We can't afford freedom
Al-Risala, July 1989, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری طرف سوویت روس میں پابند زندگی کو قائم کرنے کی کوشش کا یہ بھیانک انجام ہوا کہ سابق روسی وزیر اعظم جوزف اسٹالن نے ۱۲ ملین آدمیوں کو مار ڈالا ، مجموعی طور پر 38 ملین آدمی اس کی تعذیب کا شکار ہوئے۔ یہ اعداد و شمار خود روسی مورخ میڈویڈیو (Roy Medvedev) نے " ماسکو نیوز" میں شائع کیے ہیں (کلیرٹی ۴ م دسمبر ۱۹۸۸) چنانچہ موجودہ روسی وزیر اعظم میخائیل گورباچوف کو اعلان کرنا پڑا کہ " ہم پابند زندگی کا تحمل نہیں کر سکتے "
حقیقت یہ ہے کہ خدائی رہنمائی کے بغیر جب بھی انسانی زندگی کا نقشہ بنایا جائے گا ، وہ یا تو ایک انتہا کی طرف جائے گا یا دوسری انتہا کی طرف ۔ وہ کبھی معتدل اور متوازن نقشہ نہیں ہو سکتا۔ امریکہ کے سابق صدر مسٹر رونالڈ ریگن نے اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں امریکہ کو کوئی ترقی نہیں دی ، البتہ اس کو اقتصادی مشکلات میں مبتلا کر دیا۔ ریگن نے ، بظاہر اپنی ذاتی مقبولیت کو بڑھانے کے لیے ستارہ کی جنگ (Star wars) کا نعرہ لگایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایسی جنگ ٹکنالوجی تیار کی جائے کہ دشمن کے حملہ کا مقابلہ زمین سے اوپر ہو سکے اور اس کو خلا کے اندر ہی برباد کر دیا جائے ۔ اس سلسلہ میں ریسرچ اور تجربات کا خرچ اتنا بڑھ گیا کہ امریکہ جو دنیا کو قرض دیتا تھا ، وہ خود سب سے بڑا مقروض ملک بن گیا۔ اس وقت (۱۹۸۸ کے آخر تک ) امریکی قرضہ دو کھرب ساٹھ ارب ڈالر تک پہونچ چکا ہے۔ صرف جاپان کا قرضہ اس کے اوپر ۱۵ ارب بیس کروڑ ڈالر ہے۔ اس وقت امریکی انتظامیہ کے اخراجات اس کی آمدنی سے بہت زیادہ ہیں۔ مختلف ملکوں کا سرمایہ جو اس وقت امریکہ کے بینکوں میں ہے ، اگر وہ اس کو نکال لیں تو امریکہ اچانک دیوالیہ ہو جائے گا۔ دنیا کے دس بڑے بینکوں میں صرف ایک امریکی بینک ہے ، باقی سب جاپانی بینک ہیں۔ پہلے یہ حال تھا کہ دنیا بھر میں جتنی کاریں تیار ہوتی تھیں ، ان کا ۷۵ فیصد امریکہ تیار کرتا تھا۔ اب صرف ۲۵ فی صد کاریں یہاں
تیار ہو رہی ہیں ۔ ۱۹۷۲ میں دنیا کی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا ۷۰ فی صد امریکہ میں تیار ہوتا تھا۔ اس کی مقدار صرف ۳۰ فی صد رہ گئی ہے ۔
کوئی شخص یا قوم خواہ وہ کتنا ہی زیادہ طاقتور ہو ، اس کی طاقت محدود ہوتی ہے۔ کے اندر اقدام کرنا کامیابی کی طرف لے جاتا ہے اور طاقت کے باہر اقدام کرنا بربادی کی طرف ۔ ایک لطیفہ پڑھنے کو ملا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں مذہبی طبقہ کی اہمیت کیوں کم ہو گئی ہے ۔ اگر سب نہیں تو کم از کم ایک وجہ یقیناً یہی ہے جو اس لطیفہ میں بتائی گئی ہے ۔ ۸۶ سال کی ایک بوڑھی عورت پہلی بار ہوائی جہاز میں سفر کر رہی تھی ۔ اس نے دوران پرواز جہاز کے عملہ کی طرف سے ایک اعلان سنا : آپ کا کیپٹن آپ سے ہم کلام ہے ۔ بعض مشینی خرابی کی وجہ سے ہمارے چوتھے انجن نے کام چھوڑ دیا ہے ۔ تاہم اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ انجن کے ذریعہ اپنی پرواز جاری رکھیں گے اور وقت پر اپنی منزل پر اتر جائیں گے ۔ مزید میرے پاس آپ کے لیے کچھ قابل اطمینان خبر بھی ہے ۔ ہم اپنے ساتھ جہاز میں چار پادری رکھتے ہیں ۔ خاتون جو اعلان کو بغور سن رہی تھی ، اس نے جہاز کے عملہ کے ایک شخص کو بلا کر کہا : براہ کرم کیپٹن سے یہ کہدیں کہ میں اس کو زیادہ پسند کروں گی کہ ہمارے پاس چار انجن ہوں اور تین پادری : An 86-year-old woman who was flying for the first time heard the following announcement come over the plane's intercommunication system. "This is your captain speaking. Our number four engine has just been shut off because of mechanical trouble. However, there is nothing to worry about. We will continue our flight with three engines and will land on schedule. Also, I have some really reassuring news for you. We have four priests on board."
