Al-Risala · July 1989

دعوتی تصویر

Al-Risala, July 1989, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام ایک دعوت ہے نہ کہ محض ایک تعزیری قانون۔ اسلام کی اولین دلچسپی خدا کے بندوں

کو خدا کا پرستار بنانا ہے نہ کہ انہیں مجرم قرار دے کر انہیں کوڑا مارنا اور گولی اور پھانسی کا نشانہ بنانا۔ تعزیری قانون کو اس سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے بارہ میں کیا رائے قائم کریں گے۔ مگر دعوت کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہے۔ داعی لوگوں کو ختم کرنے کے بجائے لوگوں کو اپنے اندر ضم کرنا چاہتا ہے۔ اس لیے داعی ایسا نہیں کرتا کہ لوگوں کے خلاف اندھا دھند سزائیں جاری کرنا شروع کر دے۔ وہ یک طرفہ طور پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ انسان کے ”حال“ سے زیادہ انسان کے ”مستقبل“ پر نظر رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کو معاف کرتا ہے تاکہ لوگوں کے اندر اس کے بارہ میں نرم گوشہ پیدا ہو، وہ لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کا انداز اختیار کرتا ہے تاکہ جو لوگ آج اس کے ہجو گو ہیں، کل وہ اس کے مدح خواں بن جائیں۔ جو لوگ ابھی اس کے ساتھی نہیں بنے، آئندہ وہ اس کے شریک اور ساتھی بن جائیں۔ داعی کا کام غیر کو اپنا بنانا ہے، نہ کہ جو غیر دکھائی دے اس کا دشمن بن کر صرف اس کی ہلاکت کے درپے ہو جانا۔

Printed page