Al-Risala · July 1989

We are not the master of our destiny

Al-Risala, July 1989, pp. 40–44

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں تقریباً ہر جگہ مسلمان اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ وہ اپنی موجودہ حالت کا تقابل ماضی کی فاتحانہ حیثیت سے کرتے ہیں ، وہ اپنا تقابل داعیانہ حیثیت سے نہیں کرتے۔ اپنی موجودہ حیثیت کا تقابل ماضی کی داعیانہ تاریخ سے کریں تو ان کے اندر دعوتی عمل کا جذبہ بیدار مگر ماضی کی فاتحانہ تاریخ سے تقابل ان میں کسی صحت مند جذبہ کو بیدار کرنے کا سبب نہیں بنتا۔

۲۷ دسمبر کو صبح ساڑھے دس بجے کا وقت ہے۔ صاف آسمان پر سورج چمک رہا ہے۔ نہایت خوش گوار ہے۔ میں کوسٹا میسا (Costa Mesa) کے پارک (Wakeham Park) میں ایک بنچ پر بیٹھا ہوں۔ پارک کے اندر کے مناظر، باہر کا ماحول اور اطراف کی سڑکیں اور مکانات، ہر چیز اتنی باقاعدہ اور اتنی منظم دکھائی دیتی ہے کہ دیر تک سوچنے کے باوجود مجھے وہ الفاظ نہیں ملے جن سے میں اس کی تصویر کشی کر سکوں۔

مجھے ایک بزرگ کا واقعہ یاد آیا۔ انھوں نے ایک بے نمازی نوجوان کو دیکھ کر کہا تھا کہ میرے بیٹے نماز پڑھ کرو تاکہ آخرت میں تمہارا خوبصورت چہرہ آگ میں نہ جلایا جائے۔ امریکہ کی خوبصورت زندگی اور یہاں کے بارونق تمدن کو دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میں نے سوچا کہ کاش اللہ کے کچھ بندے اٹھیں اور یہاں کے انسانوں کو اللہ کے دین پر لانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی نسلیں اگلی دنیا میں دوزخ کی آگ سے محفوظ رہیں۔ اس دعا کے سوا مجھے کوئی اور لفظ نہیں ملا جس کو میں یہاں درج کروں۔

امریکہ میں بہت سے "قابل دید" مقامات ہیں۔ لوگوں نے کئی جگہوں پر لے جانے کی پیش کش کی مگر میں کہیں نہ جاسکا۔ البتہ ۲۶ دسمبر ۱۹۸۸ کو یہاں کا مشہور ڈزنی لینڈ (Disneyland) دیکھا۔ ایک تفریح گاہ یا تماشائی پارک (Amusement park) ہے ۔ اس کو ابتداء والٹ ڈزنی نے بنایا تھا اور ۱۹۵۵ میں اس کا افتتاح ہوا۔ بہت بڑے رقبہ میں طرح طرح کی عجیب چیزیں ہیں جن کو دیکھ کر لوگ حیرت اور مسرت میں پڑ جاتے ہیں۔ اس کو دنیا کا سب سے زیادہ خوش کن مقام (Happiest place on earth) کہا جاتا ہے۔ اس کا ٹکٹ فی کس ۲۵ ڈالر ہے۔ دنیا بھر کے بے شمار لوگ اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ یہاں ہر روز میلے جیسی بھیڑ ہوتی ہے۔ امریکہ میں اس قسم کے دو پارک بنائے گیے ہیں۔

ڈزنی لینڈ میں ایک طرف حال اور مستقبل کی دنیا کے پر عجوبہ مناظر ہیں ۔ دوسری طرف اس میں سفر کے لیے چھوٹے چھوٹے ڈبوں کی ایک ٹرین بنائی گئی ہے جو پانی اور کوئلے سے چلتی ہے، اور سیٹی کے بجائے اس میں قدیم طرز کا گھنٹہ ہاتھ سے بجایا جاتا ہے۔ تاہم مجھے ڈزنی لینڈ سے کوئی خاص دلچسپی نہ ہوسکی۔ مجھے محسوس ہوا کہ ڈزنی لینڈ کی واقعی اہمیت اس سے بہت کم ہے، جتنی اس کی ۱۹۸۹ جولائی الـرسـالـہ ۲۱

پلیسٹی کی گئی ہے۔ اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حقیقی اہمیت کی چیز کو شہرت نہیں ملتی۔ غیر حقیقی اہمیت والی چیزیں بہت زیادہ شہرت حاصل کرلیتی ہیں۔

