Al-Risala · July 1989

زیادہ قابل لحاظ

Al-Risala, July 1989, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بہت سے ایسے لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کی اور آپ کے خلاف سب وشتم والے افعال

حتیٰ کہ صحابہ کرام کو وہ قابل قتل نظر آنے لگے۔ انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اجازت دیں تو وہ انہیں قتل کر دیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قتل کی اجازت نہ دی۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ اگر میں ان کو قتل کر دوں تو لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اس کو اسلام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔

اس سے معلوم ہوا کہ کوئی چیز ہے جو ”قتل شاتم“ سے بھی زیادہ قابل لحاظ ہے۔ اور وہ اسلام کی دین رحمت کی تصویر ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں دعوتی تصویر بھی کہا جا سکتا ہے۔ اسلام کی دعوتی تصویر بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک شخص کے کھلے ہوئے سب وشتم اور اس کی شدید ایذارسانی کے باوجود اس کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کو نظر انداز کر کے چھوڑ دیا جائے گا۔

اسلام میں سب سے زیادہ قابلِ لحاظ چیز دعوتی مصلحت ہے۔ دعوتی مصلحت اسلام میں سپریم حیثیت کا درجہ رکھتی ہے۔ دعوتی مصلحت کی خاطر ہر دوسری چیز کو نظر انداز کر دیا جائے گا، خواہ وہ بجائے خود کتنی ہی زیادہ سنگین نظر آتی ہو۔ مسلمانوں کے دلوں کا مجروح ہونا خدا اور رسول کی نظر میں اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ دعوتی مصلحت کا مجروح ہونا۔ اگر کسی معاملہ میں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں تو انہیں اپنے جذبات کو دبانا چاہیے، نہ کہ وہ جذبات کا بے جا اظہار کریں اور دعوت کے قیمتی مصالح کو برباد کر کے رکھ دیں۔

Printed page