Al-Risala · July 1989

اغیار کو موقع نہ دینا

Al-Risala, July 1989, pp. 22–24

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ واقعات میں جن افراد کا ذکر ہے، ان کی توہین رسول اور اسلام دشمنی بالکل واضح اپنے کردار کے اعتبار سے بلاشبہ وہ لوگ اس کے مستحق بن چکے تھے کہ ان کو قتل کر دیا جائے اسی بنا پر صحابہ کرام نے ان کو اعداء اللہ قرار دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ اجازت دیجئے کہ ہم خدا اور رسول کے ان دشمنوں کو قتل کر کے ان کا خاتمہ کر دیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان اشخاص کو قتل کرتے تو اس کی وجہ یقیناً ان کی اسلام دشمنی مگر امتحان کی اس دنیا میں جہاں ہر ایک کو آزادی ہے، آپ کسی کو اس پر مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ وہی الفاظ بولے جو آپ چاہتے ہیں کہ بولا جائے۔ چنانچہ یہ یقینی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر صرف ان کے شتم کو دیکھا اور شتم کی سزا کے بعد پیدا ہونے والے نتائج کو نہیں دیکھا اور ان

افراد کو قتل کرایا تو اس کے بعد ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ اصل واقعہ کے مطابق صرف یہ کہیں کہ "محمد نے اسلام دشمنوں کو قتل کیا ہے" اس کے برعکس یقینی تھا کہ وہ یہ کہیں گے کہ "محمد ایسے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں" ان برے لوگوں کا قتل بجائے خود ایک صحیح فعل تھا۔ مگر حالات کے اعتبار سے یقینی تھا کہ صحیح ہونے کے باوجود وہ عوام کے درمیان اسلام کی بدنامی کا سبب بن جائے گا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل نہیں فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ نہ تھا کہ پہلے قتل کر دیں۔ جب لوگ بدنام کریں تو اس کے بعد یہ شکایت کریں کہ لوگ ہم کو غلط طور پر بدنام کرتے ہیں۔ کے بجائے آپ کا طریقہ یہ تھا کہ ایسا فعل ہی نہ کیا جائے جس کی وجہ سے لوگوں کو غلط طور پر بدنام کرنے کا موقع ملے ۔ اس معاملہ میں یہی حکمتِ نبوی ہے۔

ٹھیک یہی صورت حال آج ہمارے سامنے ہے۔ سلمان رشدی نے بلاشبہ توہینِ رسول اور اسلام دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ حقیقتِ واقعہ کے اعتبار سے وہ سخت سزا کا مستحق ہے۔ لیکن مسلمان اگر اس کے خلاف قاتلانہ کارروائی کریں تو ہرگز ایسا نہیں ہوگا کہ لوگ یہ کہیں کہ مسلمانوں نے ایک اسلام دشمن کو قتل کر دیا۔ بلکہ لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ لوگ یہ کہنے لگیں گے کہ مسلمان آزادیٔ فکر کے قاتل ہیں۔ اسلام کا اصل انحصار تلوار کی طاقت پر ہے نہ کہ دلیل کی طاقت پر۔

ہمیں اس حقیقت کو جاننا چاہیے کہ موجودہ زمانہ آزادیٔ فکر کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادیٔ فکر کو سب سے بڑی قدر کا درجہ دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں آزادیٔ خیر اعلیٰ کی حیثیت رکھتی آج کا انسان کسی اپنے مذہب یا نظام کو غیر مہذب اور وحشیانہ سمجھتا ہے جو آزادیٔ فکر کو تسلیم نہ ایسی حالت میں، باعتبارِ نتیجہ، سب سے بڑی اسلام دشمنی یہ ہوگی کہ کوئی ایسا عمل کیا جائے جو دنیا والوں کو یہ کہنے کا موقع دے کہ اسلام آزادیٔ فکر کا قاتل ہے، اور اس لیے وہ ایک وحشیانہ اس معاملہ میں سنتِ رسول کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کو اس "بدنامی" سے بچایا جائے، خواہ اس کی جو بھی قیمت دینی ہو، خواہ اس کے لیے کتنی ہی بڑی چیز کو برداشت کرنا پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام دشمنوں کو قتل نہیں کیا تاکہ لوگوں کے درمیان اسلام کی دعوت کا دروازہ کھلے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان اسلام دشمنوں کو قتل کرنے کے لیے سرگرم ہیں تاکہ لوگوں کے درمیان اسلام کی دعوت کا دروازہ بند ہو جائے، اس قسم کی سرگرمی بلاشبہ سرکشی ہے، اس کا

خدا اور رسول کے دین سے کوئی تعلق نہیں ۔

Printed page