Al-Risala · January 1989

حقیقت بے نقاب

Al-Risala, January 1989, pp. 35–41

By Maulana Wahiduddin Khan

بابری مسجد کی بازیابی کے لئے "ایودھیا مارچ" کی تحریک طوفان کی طرح اٹھی اور غبارہ کی طرح پھٹ بظاہر یہ ایک المناک حادثہ تھا۔ تاہم اطمینان کی بات یہ ہے کہ جو غبارہ پھٹا ، وہ نام نہاد مسلم قیادت کا ملت ابتدائی طور پر قائدین کا ساتھ دینے کے بعد آخر کار ان سے الگ ہو گئی ، اور اس طرح وہ ان قائدین کے فتنے سے بچ گئی جو اس کو حوالہ آتش کر کے اپنے جھوٹے تیاورتی چہرہ کو روشن کرنا

بابری مسجد کا قضیہ بہت پرانا ہے۔ وہ تقسیم (۱۹۴۷) کے قبل سے چلا آرہا ہے۔ تاہم پر امن تدبیر کے دائرہ سے نکل کر ایجی ٹیشن کے دائرہ میں داخل ہونے کا دور ، 1987 کی ابتدا سے شروع ہوتا ہے۔ نہاد مسلم لیڈروں نے بابری مسجد کی بازیابی کے نام پر ۲۶ جنوری ، 1987 کو ریپبلک ڈے کے بائیکاٹ کا یہ اس معاملہ میں غیر پر امن انداز اختیار کرنے کا آغاز تھا۔ تاہم یہ لغو اقدام اخباری گرمی پیدا کرنے کے بعد آخر وقت میں واپس لے لیا گیا۔

اس کے بعد ۳۰ مارچ ، ۱۹۸۷ کو لاکھوں مسلمانوں کی ریلی نئی دہلی (بوٹ کلب) میں جمع ہوئی۔ نہایت اشتعال انگیز تقریریں ہوئیں اور بابری مسجد لیکے رہیں گے جیسے پر جوش نعرے لگائے گئے۔ ہو الرسالہ نومبر ۱۹۸۸ ، صفحہ ۲۴) لیڈروں نے اپنی دھواں دھار تقریروں کے دوران اعلان کیا کہ وہ مارچ کر کے ایودھیا جائیں گے اور مسجد میں فاتحانہ داخل ہو کر وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں گے۔ اس کے بعد دسمبر ۱۹۸۷ کی میٹنگ میں دو مارچ کا فیصلہ کیا گیا:

قائدین کا رمئی مارچ ۱۲ اگست ۱۹۸۸ مسلم عوام کا لانگ مارچ ۱۴ اکتوبر ۱۹۸۸ اعلان کے مطابق دونوں مارچ فیض آباد سے شروع ہو کر ایودھیا کی بابری مسجد پرختم ہونے والا تھا۔ تقریباً پانچ سو کی تعداد میں قائدین اور مسلم نمائندوں پر مشتمل ہوتا اور دوسرے مارچ میں سارے ملک کے مسلم عوام لاکھوں کی تعداد میں فیض آباد میں جمع ہوتے اور وہاں سے یلغار کرتے ہوئے ایودھیا پہنچتے اور بابری مسجد میں داخل ہو جاتے۔

مگر علائۂ منی مارچ ہوا سکا اور نہ لانگ مارچ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ادھر مسلم قائدین کی طرف سے اجودھیا مارچ کا اعلان ہوا۔ دوسری طرف رام جنم بھومی سنگھرش سمیتی، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی انتہا پسند ہندو تنظیمیں متحرک ہوگئیں۔ مسلمانوں کے چیلنج نے ان کو نئی زندگی دے دی۔ انہوں نے کھلے طور پر کہنا شروع کیا کہ اگر مسلمانوں نے اجودھیا مارچ کیا تو انہیں "اجودھیا پہنچنے سے پہلے کچل دیا جائے گا۔ اس کے بعد مسلم قائدین کی طرف سے یہ بہانہ نکال کر ۱۲ اگست کے مارچ کو ملتوی کر دیا گیا کہ مرکزی حکومت اس معاملہ میں دلچسپی لے رہی ہے، اور وہ دونوں فریقوں سے بات چیت کر کے اس مسئلہ کا ایسا حل نکالنا چاہتی ہے جو دونوں فریقوں کے لئے قابلِ قبول ہو۔

