Al-Risala · July 1989

دو اقتباس

Al-Risala, July 1989, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کے مجنونانہ ایجی ٹیشن کا فائدہ تو کچھ نہیں ہوا۔ البتہ اس کا یہ زبر دست نقصان ہوا کہ اسلام ساری دنیا میں بد نام ہو کر رہ گیا ۔ اس کی بے شمار مثالیں ۱۹۸۹ کے نصف اول میں سامنے آئی ہیں۔ یہاں مسئلہ کی وضاحت کے لیے ان میں سے دو مثال نقل کی جاتی

" لندن کے مضافات میں مقیم ایک برطانوی نژاد نو مسلم انگریز نے، جس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے، لکھنؤ میں مقیم اپنے ایک دوست کو لکھا ہے کہ مجھے اپنے خاندان ، رشتہ داروں ، اپنے دوستوں اور اپنی پوری قوم کا رویہ ایک دم بدلا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ چاروں طرف سے لوگ حملے کر رہے ہیں ۔ حملے کس رہے ہیں، اور خمینی کا نام لے کر چڑھار ہے ہیں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انگریز قوم کے اندر دیکھتے ہی دیکھتے اسلام سے اتنی سخت نفرت پیدا ہو جائے گی ۔ اس واقعہ سے پہلے جو چند ماہ میں نے اسلام لانے کے بعد یہاں گزارے تھے ، ان کے دوران مجھے ایسی تلخی کا کبھی تجربہ نہیں ہوا تھا ۔ ماخوذ از : ماہنامہ الفرقان ، لکھنؤ، اپریل ۱۹۸۹ ، صفحہ ۴-۵ ٹائم میگزین (۷ اپریل ۱۹۸۹) کے دو صفحہ پر یورپ میں اسلام کے بارہ میں ایک با تصویر رپورٹ شائع ہوئی ہے ۔ اس رپورٹ کا ایک پیراگراف یہ ہے :

The incendiary furor over Salman Rushdie and his novel ‘The Satanic Verses seemed to confirm the long-standing Western stereotype of Islam as a religion of intolerance and violence. The clash in Europe was especially acute. Almost overnight, efforts to erase old perceptions were "demolished," says French historian Bruno Etienne, a scholar of Islam. "I would have preferred that instead of the screaming thousands brought to us by TV, we could have seen the hundreds of thousands of Muslims who reflect and who pray in private for an integrated Islam." سلمان رشدی اور اس کے ناول " شیطانی آیات پر مسلمانوں کا اشتعال انگیز ۔

شور و غل مغرب کے اس قویم نظریے کی تصدیق کرتا ہوا نظر آتا ہے کہ اسلام غیر رواداری اور تشدد پسندی کا مذہب ہے۔ یورپ میں ٹکراؤ خاص طور پر بہت سخت تھا۔ رات ایسا ہوا کہ قدیم تصورات کو مٹانے کی کوششیں ملیا میٹ ہو کر رہ گئیں۔ مورخ برونوایٹنی جو اسلام کا عالم ہے، اس نے کہا کہ ہزاروں لوگ جو ہم کوٹی دی کے اوپر چیختے چلاتے ہوئے دکھائے گئے، اس کے مقابلہ میں مجھ کو یہ زیادہ پسند تھا کہ ہم ایسے ہزاروں مسلمان دیکھتے جو اپنی تنہائیوں میں اسلام کے استحکام کے لیے دعائیں کر رہے ہوتے۔

ان دو حوالوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں نے رشدی کے خلاف جو بے معنی شور و غل کیا، وہ کس طرح کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچا، البتہ وہ اسلام کی بدنامی کا سبب ضرور بن گیا۔

الرساله اردو اور انگریزی ایک، ایک سال کی فائل مجلد کروائی گئی ہے۔ فی الحال الرساله اردو ۱۹۸۰ سے ۱۹۸۸ تک تیار ہے اور تک تیار ہے۔ ہدیہ فی جلد ۶۰ روپیہ

Printed page