سفر امریکہ۔ ۲
Al-Risala, July 1989, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
گارڈن گروو (Garden Grove) امریکہ کا ایک شہر ہے جو لاس اینجلس کے قریب پیسفک سمندر کے کنارے واقع ہے۔ اس کی آبادی تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہے۔ اسلامک سوسائٹی یہیں پر ۱۹۶۲ء میں قائم ہوئی۔ اپنے دستور کے مطابق یہ ایک غیر سیاسی (Non-political) ادارہ ہے۔ میں برابر ترقی ہوتی رہی۔ اب وہ پانچ ایکڑ سے زیادہ بڑے رقبہ میں قائم ہے۔ اس کے اندر مسجد، کانفرنس روم، لائبریری، اسکول، وغیرہ واقع ہیں۔ اس سوسائٹی کے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر مزمل حسین سو سائٹی کی ہر چیز امریکی معیار کے مطابق ہے۔ اس کے اسکول کو دیکھتے ہوئے ہم ایک بند دروازہ پر پہنچے۔ معلوم ہوا کہ اس کے اندر لفٹ لگی ہوئی ہے۔ اس لفٹ پر سوسائٹی کو ۴۵ ہزار ڈالر خرچ کرنا پڑا۔ یہاں کا قانون یہ ہے کہ ہر اسکول جو گراؤنڈ سے اوپر ہو، خواہ وہ صرف ایک منزل ہو، اس میں لفٹ (Elevator) لگانا ضروری ہے، تاکہ معذور طالب علموں کو اوپر چڑھنے میں کوئی مشکل نہ
امریکہ میں معذوروں (Handicapped) کا ہر سطح پر بے حد خیال کیا جاتا ہے۔ ہر جگہ انھیں خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ یہ صرف لفظی قانون نہیں ہے، بلکہ اس پر باقاعدہ عمل ہوتا ہے۔ سوسائٹی کا اسکول اس وقت تک منظور نہیں کیا گیا جب تک اس نے لفٹ نہ لگالی۔ اب بھی اس کا جدید ترین طرز کا "کیتشن" غیر منظور شدہ ہے، کیوں کہ اس کے طعام خانہ کے دروازہ پر چوکھٹ لگی ہوئی ہے جو معذوروں کی پہیہ دار گاڑی کے بآسانی گزرنے میں رکاوٹ ہے۔ واضح ہو کہ فی الحال سوسائٹی کے اسکول میں کوئی معذور طالب علم موجود نہیں۔
اسلامک سوسائٹی میں مسلم بچوں کے لیے ایک اسکول قائم ہے۔ یہ اسکول بھی جدید معیار کے مطابق ایک اجلاس میں بچوں نے عربی اور انگریزی میں تقریریں کیں۔ اس طرح کے پروگرام ہندوستان میں بھی مکاتب و مدارس میں کیے جاتے ہیں۔ مگر یہاں بچوں نے جس طرح تقریریں کیں، ان کا معیار ہندوستانی طلبہ سے بہتر نظر آیا۔ حسان صدیقی (11سال) نے عربی میں تقریر کی۔ یہ تقریر بالکل عرب لہجہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کوئی عرب بچہ بول رہا ہے۔ اسلامک سوسائٹی کی طرف سے ایک ماہانہ میگزین بھی نکلتا ہے جس کا نام آرنج کریسنٹ (The Orange Crescent) ہے۔
امریکہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہاں ہر چیز کا ایک اسٹینڈرڈ قائم ہو گیا ہے۔ ملک کے ایک
حصہ میں چیزوں کا جو معیار ہے ، وہی آپ کو پورے ملک میں نظر آئے گا ۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ نے امریکہ کے ایک شہر کو دیکھا ہو تو آپ نے تمام شہروں کو دیکھ لیا :
If you have seen one city, you have seen them all. اس ماحول کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں جو اسلامی کام ہو رہے ہیں ، وہ بھی ، کم از کم ظاہر کے اعتبار سے ، جدید معیار کے مطابق ہیں۔ ہندوستان میں ہمارے بزرگوں نے دعوت کا کام زیادہ تر پست طبقات میں کیا ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں اسلام کا معیار بھی پست ہو گیا۔ امریکہ میں عمومی طور پر پست و بلند کا یہ فرق نہیں ہے ، اس لیے یہاں اسلام کا کام کرنے والوں کو بھی اپنا معیار بلند رکھنا پڑتا ہے، ورنہ یہاں کے ماحول میں وہ بے قیمت ہو کر رہ جائیں۔