قومی آواز (۲۷ ستمبر ۱۹۸۸) کی رپورٹ کے مطابق، ۲۶ ستمبر کو نئی دہلی میں بابری مسجد تحریک کی مرکزی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ رابطہ کمیٹی نے موجودہ حالات کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ 14 اکتوبر ۱۹۸۸ کو لاکھوں مسلمانوں کا جو عوامی مارچ ہونے والا تھا، اس کو ابھی ملتوی کر دیا جائے ۔ البتہ اسی تاریخ (۴م اکتوبر) کو قائدین تحریک کا وہ مارچ ہوگا، جو اس سے پہلے ۱۲ اگست ۱۹۸۸ کو کیا جانا طے تھا۔

بابری مسجد تحریک کے نام نہاد لیڈر مسلسل یہ اعلان کرتے رہے کہ " اجودھیا مارچ ضرور ہوگا" مثلاً قومی آواز (۸ اکتوبر ۱۹۸۸) کے مطابق، بابری مسجد رابطہ کمیٹی کے کنوینر نے اعلان کیا کہ" مارچ کو ملتوی کرنے یا ختم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ “ اسی کے ساتھ انھوں نے کہا کہ " رابطہ کمیٹی نے وزیر اعلیٰ اتر پردیش نرائن دت تیواری سے تحریری درخواست کی ہے کہ وہ مارچ میں حصہ لینے والے مسلم رہنماؤں کو تحفظ مہیا کریں" (قومی آواز، ۸ اکتوبر ۱۹۸۸، صفحہ ۱)

بابری مسجد تحریک کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر کی طرف سے ایک اخباری اعلان اس مضمون کا شائع ہو کہ :

کچھ اخباروں کے ذریعہ غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اجودھیا مارچ، جس میں ملک کے طول و عرض سے رضا کار حصہ لینے والے ہیں، ملتوی ہوگیا ہے ۔ اجودھیا مارچ ملتوی نہیں ہوا ہے، اور اس کی تاریخ ۴م اکتوبر ۱۹۸۸ ہے۔ تمام ریاستی و ضلع اور شہر ایکشن کمیٹیوں سے اپیل ہے کہ وہ ایودھیا مارچ کی تیاری جاری رکھیں ۔ محلے محلے ، مسجد مسجد ، رضا کاروں کا اندراج جاری رہے۔ بہ قصبہ ، محلہ بہ محلہ ٹولیاں بنائی جائیں۔ اور ان کے مصارف سفر کے لئے وسائل جمع کئے جائیں۔ ریل یا بس

سے فیض آبا ۱۳ اکتوبر تک پہنچنے کا پروگرام بنایا جائے"۔ (سہ روزہ دعوت، یکم اکتوبر ۱۹۸۸) بابری مسجد تحریک کے قائدین ۱۳ اکتوبر سے پہلے مسلسل یہی خبر نشر کرتے رہے کہ اجودھیا مارچ 14 اکتوبر کو ضرور ہوگا، وہ ختم یا ملتوی ہونے والا نہیں۔ اس طرح کے اعلانات اور تقریروں نے کٹر ہنؤں کو مزید ابھارا۔ انھوں نے مارچ کو ناکام کرنے کے لیے دو جوابی منصوبہ بنانا شروع کیا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے جو کچھ کیا، ان میں سے ایک یہ تھا کہ انھوں نے مجوزہ مارچ سے پہلے ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ کو یوپی میں ایک بند منایا۔ یہ ہندو مجوزہ اجودھیا مارچ کے خلاف تھا۔ اس موقع پر جگہ جگہ اشتعال انگیز تقریریں کی گئیں۔ اس کے نتیجہ میں تند او رڈھا اور یوپی کے کئی مقامات د مظفر نگر، علی گڑھ، بہرائچ، جھانسی کھتولی فیض آباد، گو پال گنج وغیرہ میں فساد ہو گیا۔ اس میں بہت سے مسلمانوں کی جانیں گئیں اور انھیں زبر دست مالی نقصانات ہوئے۔

نام نہاد قائدین کی طرف سے بدستور یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ اجودھیا مارچ ضرور ہوگا۔ ساتھ بار بار حکومت سے یہ مطالبہ بھی جاری تھا کہ وہ مارچ میں حصہ لینے والوں کے لئے تحفظ فراہم کرے۔ حکومت نے تحفظ کی یقین دہانی کرنے سے عملاً انکار کر دیا۔ اس کے برعکس حکومت نے کہا کہ آپ لوگ اپنا مارچ ملتوی کر دیں۔ ہم دونوں فریقوں سے بات چیت کر کے کسی متفقہ حل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ مسلم قائدین بار بار یہ اعلان کر چکے تھے کہ اجودھیا مارچ مجوزہ تاریخ کو ضرور ہوگا، وہ کسی بھی حال میں رکنے والا نہیں ۔ مگر ایک طرف انھوں نے دیکھا کہ حکومت ان کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایسی حالت میں مارچ کرنا، اپنے آپ کو فریق ثانی کی جارحیت کے حوالے کرنے کے ہم معنی