ایک صاحب نے پُر فخر طور پر کہا کہ امریکہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے فلک بوس عمارتیں (Skyscrapers) میں شہرت حاصل کی، میجر ولیم لی بیرن جینی نے ۱۸۸۵ میں پہلی دس منزلہ بلڈنگ شکاگو میں بنائی۔ اس کے بعد یہ ذوق بڑھتا رہا۔ نیویارک میں ۱۹۳۰ میں کرسلر بلڈنگ بنائی گئی جس کی ۷۷ منزلیں تھیں۔ ۱۹۳۱ میں نیویارک کی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ بنی جس میں ۱۰۲ منزلیں ۱۹۷۳ میں شکاگو میں سیرس ٹاور بنایا گیا جس کی ۱۱۰ منزلیں ہیں۔ موجودہ پیرس (Sears) میں ۱۳ ہزار کارکن کام کرتے ہیں۔ یہ ایک عظیم الشان ریٹیل شاپ ہے، چنانچہ اس کو ہر چیز کی دکان (Everything stores) کہا جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ واقعہ انسانی کارنامہ سے زیادہ خدائی کارنامہ کو یاد دلاتا ہے۔ یہ غیر معمولی اونچی عمارتیں تمام تر لوہا (اسٹیل) کا کرشمہ ہیں۔ قرآن میں ہے کہ لوہے کے اندر خدا نے بأس شدید (الحدید ۲۵) پیدا کیا ہے۔ لوہے کی اسی قدرتی صفت نے اس بات کو ممکن بنایا ہے کہ زمین کے اوپر اتنی اونچی عمارتیں کھڑی کی جاسکیں ۔

"اسکائی اسکریپر" کو دیکھ کر آپ کے اوپر استعجاب کی حالت طاری ہو رہی ہے۔ استعجاب حقیقتہ انسانی انجینئرنگ پر نہیں بلکہ خدائی تخلیق پر ہونا چاہیے۔ کیوں کہ انجینئرنگ اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ خدا کی تخلیق کا انسانی استعمال ہے۔ "لوہا" تخلیق ہے اور اسکائی اسکریپر صرف اس کا ایک استعمال ۔

ایک امریکی سے ملاقات ہوئی جو واشنگٹن کا رہنے والا تھا۔ واشنگٹن امریکہ کی راجدھانی میں نے اس سے پوچھا کہ واشنگٹن کے بارے میں کچھ بتائیے۔ اس نے مسکرا کر کہا : People only leave Washington by way of the یعنی لوگ واشنگٹن کو صرف بکس کی راہ سے چھوڑتے ہیں۔ ووٹ کا بکس یا تابوت کا بکس۔ کی وجہ یہ ہے کہ راجدھانی ہونے کی وجہ سے واشنگٹن میں ہر قسم کی اعلیٰ ترین سہولتیں مہیا ہیں۔

اس کے علاوہ تمام اہم ترین سیاسی فیصلے یہیں ہوتے ہیں۔ جس شخص کو واشنگٹن میں کوئی جگہ مل جائے ، وہ اس کو آخری سمجھ کر اس سے لپٹا رہنا چاہتا ہے۔ میں نے سوچا کہ جس " واشنگٹن " کا حال یہ ہو کہ ایک " بکس " آدمی کو اس سے جدا کر دے ، اس واشنگٹن کی کیا حقیقت۔ " واشنگٹن " تو وہ ہے جس میں ہمیشگی کی صفت پائی جائے ۔ اور ایسا واشنگٹن آدمی کو جنت کے سوا کہیں اور نہیں مل سکتا۔

۲۹ دسمبر 1988 کو میں جناب صغیر اسلم صاحب کے گھر پر تھا۔ صبح فجر کے وقت اچانک خطرہ کا الارم بجنے لگا۔ چند سیکنڈ کے بعد ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ صغیر احمد صاحب نے رسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے فوراً آواز آئی کیا آپ ٹھیک ہیں۔ (?Are you O.K., Sir) - یہاں پر گھروں میں ایک سسٹم لگا ہوا ہوتا ہے جس کو سیکورٹی الارم سسٹم کہتے ہیں۔ اجنبی شخص دروازہ کھول کر باہر نکلے یا اندر داخل ہو تو الارم فوراً بجنے لگتا ہے۔ اور عین اسی وقت پولیس کے کنٹرول روم میں لال بتی جل جاتی ہے۔ پولیس ایک منٹ کے اندر صاحب مکان کو ٹیلی فون کرکے خیریت معلوم کرتی ہے ، یہ ٹیلی فون اسی کے مطابق ، پولیس کے دفتر سے آیا تھا۔ کا قصہ اس لیے پیش آیا کہ ہمارے ایک ساتھی نے فجر کے وقت باہر جانے کے لیے گھر کا دروازہ کھول دیا تھا ۔

