Al-Risala · July 1989

الـرسـالـه جـولائی ۱۹۸۹ ۱۳

Al-Risala, July 1989, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

سلمان رشدی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے ـــــ آدھی رات کے بچے (Midnight's Children) اس کتاب میں سلمان رشدی نے اپنے بارے میں کہا ہے کہ میں عقیدہ اور بے عقیدگی کے درمیان جھول رہا ہوں I am hanging between belief and disbelief. رشدی کا یہ کہنا کہ میں مذہب کے معاملہ میں یقین اور بے یقینی کے درمیان لٹکا ہوا ہوں، یہ صرف ایک شخص کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ایک پوری نسل کا معاملہ ہے۔ سلمان رشدی نے جو بات اپنے بارے میں کہی ہے۔ یہی کروڑوں مسلمانوں کی بات ہے ۔ مسلمانوں کی نئی نسل جس کی تعلیم جدید ماحول میں ہوئی ہے اس کا کم از کم ۵۰ فیصد حصہ اسی قسم کی بے یقینی میں مبتلا ہے۔ یہ ہے کہ ان میں سے کسی شخص نے رشدی والا قلمی پیشہ اختیار کیا اور وقتی فائدے کی خاطر اپنے دل کی گندگی کو کاغذ پر انڈیلنے لگا۔ اس کے برعکس دوسرے لوگ کسی اور میدان میں کھانے کمانے میں مشغول ہیں۔ چنانچہ انہیں رشدی جیسی گندی کتاب لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ دسمبر ۱۹۸۸ میں جب کہ میں امریکہ میں تھا، مجھے وہاں کے ایک اسلامی مرکز میں لے جایا یہ مرکز جس خطہ میں واقع ہے وہاں تقریباً ایک لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ میں نے منتظمین سے پوچھا کہ اس علاقہ کے ایک لاکھ مسلمانوں میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس اسلامی مرکز سے جڑے ہوئے ہوں۔ ایک ذمہ دار نے جواب دیا کہ دس فیصد مسلمان ہیں۔ حاضرین میں سے دوسرا شخص بولاکہ آپ مبالغہ کر رہے ہیں، بمشکل ۵ فیصد تعداد ہوگی جو اس مرکز سے جڑی

مجھے بتایا گیا کہ جو مسلمان امریکہ میں آباد ہیں ان کی نئی نسلوں کی بیشتر تعداد اسلام سے بالکل ناواقف ہو چکی ہے۔ ان کو نماز ، روزے سے کوئی مطلب نہیں، جنس اور شراب اور غذا کے معاملہ میں ان کے طریقے وہی ہیں جو دوسرے آزاد خیال امریکیوں کے وہ بس برائے نام مسلمان ہیں۔

یہ کوئی انکشاف کی بات نہیں۔ ہر وہ شخص جو مسلمانوں کی جدید تعلیم یافتہ نسل سے واقف ہے، وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ "رشتی" ہمارے درمیان ایک نہیں، بلکہ کمزوروں کی تعداد میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی کی "رشدیت" ظاہر ہوچکی ہے اور کسی کی اب تک چھپی ہوئی ہے۔

مسلم نسل کی یہ صورت حال موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کے لیے ایک زبردست چیلنج اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کی ترقی یافتہ زبانوں میں اعلیٰ معیار کا اسلامی لٹریچر تیار کر کے شائع کیا جائے تاکہ " ارتداد ذہنی" میں مبتلا ہونے والے ان بے شمار مسلمانوں کی بے یقینی کو دوبارہ یقین میں تبدیل کیا جاسکے۔ ان کو بے عقیدگی کے دلدل سے نکال کر دوبارہ عقیدہ کی صالح زمین پر کھڑا کیا جائے۔

مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جو اس کام کو موثر اسلوب اور مطلوبہ معیار پر انجام دے رہا ہو۔ اپنے دعویٰ کے مطابق بہت سے لوگوں نے عصری کتا بیں چھاپ رکھی ہیں مگر یہ نام نہاد عصری کتا بیں عصری کوڑا خانہ سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔

راقم الحروف نے الرسالہ جولائی، ۱۹۸۰ء میں ایک مضمون شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا " دور جدید کی تحریکیں"، اس مضمون میں جدید لٹریچر کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ جدید لٹریچر دور جدید میں اسلام کے احیاء کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ مگر کتابوں کے اُن گنت انبار کے باوجود یہ ضرورت ابھی تک غیر تکمیل شدہ حالت میں پڑی ہوئی ہے، حتیٰ کہ لوگوں کے اندر اس کا حقیقی شعور بھی موجود نہیں۔

میں نے مزید لکھا تھا کہ میں اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی میں اپنے چالیس سالہ مطالعہ کی بنا پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم رہ نما کوئی ایک بھی ایسی قابلِ ذکر کتاب وجود میں نہ لاسکے جو جدید سائنٹفک اسلوب اور وقت کے فکری مستویٰ پر اسلامی تعلیمات کو پیش کرنے والی ہو۔ اگر بالفرض کسی صاحب کو اصرار ہو کہ ایسی کتابیں لکھی جاچکی ہیں تو میں ان سے گزارش کروں گا کہ وہ ایسی صرف ایک کتاب راقم الحروف کے پتہ پر روانہ فرمائیں۔

اس مضمون کی اشاعت پر اب دو سال کی مدت پوری ہو چکی ہے۔ مگر آج تک کسی مسلم ذمہ دارگی کی طرف سے ایسی کوئی کتاب میرے پاس نہیں بھیجی گئی۔ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں کا اولین اور اہم ترین کام یہ تھا کہ وہ جدید علوم کو پڑھیں۔ وقت کی زبانوں کو سیکھیں ۔ آج کے طریق استدلال اور اسلوب تحریر میں مہارت پیدا اور اس کے بعد اسلام کی ابدی تعلیمات کو موثر اور طاقتور انداز میں پیش کریں تاکہ آج کا انسان اور جدید مسلم نسل اس کو پڑھے اور اس کے ذریعہ سے اپنے کھوئے ہوئے عقیدہ کو دوبارہ حاصل کرے۔ مگر جدید اسلوب میں طاقتور لٹریچر وجود میں لانا تو درکنار، موجودہ مسلم رہنما قرآن کا ایک صحیح انگریزی ترجمہ بھی تیار کر کے شائع نہ کر سکے ۔ ایسی حالت میں مسلم رہنماؤں کا سلمان رشدی کے خلاف ہنگامہ کرنا حقیقتاً خود اپنی نالائقی پر پردہ ڈالنے کے ہم معنی ہے۔ یہ اس کام کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرنا ہے جس کو انھوں نے سرے سے انجام ہی نہیں دیا اور قرآن کا فیصلہ ہے کہ جو لوگ بن کیے پر کریڈٹ لینا چاہیں ان کے لیے خدا کے یہاں عذاب ہے نہ کہ انعام۔

از مولانا وحید الدین خاں ہدیہ ۲۰ روپیر قرآن میں اسلام کو دین کامل کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام دین مستحکم ہے ۔ اسلام کا ظہور، دین خداوندی کی تاریخ میں ایک دور کا خاتمہ اور دوسرے دور کا آغاز ہے۔ اسلام نے خدا کے دین کے ساتھ انسانی تعدی کے دور کو ختم کر دیا اور دین کو تمام پہلوؤں سے کامل کر کے اس کو ایسا مستحکم بنا دیا کہ قیامت تک اس کی برتری باقی رہے وہ اپنے پیروؤں کے لیے ابدی سرفرازی کی ضمانت بن جائے۔

Printed page