امریکہ میں بڑی تعداد میں ایسے مراکز قائم ہیں جن کو یہاں کی اصطلاح میں " اسلامک سنٹر کہا جاتا ہے ۔ ہندوستانی اصطلاح میں ان کو وسیع تر مسجد کہہ سکتے ہیں ۔ کیوں کہ یہاں مرکزی طور پر ایک مسجد ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ دوسرے تعلیمی اور ثقافتی شعبے بھی ۔ یہ مراکز یہاں کے مسلمانوں کے لیے نقطہ اتحاد یا اجتماعی شیرازہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس قسم کے ایک مرکز کے بارہ میں معلوم ہوا کہ وہاں کے وابستہ مسلمانوں میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے ۔ وہاں میں نے لوگوں کے اجتماع میں ایک تقریر کی ۔ اس میں میں نے بتایا کہ اتحاد کی واحد قیمت اختلاف کو برداشت کرنا ہے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے ہی کا دوسرا نام اتحاد ہے۔ اس سلسلہ میں صحابہ کرام کی بہت سی مثالیں دیں (اس تقریر کا ٹیپ مرکز میں موجود ہے) تقریر کے بعد بعض اعلی تعلیم یافتہ افراد مجھ سے ملے۔ انھوں نے کہا کہ ” اختلاف کے باوجود اتحاد " کا یہ نظریہ ابھی تک ہم کو بتایا ہی نہیں گیا۔ حالاں کہ اس معاملہ میں اہم ترین بات یہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ مشرق کے مسلمان ہوں یا مغرب کے مسلمان ، سب کی واحد کمی یہ ہے کہ ان میں حقیقی شعور موجود نہیں ۔ ہمارے علماء اور قائدین خود ہی بے شعوری کا شکار ہیں ، پھر وہ دوسروں کو کس طرح شعور دے سکتے ہیں۔
اسلامک سوسائٹی ڈارنج کاونٹی) کے علاقہ میں تقریباً سو ہزار مسلمان رہتے ہیں۔ ان میں بمشکل دس فیصد ایسے مسلمان ہوں گے جو اسلامک سوسائٹی سے وابستہ ہوں۔ میں نے سوسائٹی
کے زیر اہتمام ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کے پاس ایک بار کسی دور کے شہر سے ایک تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ آیا۔ اقبال نے معذرت کرتے ہوئے لکھا۔ اقبال خانہ نشیں اور موجودہ طوفان کے زمانہ میں اپنے گھر کو کشتی نوح سمجھتا ہے ۔
میں نے کہا کہ امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں جو مسلمان آباد ہیں وہ اور ان کی نسلیں ایک کلچرل طوفان سے دوچار ہیں ۔ وہ مغربی تہذیب کے طوفانی سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں ۔ میں " اسلامک سوسائٹی " جیسا مرکز ان کے لیے کشتی نوح کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یہاں کے مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر جگہ ایسے اسلامی مراکز قائم کریں ، اور جہاں وہ قائم ہیں وہاں انھیں مضبوط کریں اور ان سے وابستہ رہتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کریں ۔ جو لوگ ان مرکزوں سے علیحدہ رہیں گے ان کے لیے اندیشہ ہے کہ وہ فکان من المغرقين (ہود (۴۳) کا مصداق ثابت ہوں ۔
امریکی براعظم کے دو بڑے حصے ہیں ۔ ایک کو ساؤتھ امریکہ اور دوسرے کو نارتھ امریکہ کہا جاتا ہے۔ نارتھ امریکہ زیادہ ترقی یافتہ ہے ۔ اگر صرف لفظ " امریکہ " بولا جائے تو اس سے یہی نارتھ امریکہ مراد لیا جاتا ہے ۔ میرا موجودہ سفر نارتھ امریکہ میں ہوا جس کو زیادہ صحیح طور پر یوایس یا یوایس اے کہا جاتا امریکہ (یو نائیٹڈ اسٹیٹس) کا رقبہ ۹۳۶۳۲۰۵ مربع کلومیٹر ہے ۔ یہ رقبہ انڈیا کے مقابلہ میں تین گنا زیادہ ہے ۔
