Al-Risala · July 1989

Minority is a state of mind.

Al-Risala, July 1989, pp. 30–32

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان میں بھی آپ کو ایسے مسلمان ملیں گے جو یہ کہیں گے کہ ہم اس ملک میں اقلیت نہیں ہیں، ہم یہاں کی دوسری سب سے بڑی اکثریت ہیں۔ مگر ہندوستانی مسلمان کی یہ بات محض ایک لفظی فخر ہے ۔ جب کہ امریکی یہودی کی مذکورہ بابت مواقع کار کو بنانے کے لیے ہوتی ہے۔ وجہ ہے کہ ہندستانی مسلمان ہندوستان میں اقلیت والے حقوق بھی حاصل نہ کر سکے۔ اس کے برعکس امریکی یہودی امریکہ کے ان مناصب پر قبضہ کیے ہوئے ہیں جو عام حالات میں صرف اکثریت کا حصہ ہوتے ہیں ۔

لی آیا کو کا (Lee Iacoca) امریکہ کی تجارتی دنیا میں افسانوی شخصیت (Legend) کی حیثیت وہ ۱۵ اکتوبر ۱۹۲۴ء کو امریکہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے تجارت کے میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی لکھی ہے جو ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے اور نیو یارک سے چھپی ہے۔ یہاں میں نے یہ آپ بیتی دیکھی۔ اس کا نام ہے : IACOCA: An Autobiography, 1984 انھوں نے لکھا ہے کہ میں نے اپنی زندگی سے یہ سیکھا ہے کہ آدمی چلتا رہے حتی کہ برے وقتوں آدمی مایوس نہ ہو، حتی کہ اس وقت بھی جب کی اس کی دنیا منہدم ہو رہی ہو۔ محنت محنت کی اہمیت کو جانا ۔ آخر کار آپ کو مفید بننا چاہیے :

I learned to keep going, even in bad times. I learned not to despair, even when my world was falling apart. And I learned about the value of hard work. In the end, you've got to be productive. اپنی زندگی کی کہانی بیان کرنے کے بعد آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ آپ نے زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کیسے یہاں تک پہنچے۔ میں وہی جواب دیتا ہوں جو میرے والدین نے مجھے بتایا تھا ۔ اپنے آپ کو استعمال کرو :

People say to me: "You're a roaring success. How did you do it?" I go back to what my parents taught me. Apply yourself (p. 340). امریکہ کے معمار اپنے ہم وطنوں کو زندگی کا راز یہ بتاتے ہیں کہ اپنے آپ کو استعمال کرو

اس کے برعکس ہندوستان کے مسلم لیڈر اپنے ہم قوم لوگوں کو یہ جھوٹا سبق سکھارہے ہیں کہ دوسرے کے خلاف حقوق طلبی کی مہم چلاؤ۔

ہندوستان میں تجارت کا مطلب لوٹ ہوتا ہے۔ یہاں میں کسی کے پاس ملکی صنعت کی بنی ہوئی کوئی چیز دیکھتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ زبانِ حال سے کہہ رہا ہو: ایک مرتبہ تو میں پھنس گیا، مگر دوبارہ میں پھنسنے والا نہیں۔ ہندوستان میں آدمی قیمت دے کر بھی اپنی مطلوب چیز کو نہیں پاتا۔

امریکہ میں صورت حال اس سے بالکل مختلف نظر آئی۔ یہاں ہر چیز سائنس کے جدید معیار پر بنائی جاتی ہے۔ ہینڈ بیگ سے لیکر کار تک، اور ٹیلی فون سے لیکر دستی گاڑی تک ہر چیز عین وہی ہے جیسا کہ معیار کے مطابق اسے ہونا چاہیے۔ یہاں کا گاہک ضروری قیمت دینے کے بعد ہمیشہ اپنی مطلوب چیز کو پا لیتا ہے۔

یہ فرق دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ہندوستان میں بھری ہوئی سیٹوں کے درمیان ایک عظیم الشان سیٹ ابھی خالی ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کوئی اگر وہاں بیٹھے۔ یہاں تجارتی لوٹ کی جگہیں بھری ہوئی ہیں۔ مگر تجارتی تبادلہ کی جگہ ابھی تک خالی ہے۔ یہاں کے مسلمان اگر کو آپریٹو سوسائٹیاں بنائیں اور مشترکہ سرمایہ کے ذریعہ مختلف صنعتیں کھولیں جہاں سستے سامان بنانے کے بجائے حقیقی مطلوبہ معیار کے مطابق چیزیں بنائی جائیں تو وہ زبردست کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کے وسیع جغرافیہ میں وہ اپنا ایک "امریکہ" بنا سکتے ہیں۔

