Al-Risala · July 1989

مزید مثالیں

Al-Risala, July 1989, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

اس طرح کے اور بھی بہت سے واقعات سیرت کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ مثلاً لیث بن سعد نے یحییٰ بن سعید سے، انھوں نے ابوالزبیر سے روایت کی ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ نے کہا کہ جعرانہ میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے۔ آدمی نے دیکھ کر کہا کہ اے محمد، انصاف کیجئے (یا محمد اعدل) آپ نے فرمایا، تمہارا برا ہو، اگر میں انصاف نہ کروں تو اور کون انصاف کرے گا۔

حضرت عمر نے یہ گفتگو سن کر کہا کہ اے خدا کے رسول، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں، آپ نے فرمایا: اللہ کی پناہ کہ لوگ یہ کہیں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ (معاذ الله ان يتحدث الناس انى ا قتل اصحابی) سيرة ابن كثیر، المجلد الثالث ، صفحه ۷۸۰ غزوہ تبوک کی واپسی میں کچھ منافق قسم کے مسلمان آپ کے ساتھ تھے۔ یہ لوگ مخلص مسلمانوں سے الگ ہو کر بیٹھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے ہودہ باتیں کیا کرتے۔ حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت کچھ لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ جانتے ہو کہ یہ کون لوگ ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے بتایا کہ یہ لوگ بیٹھ کر آپس میں ہمارے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ حضرت حذیفہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا آپ ہمیں اجازت دیں گے کہ ہم انھیں قتل کر دیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے ناپسند ہے کہ لوگ یہ چرچا کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں (اکره ان يتحدث الناس ان محمد ايقتل اصحابه) سيرة ابن كثیر، المجلد الرابع ، صفحه ۳۵ ۔

Printed page