بد نامی سے بچت
Al-Risala, July 1989, pp. 18–21
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی کارخانہ کی خوش نامی اس کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح اسلام کی اشاعت کے لیے اس کی دعوتی تصویر بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اسلام میں یہ بات آخری حد تک مطلوب ہے کہ اسلام کی دعوتی تصویر کو بگڑنے سے بچایا جائے۔ اسلام کی دعوتی تصویر کی حفاظت ہر دوسری چیز پر مقدم ہے حتیٰ کہ توہینِ رسول اور اہانتِ اسلام جیسے جذباتی مواقع پر بھی۔
اس معاملہ کی وضاحت کے لیے یہاں عبد اللہ بن ابی بن سلول کی مثال درج کی جاتی ہے۔ یہ شخص مدینہ کے قبیلہ خزرج کا سردار تھا۔ اس کی غیر معمولی صلاحیت کی بنا پر مدینہ کے لوگوں نے اس کو اپنا بادشاہ بنانا چاہا۔ اس کے لیے ایک تاج کی تیاری بھی شروع ہو گئی۔ عین اسی زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے۔ یہاں آتے ہی لوگوں نے آپ کو اپنا بڑا بنا لیا۔ عبد اللہ بن ابی کو اس سے بہت تکلیف پہنچی۔ حالات کے دباؤ کے تحت اس نے رسول اللہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ تاہم اس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بغض پیدا ہو گیا۔ وہ اپنے دل کو تسکین دینے کے لیے ساری عمر آپ کی توہین و تحقیر کرتا رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لیے نکلے۔
ایک گدھے پر سوار تھے۔ راستہ میں عبداللہ بن ابی کا قلعہ نما مکان آیا جس کا نام مزاحم تھا۔ عبداللہ بن ابی کے گرد اس کے قبیلہ کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ وہاں سواری سے اتر پڑے اور عبداللہ بن ابی کے پاس پہنچ کر اس کو سلام کیا۔ آپ تھوڑی دیر وہاں بیٹھے اور قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔
راوی (اسامہ بن زید بن حارثہ) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی کے ساتھ چپ چاپ سنتا جب آپ فارغ ہو چکے تو عبداللہ بن ابی نے کہا: اے شخص، آپ کی یہ بات تو اچھی ہے، لیکن اگر وہ حق ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھیں اور جو شخص اس کو سننے کے لیے آپ کے پاس آئے اس کو سنائیں، اور جو شخص آپ کے پاس نہ آئے تو اس کو آپ اس کی تکلیف نہ دیں۔ اور ایسے شخص کی مجلس میں اس کا ذکر نہ کریں جو اس کو ناپسند کرتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ بن ابی کا یہ قول سخت ناگوار ہوا مگر آپ خاموشی سے آگے بڑھ گئے (سیرت ابن ہشام، الجزئر الثانی، صفحہ ۲۱۹) غزوہ احد (شوال ۳ ھ) میں قریش کا لشکر مکہ سے چل کر مدینہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے مشورہ فرمایا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ دوسرے لوگوں نے کہا کہ شہر کے اندر ٹھہر کر مقابلہ کیا جائے ۔ عبداللہ بن ابی نے یہی دوسری رائے پیش تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے گر وہ کی رائے کا لحاظ فرمایا اور ایک ہزار آدمیوں کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔
جب آپ مدینہ اور احد کے درمیان پہنچے تو عبداللہ بن ابی اپنے تین سو آدمیوں کو لے کر اسلامی فوج سے الگ ہو گیا۔ اس طرح اس نے بے حد نازک موقع پر سخت بے وفائی کا ثبوت دیا۔ کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھی کی۔ اس نے حقارت آمیز لہجہ میں کہا کہ اس شخص نے دوسروں کی بات مانی اور میری بات نہیں مانی۔ لوگو، میں نہیں سمجھتا کہ ہم یہاں کس لیے اپنے آپ کو ہلاک کریں (اطاعتہم وعصانی، مانند وی علام نقتل انفسنا ههنا ايها الناس) (سیرت ابن ہشام، الجزئر الثالث، صفحہ ۸)
غزوہ بنی المصطلق شعبان 6 ھ میں ہوا۔ اس مہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ سفر سے واپسی میں ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قافلہ نے ایک
مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ صبح کو اندھیرے میں روانگی ہوئی۔ اس وقت ایک اتفاقی غلطی سے حضرت عائشہ، جو آپ کے ساتھ شریک سفر تھیں، قافلہ سے پیچھے رہ گئیں۔ سورج نکلنے کے بعد ایک صحابی صفوان بن معطل سلمیٰ اس جگہ سے گزرے۔ انہوں نے حضرت عائشہ کو اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور خود اس کی نکیل پکڑ کر آگے چلتے ہوئے نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہناچایا۔ اس واقعہ کو عبداللہ بن ابی نے خوب استعمال کیا۔ حضرت عائشہ کا اس طرح تنہا ایک نوجوان کے ساتھ آنا ایک ہنگامی سبب مگر عبداللہ بن ابی نے اس کو برے معنی پہن کر خوب تقریریں کیں۔ اس نے اس واقعہ کو پیغمبر کی کردار کشی کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔ یہاں تک کہ پورے مدینہ میں آپ کے خلاف شک وشبہ کی فضا پیدا ہوگئی۔
اس واقعہ کی تفصیلات سیرت اور تفسیر کی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ قرآن مجید میں بتایا گیا ہے کہ جس شخص نے اس بہتان تراشی میں سب سے بڑا حصہ ادا کیا اس کے لیے عذاب عظیم ہے (النور (11) اس آیت میں جس شخص کے لیے سب سے بڑے عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد عبداللہ بن ابی مگر اس کو دنیا میں کوئی سزا انہیں دی گئی۔ اس کے معاملہ کو تمام تر آخرت کے لیے چھوڑ دیا چنانچہ وہ مدینہ میں اپنی طبعی موت سے مرا۔
غزوہ بنی المصطلق (۵ھ) سے واپسی میں ایسا ہوا کہ پانی کے ایک چشمہ پر پانی لینے کے لیے مسلمانوں کا ہجوم ہو گیا۔ اس وقت ایک مہاجر اور ایک انصاری آپس میں لڑ گئے ۔ مہاجر نے کہا: یا لکمہا جرین انصاری نے کہا: یا للأنصار ۔ یہاں تک کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مداخلت فرما کر اس کو ختم کیا۔
عبد اللہ بن ابی پہلے سے اس بات پر خوش نہ تھا کہ مکہ کے مسلمانوں کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ بلا کر انہیں یہاں پناہ دی جائے۔ اس واقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے اپنے قبیلہ والوں کے سامنے اشتعال انگیز تقریر کی۔ اس میں اس نے کہا کہ اپنے کتے کو پال کر موٹا کرو کرو وہ تمہیں کو کاٹ کھائے ۔ خدا کی قسم، اگر ہم مدینہ واپس پہنچ گئے تو عزت والا ذلت والے کو وہاں سے نکال دے گا۔
عبداللہ بن ابی کی یہ باتیں سن کر صحابہ کو غصہ آگیا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول،
مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (دعہ لا يتحدث الناس ان محمد ايقتل اصحابه) تفسیر ابن کثیر، الجزء الرابع ، صفحہ370)