" امریکہ ایک خوش قسمت ملک ہے " ایک صاحب نے کہا " امریکہ میں ہر قسم کے قدرتی ذرائع وافر مقدار میں موجود ہیں ، اور یہی اس کی غیر معمولی ترقی کا راز ہے ۔ " میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے ۔ امریکہ نے اگر ذرائع کی فراوانی کے بل پر ترقی کی ہے تو جاپان کی ترقی کے بارہ میں آپ کیا کہیں گے جہاں قدرتی ذرائع نایابی کی حد تک کم ہیں ۔ سیاسی حالات کا غیر موافق ہونا اس پر مزید حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں جاپان کا ظاہرہ یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان کی محنت اور دانش مندی ہر چیز پر فوقیت رکھتی ہے ۔ وہ ہر دوسری چیز پر بالا ثابت ہوتی ہے ۔ اینڈریو کلگور (Andrew Killgore) یہاں کی ایک مشہور شخصیت ہیں ۔ انھوں نے امریکہ کی مہاجر کمیونٹی کے ایک اجتماع میں تقریر کی ۔ اس میں انھوں نے کہاکہ کسی بھی سماج میں سب سے زیادہ محنت سے کام کرنے والے لوگ مہاجر ہیں :
The hardest working people in any society are the immigrants. امریکہ جیسے ملک میں جو حیثیت مہاجر کی ہے، وہی ہندوستان جیسے ملک میں اقلیتی فرقہ کی ہے۔ اعتبار سے، دونوں ہی اقلیت کا کیس ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ امریکہ کی اقلیت، زیادہ محنت کے ذریعہ اپنے کامیاب مستقبل کی تعمیر کر رہی ہے، اور ہندوستان کی اقلیت " محنت کے راستہ کو چھوڑ کر احتجاج اور مطالبہ کا ناکام راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
اس فرق پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ امریکہ جیسے ملکوں کی " اقلیتیں " اپنی فطرت پر ہیں۔ یہ فطرت کا سکھایا ہوا سبق ہے کہ جہاں کم مواقع ہوں، وہاں زیادہ محنت کرو۔ چنانچہ یہ لوگ فطرت کے زیر اثر ایسا کرتے ہیں کہ محنت کی زیادتی سے مواقع کی کمی کی تلافی کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہندوستان جیسے ملکوں میں فطرت اور انسان کے درمیان ایک مصنوعی پردہ حائل ہو گیا ہے۔ یہ نام نہاد لیڈروں کا پردہ ہے۔ لیڈروں نے مسلسل جھوٹا سبق پڑھا کر یہاں کے انسان کو فطرت کے راستہ سے ہٹا دیا ہے۔ ہندوستان کی اقلیت کو اگر اس کے اپنے حال پر چھوڑ دیا گیا ہوتا تو وہ بھی اپنی فطرت کے زور پر وہی طریقہ اختیار کر لیتی جو امریکہ کی اقلیت نے اختیار کیا۔
امریکی اقلیت کی خوش قسمتی یہ ہے کہ اس کی رہنما خدائی فطرت ہے، ہندوستانی اقلیت کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کے رہنما جھوٹے انسانی لیڈر ہیں۔ انھیں دو لفظوں میں دونوں ملکوں کی اقلیتوں کے فرق کا راز چھپا ہوا ہے۔
امریکہ کی آبادی ڈھائی سو ملین (۲۵ کروڑ) ہے۔ اس میں چھ ملین یہودی ہیں۔ کل آبادی کا تین فی صد۔ اس اعتبار سے وہ یہاں کی ایک بہت چھوٹی اقلیت ہیں۔ مگر امریکی یہودی اپنے کو اقلیت امریکی نظریہ کے مطابق، وہ مختلف مگر برابر (Different but equal) کے اصول کو مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اقلیت محض کوئی عددی معاملہ نہیں۔ وہ دراصل ایک ذہنی حالت کا نام ہے :