانت قريش انما تسمى رسول الله صلى الله عليه وسلم مذمماثم يسبونه ـ فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : الاتعجبون لماصرف الله عنى من اذى قريش يسبون ويهجون مذمما وانا محمد (سیرة ابن هشام، الجزء الاول، صفحه ۳۷۹)

یہاں دوبارہ دیکھئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بگاڑ کر آپ کو اذیت پہنچائی مگر آپ اپنے اصحاب سے یہ نہیں کہتے کہ یہ لوگ ناقابل معافی جرم کے مجرم ہیں، ان سب کو ایک ایک کر کے قتل کر دو۔ اس کے برعکس آپ اپنے اصحاب کی توجہ قولِ انسانی سے ہٹا کر قولِ خداوندی کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ یہ انسان اگر میری مذمت کرتے ہیں اور میرا سب وشتم کر رہے ہیں تو اس سے کیا ہوا۔ تمام انسانوں کے رب اور ساری کائنات کے مالک نے ابدی طور پر مجھے محمد کے مقامِ اعلیٰ پر فائز کر دیا ہے۔ پھر ان کی بے ہودہ گوئی کی پروا کرنے کی مجھے کیا ضرورت۔

سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں ایک اور نہایت بے ہودہ حرکت یہ کی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ کو نعوذ باللہ ایک بدکردار خاتون کے روپ میں دکھایا ہے ۔ یہ بلاشبہ اشتعال انگیز حد تک ایک بے ہودہ بات ہے۔ کتاب کے اس حصہ کو ٹھنڈے ذہن کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا۔

مگر یہاں بھی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ امهات المومنین کی کردار کشی کا یہ جرم پہلی بار رشدی کی کتاب میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ شنیع جرم اس سے پہلے خود زمانہ رسالت میں کیا جا چکا ہے۔ دوسرے مضمون میں ہم نے تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح صفوان بن معطل کے ایک واقعہ کو الارسال جولائی ۱۹۸۹

شوشہ بنا کر مدینہ کے کچھ منافقین نے یہ جھوٹا افسانہ گھڑا۔ اور اس کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذارسانی کی۔

یہ افسانہ اس وقت اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ کئی مخلص مسلمان تک اس سے متاثر ہو گئے۔ ایک مہینہ تک مدینہ کی پوری فضا شرمناک افواہوں سے بھری رہی۔ یہ تکلیف دہ صورتِ حال صرف اس وقت ختم ہوئی جب کہ خود اللہ تعالیٰ نے مداخلت فرمائی۔ اور قرآن میں یہ اعلان کیا گیا کہ یہ افسانہ سراسر بے بنیاد ہے۔ وہ محض جھوٹا پروپیگنڈہ ہے نہ کہ کوئی واقعی حقیقت۔ مگر اس وقت بھی ایسا نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تمام لوگوں کے قتل کا حکم دے دیں جو کردار کشی کی اس جھوٹی مہم میں ملوث تھے۔ کچھ صحابہ نے ایسے افراد کو قتل کرنے کی پیش کش کی۔ مگر آپ نے اس پیش کش کو قبول نہیں فرمایا۔ امہات المومنین کی کردار کشی کے ان مجرمین کو زندہ چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت مرے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں اپنے آخری حساب کے لیے پہنچا دیے گئے۔

اس واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اسوہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ الزام کی طاقتور تردید کر کے مجرمین کو چھوڑ دیا جائے تاکہ لوگ ساری عمر ان کی لعنت کریں، اور پھر مر کر وہ اللہ کی عدالت میں پہنچا دیے جائیں تاکہ وہ اپنے خلاف ابدی لعنت کا فیصلہ سنیں اور ہمیشہ کے لیے رسوائی کے گڑھے میں پڑے رہیں۔

یہ ہے اس طرح کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ۔ اب اگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ سلمان رشدی کی کتاب سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، اور ہم تو اس کو قتل کر کے رہیں گے، تو میں کہوں گا کہ "مسلمانوں کے جذبات کا مجروح ہونا" اسلام کے قانونِ جرائم کی کوئی دفعہ نہیں ہے۔ مسلمان اگر اس قسم کی کارروائی کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس کو اپنی قومی سرکشی کے نام پر کر سکتے ہیں۔ مگر اسلام کے نام پر انہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اگر وہ اسلام کے نام پر اس قسم کا فعل کریں تو انہیں ڈرنا چاہیے کہ ایک مجرم کو سزا دینے کی کوشش میں وہ خود اپنے آپ کو اللہ کی نظر میں زیادہ بڑا مجرم نہ بنالییں۔

Printed page