امریکی ایک بہت خرچ کرنے والی قوم ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت جاپانی اپنی آمدنی کا ۱۸ فی صد حصہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کرتے ہیں۔ جب کہ امریکی اپنی آمدنی کا صرف ۳ فی صد حصہ سیونگ اکاؤنٹ میں جمع کرتے ہیں۔ چنانچہ بچت (Individual savings) کے اعتبار سے اس وقت جاپانی سب سے زیادہ بچانے والی قوم ہیں۔ ۱۹۸۸ میں جاپانیوں کے سیونگ اکاؤنٹ میں مجموعی طور پر جو رقم تھی۔ اس کی مقدار ۵۰۰۰ بلین ڈالر ہے۔

امریکیوں کی اسی خصوصیت کا یہ نتیجہ ہے کہ وہاں ہر قسم کی سرگرمیاں شباب پر نظر آتی ہیں۔ کوئی بھی غلط یا صحیح کام کیجیے، وہاں آپ کو مالی تعاون کرنے والے مل جائیں گے۔

میں رقم دینے والے امریکہ میں سب سے زیادہ ہیں ۔ دنیا بھر کی عیسائی مشنریوں کو سب سے زیادہ امداد امریکہ سے ملتی ہے ۔ ہندو گروؤں کو سب سے زیادہ تعاون امریکہ سے ملا ہے ۔ لٹریچر کا سب سے بڑا مارکیٹ امریکہ ہے ، وغیرہ ۔ بعض لوگ اس کی شکایت کرنے والے ملے کہ امریکہ کے لوگ بے فائدہ کاموں میں بہت زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں ، مگر ان کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ امریکہ میں فائدہ والے کاموں کے لیے بھی بہت زیادہ تعاون حاصل ہو جاتا ہے ۔ مغربی دنیا میں امریکی لوگ سب سے زیادہ مذہبی سمجھے جاتے ہیں ۔ مثلاً فرانس میں صرف ۵ فی صد لوگ چرچ جاتے ہیں ۔ انگلینڈ میں ۱۰ فی صد ۔ مگر امریکہ میں چرچ جانے والوں کی تعداد ۵۰ فی صد ہے ۔ امریکہ غالباً واحد ملک ہے جس کی کرنسی رڈال پر یہ فقرہ لکھا ہوا ہوتا ہے : In God we trust ایک طرف امریکہ میں اگر جنسی آزادی اور اس قسم کی دوسری برائیاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف ان کے یہاں مذہبی مزاج بھی پوری طاقت کے ساتھ موجود ہے ۔ اگر امریکی سماج کے تاریک پہلوؤں کو نظر انداز کر کے دیکھا جائے تو یہاں اسلامی دعوت کے مواقع نہایت روشن نظر آئیں گے ۔

یہاں اگر آپ صبح کے وقت کسی سڑک پر نکلیں تو ہر گھر کے سامنے آپ کو پلاسٹک کے بڑے بڑے تھیلے رکھے ہوئے نظر آئیں گے ۔ ان تھیلوں کے اندر گھر کا کوڑا بھرا ہوتا ہے ۔ ان کو اٹھا کر لے جاتی ہیں ۔ پھر خاص قسم کی مشینوں میں رکھ کر انھیں دبایا جاتا ہے تو ان کا حجم بہت کم ہو جاتا ہے ۔ اس طرح ان کو ٹھکانے لگانا آسان ہو جاتا ہے ۔ مغربی ملکوں میں یہ کام ایک مستقل فن بن چکا ہے جس کو گاربالوجی (Garbology) یا ویسٹ مینجمنٹ (Waste management) کہا جاتا ہے ۔

اس فن میں تازہ ریسرچ اس بات پر ہو رہی ہے کہ کوڑے سے کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کے لیے کیا کیا جائے ۔ یہ ریسرچ اب کافی آگے بڑھ چکی ہے ۔ حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ آئندہ یہ ممکن ہو سکے گا کہ سیور گیس (Sever gas) سے ڈائمنڈ بنایا جاسکے ۔ امریکی بحریہ کے سائنس دانوں نے حال میں اس کا دعویٰ کیا ہے ۔ ایک شخص نے اس کو بتاتے ہوئے کہا :

Printed page