اتنے زبردست انتظام کے باوجود امریکہ میں مسلسل قتل اور ڈاکہ کے واقعات ہوتے رہتے پر امن سماج کے قیام کے لیے مشینی انتظام کے سوا بھی ایک چیز درکار ہے۔ اور وہ خدا کا صرف مشینی انتظام بھی پر امن سماج کے قیام کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ صغیر احمد اسلم (پیدائش ۱۹۳۶) کمالیہ (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ اب وہ امریکی شہری ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنا ۱۹۵۱ کا ایک واقعہ بتایا۔ رمضان کا زمانہ تھا۔ اسکول سے فارغ ہو کر وہ بائیسکل کے ذریعہ گھر کے لیے روانہ ہوئے۔ انھوں نے بازار سے آلو بخارا اور مالٹا خریدا۔ بائیسکل کے پیچھے رکھ کر جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک شخص ملا۔ اس نے ان کو روکا اور کچھ آلو بخارا زبردستی نکال کرلے لیا۔ صغیر احمد اسلم صاحب نہ غصہ ہوئے اور نہ اس سے دوبارہ اپنا آلو بخارا چھیننے کی کوشش کی۔ اس کے بجائے انھوں نے کہا : دیکھو ، یہ مالٹا ہے ، اس میں سے کبھی لے لو۔

آدمی نے مزید کوئی چیز نہ لی، وہ شرمندہ ہو کر چلا گیا۔

مذکورہ واقعہ میں ایک صورت یہ تھی کہ صغیر اسلم صاحب یہ سوچتے کہ ابھی تو اس نے صرف آلو بخارا لیا ہے، اگر میں کمزوری دکھاؤں تو وہ مانٹا بھی لے لے گا۔ اور اگر میں نے مزید کمزوری دکھائی تو وہ میری بائیسکل بھی چھینے کی کوشش کرے گا۔ مگر اس قسم کے خیالات صرف شیطانی وسوسہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے مواقع پر خود عمل نہ کرنا فطرت خداوندی کو عمل کرنے کا موقع دینا ہے۔ صغیر اسلم صاحب نے جب کوئی مخالفانہ رد عمل ظاہر نہیں کیا تو مذکورہ آدمی کا ضمیر جاگ اٹھا۔ فطرت خداوندی نے وہ کام زیادہ بہتر طور پر کر دیا جس کو انسان صرف ناقص طور پر انجام دیتا ہے۔ جناب صغیر اسلم صاحب یہاں کپڑے وغیرہ کی تجارت کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کئی سبق آموز تجربات بتائے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۵ء میں ایک بار ایک اخبار میں اشتہار نکلا کہ فلاں ہوٹل میں ہمارا لکچر ہو گا جس میں بتایا جائے گا کہ آپ مفید طور پر کوئی جائداد (Real estate) کس طرح حاصل کریں ۔ اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ اس کی کوئی فیس نہیں ہے۔ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ہال بالکل بھرا ہوا تھا۔ بلکہ سیٹ پر جگہ نہ ملنے کی وجہ سے بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے ۔ ڈیڑھ ہزار آدمی سامعین میں موجود تھے ۔

اس اجتماع میں انہوں نے محض اپنا تعارف کرایا اور کچھ ابتدائی باتیں بتا کر کہا کہ کل ہمارا آٹھ گھنٹہ کا کورس ہو گا، اس میں تمام تفصیل بتائی جائے گی اور اس کی فیس ۵۰ ڈالر ہوگی۔ صاحب نے ۵۰ ڈالر دے کر ٹکٹ خرید لیا۔ اگلے دن وہ ہال میں پہنچے تو وہاں بمشکل ایک درجن آدمی موجود تھے ۔ انھوں نے آٹھ گھنٹہ کے کورس میں شرکت کی ۔ اس میں انہیں جائداد کی خریداری کے بارہ میں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوئیں ۔ ان کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے اگلے چند مہینوں میں ۱۰ مکانات کی خریداری مکمل کی ۔ انھوں نے بتایا کہ یہ کام میرے لیے بہت مفید ثابت ہوا کیوں کہ صرف تین سال میں ان مکانات کی قیمت دگنا ہو گئی۔ انھوں نے پانچ سو ڈالر خرچ کر کے پانچ لاکھ ڈالر کمائے۔

اس دنیا میں کامیابی کے لیے حوصلہ درکار ہے۔ جو شخص حوصلہ مند نہ ہو، وہ اس دنیا میں کبھی اعلیٰ کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

Printed page