نقصان در نقصان
Al-Risala, January 1989, pp. 33–34
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات ۱۹۵۷) مدرسۃ الاصلاح کے صدر مدرس تھے۔ انھوں نے ایک مسلمان عالم کا نام لے کر کہا کہ وہ عربی زبان پر نہایت عمدہ قدرت رکھتے ہیں۔ عرب سفارت خانہ میں کام کرتے ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں ان کو ادب عربی کے استاد کی حیثیت سے اپنے مدرسہ میں بلاؤں۔ مگر میں ان کو سفارت خانہ والی تنخواہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے میں اپنے مدرسہ کے لیے ان کو حاصل بھی نہیں کر سکتا۔
یہ بات چالیس پہلے کی ہے۔ اب یہ صورت حال چالیس گنا سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تمام بہترین صلاحیتیں اغیار کے قبضہ میں ہیں۔ مسلم اداروں کو ان کا کوئی حصہ حاصل نہیں۔ تیسری دنیا (Third world) کی اصل کمزوری یہ ہے کہ اس میں سب تیسرے درجہ کے لوگ بھرے ہوئے ہیں۔ یہاں جتنے اعلیٰ درجہ کے افراد تھے، اور جو اونچی تعلیم پائے ہوئے تھے، وہ ملینوں (Millions) کی تعداد میں یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں جاکر آباد ہو گئے ہیں۔ کیوں کہ وہاں ان کو زیادہ پیسہ اور زیادہ بہتر مواقع حاصل ہیں۔ یہی تمام مسلم قوموں کا حال ہے۔ اور یہی غیر مسلم اقوام کا حال بھی۔
ہندوستان اور پاکستان کے مسلم اداروں کو دیکھیے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان اداروں کی کارکردگی اچھی نہیں۔ ان اداروں میں کام کا وہ معیار نہیں رہا جو پہلے وہاں پایا جاتا تھا۔ واحد وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ ذہن تقریباً سب بیرونی ملکوں میں چلے گئے اب صرف کم تر صلاحیت کے لوگ باقی رہ گئے ہیں جو مسلم اداروں کی ذمہ داریاں سنبھالیں ۔ اور جن اداروں میں کمتر صلاحیت کے لوگ بھرسے ہوئے ہوں ان کی کارکردگی کا معیار کمتر کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اعلیٰ کام ہمیشہ اعلیٰ آدمی کرتے ہیں۔ جب اعلیٰ آدمی ہی نہ رہیں تو اعلیٰ کام کیسے ہو سکتا ہے۔ اس صورت حال کا سب سے زیادہ عبرت ناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے اکابر سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت تک مغربی اقوام کو سب سے بڑی لعنت بتاتے رہے۔ انھوں نے ملت کے تمام بہترین وسائل اس محاذ پر لگا دیے کہ ان بیرونی اقوام کی غلامی سے ملت کو رہائی دے سکیں، مگر جب
ناقابل بیان قربانیوں کے بعد بیرونی قو میں ہمارے ملکوں سے واپس چلی گئیں تو اب یہ حال ہے کہ ہمارے تمام بہترین افراد اپنا وطن چھوڑ چھوڑ کر خود مغربی ملکوں میں پہنچ گئے اور اب وہ انھیں قوموں کے زیر سایہ زندگی گزارنے کو فخر سمجھ رہے ہیں جن کو ان کے اکابر نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی لعنت قرار دیا تھا۔ کیسے عجیب تھے یہ اکابر اور کیسے عجیب ہیں اکابر کے یہ اختلاف ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان ترقی اور کامیابی چاہتا ہے ۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو انسان کے اندر سے کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی کے رہنماؤں نے اگر ایسا کیا ہوتا کہ جن بے شمار وسائل کو وہ مغربی قوموں کے خلاف لڑائی میں استعمال کرتے رہے ان کو وہ خود اپنے ملک کی علمی اور تمدنی ترقی میں استعمال کرتے تو درد ناک مہاجرت کا یہ واقعہ ، کم از کم اتنے بڑے پیمانہ پر ہرگز پیش نہ آتا۔ ایسی صورت میں حوصلہ مند افراد خود اپنے ملک میں وہ مواقع پالیتے جن کو استعمال کرکے وہ اعلیٰ ترقی حاصل کرسکیں ۔ تیسری دنیا میں آزادی عمل کے مواقع نہ ہونا۔ اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں کا فقدان ، اپنے حوصلوں کے مطابق ترقی کے راستہ میں بڑھتے رہنے والے حالات کی غیر موجودگی ، یہ وہ چیزیں ہیں جو اس واقعہ کو ظہور میں لارہی ہیں جس کو مشرقی ذہن کا مغربی دنیا کی طرف نکاس (Brain drain) کہا جاتا ہے ۔
اجتماعی حالات بے حد نازک ہوتے ہیں ۔ ان کے ساتھ بے شمار پیچیدگیاں وابستہ ہوتی ہیں ۔ اجتماعی زندگی میں کوئی اصلاحی کام کرنا الجھے ہوئے دھاگے کو سلجھانے کے ہم معنی ہے۔ میں جو لوگ اجتماعی زندگی میں نعروں کی سیاست لے کر کھڑے ہو جائیں وہ یا تو حد درجہ غیر سنجیدہ ہیں یا حد درجہ نادان ۔