The elderly passenger, who had been listening apprehensively, called the flight attendant. "Would you please tell the captain," she said, "that I would rather have four engines and three priests."
یہ لطیفہ دورِ جدید کے ایک اہم پہلو کو بتاتا ہے ۔ موجودہ زمانہ مشینی زمانہ ہے ۔ آج ہر چیز کا تعلق مشین سے ہو گیا ہے ، خواہ سفر کرنا ہو یا گھر کے اندر کھانا پکانا یا اشیاء صرف کو تیار کرنا ہو ۔ قدیم روایتی دور میں ان چیزوں کے لیے مشینی ماہرین کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ۔ آج ہر چیز کا تعلق مشینی ماہرین سے ہو گیا ہے ۔ یہی صورتِ حال ہے جس نے موجودہ زمانہ میں مذہبی طبقہ کی اہمیت گھٹا دی
اور مشینی طبقہ کی اہمیت کو لوگوں کی نظر میں بڑھا دیا۔ کیوں کہ دورِ جدید کی مشینیں مشیني ماہرین سنبھالتے ہیں نہ کہ مذہبی ماہرین ۔
ایک صاحب نے کہا کہ اسلام، امریکہ میں مغلوب ہو گیا۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جو مسلمان امریکہ آئے ، وہ ابتداء اپنے ساتھ اسلامی تہذیب لے کر آئے تھے۔ اس طرح یہاں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کا مقابلہ پیش آیا ۔ اس مقابلہ میں مغربی تہذیب برتر ثابت ہوئی۔ کیوں کہ ان مسلمانوں کی اکثریت نے اب اسلامی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو اختیار کر لیا ہے ۔
میں نے کہا کہ اس معاملہ کو بتانے کے لیے زیادہ صحیح لفظ یہ ہوگا کہ یہ کہا جائے کہ یہاں جو مقابلہ پیش آیا وہ اصول پسندی اور خواہش پرستی کے درمیان تھا۔ اسلام اصول پسند زندگی کا نمائندہ تھا، اور مغربی تہذیب خواہش پرست زندگی کی نمائندگی کر رہی تھی ۔ اور ساری تاریخ کا یہ تجربہ ہے کہ انسان اس معاملہ میں ہمیشہ کمزور واقع ہوا ہے ، وہ اصول پسندی کو چھوڑ کر خواہش پرستی کی طرف جھک جاتا ہے ۔
یہ تصادم امریکہ میں نہیں بلکہ ہر جگہ جاری ہے ۔ جہاں بھی آدمی کو موقع مل رہا ہے ۔ کو چھوڑ کر خواہش کو اختیار کر لیتا ہے ۔ امریکہ میں یہ واقعہ تہذیب کے انداز میں ہو رہا ہے اور دوسرے مقامات پر عمومی انداز میں ۔
ایک صاحب نے اپنی گفت گو میں مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ کبھی مسلمان دنیا میں غالب اور فاتح حیثیت رکھتے تھے ، آج مسلمانوں کی تعداد ساری دنیا میں ایک بلین سے بھی زیادہ ہے ، مگر آج ہمارا حال یہ ہے کہ دنیا پر اثر انداز ہونا تو درکنار دوسرے لوگ ہمارے قومی فیصلے کرتے ہیں ، آج ہم اپنی قسمت کے مالک نہیں :