دوسری طرف ۸ اکتوبر ۱۹۸۸ کو ہندوؤں کی کٹر جماعتوں نے جو بند منایا ، اس کے نتیجہ میں یوپی کے مختلف علاقوں میں خوں ریز فسادات ہوئے۔ نیز اس قسم کے دوسرے سخت اسباب نے ظاہر کر دیا کہ اب اگر ایودھیا مارچ کیا جاتا ہے تو اس کے خلاف تشدد کا ہونا یقینی ہے۔ ان حالات کو دیکھ کر خود مسلم عوام بھی مارچ میں اپنی دلچسپی کھو چکے تھے ۔ موت کے اس سفر میں شرکت کرنے کے لئے وہ پر جوش نہیں رہے تھے۔

واضح علامات کی بنا پر قائدین نے محسوس کیا کہ موجودہ حالات میں اگر وہ مارچ کرتے ہیں تو نہیں ملہ ۹۸۹ و الر سالہ جنوری ۳۷

عوام کی حمایت حاصل نہ ہو سکے گی۔ وہ دو طرفہ طور پر بے یار و مددگار ہو کر رہ جائیں گے۔ چنانچہ مسلم قائدین نے دوبارہ عافیت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اجودھیا مارچ کی تاریخ سے ایک دن پہلے اس کے التواء (صحیح تر لفظ میں خاتمہ) کا اعلان کر دیا۔

التواء کی آزمودہ تدبیر اختیار کر کے مسلم قائدین نے اپنی جان بچالی۔ مگر ۱۰ اکتوبر کے بندھ کے نتیجہ میں جو تشدد پیدا ہوا اس میں سیکڑوں مسلم خاندان بربادی کا شکار ہو کر رہ گئے۔ بابری مسجد کا مسئلہ بدستور شديد تر انہ اندر ہمیں باقی رہا۔ وہ مسلمانوں کی قبروں کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہ کر سکا۔ اجودھیا مارچ کی تاریخ سے کچھ پہلے میں نے ایک عام قسم کے مسلمان سے پوچھا: کیا اجودھیا مارچ ہوگا اس نے جواب دیا: ’’مولانا صاحب، جان ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔ ‘‘ مطلب یہ تھا کہ اب جب کہ اجودھیا مارچ کرنا اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنا ہے تو کون ہوگا جو جان بوجھ کر اپنے آپ کو موت کے گڑھے

مسلم عوام شروع میں اپنی سادگی اور نا سمجھی کی بنا پر قائدین تحریک کے ساتھ تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قائدین کے جلسوں کی بھیڑ بڑھا کر وہ بابری مسجد کے مسئلہ کو حل کر لیں گے۔ مگر آخر میں انھیں نظر آیا کہ قائدین کی حقیقت پر شور ڈھول کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ نیز یہ کہ بابری مسجد کی طرف اقدام کرنے سے وہ صرف اپنے جان و مال کو کھوئیں گے ، اصل مسئلہ جیسا ہے بدستور ویسا ہی پڑا رہے گا۔ اس قسم کا مارچ صرف ملت کی بربادی میں اضافہ کرے گا نہ کہ اس کی آبادی میں۔

یہ منظر دیکھنے کے بعد، اگرچہ تاخیر سے مسلم عوام مسئلہ کی نوعیت کو سمجھ گئے۔ ان کے رویہ سے صاف ظاہر ہو گیا کہ مارچ ہونے کی صورت میں وہ قائدین تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے۔ تحریک" اپنے آپ کو میدان میں اکیلا پارہے تھے۔ "لاکھوں عوام کی مفروضہ بھیڑ دور دور تک کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی جو ان کی تقریروں پر نعرہ لگائے اور اس طرح ان کی شان قیادت میں اضافہ بے بسی اور تنہائی کا یہ منظر دیکھ کر انھوں نے الفاظ کا ایک مجموعہ مرتب کیا اور اس کو اخبار میں بھیج کر راتوں رات مارچ کے التواء کا اعلان کر دیا۔

یہاں مجھے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے۔ یہ لطیفہ اجودھیا مارچ کے نعرہ پر پوری طرح چسپاں ہوتا ہے۔ مدینہ کے سفر (مارچ 1984) میں میری ملاقات ایک فلسطینی نوجوان سے ہوئی ۔ ان کا نام مصطفیٰ اور تھا۔

تعلیم کی غرض سے مدینہ میں مقیم تھے اور نہایت دلچسپ باتیں کیا کرتے تھے۔

مصطفی شاد رنے ایک لطیفہ سنایا۔ ایک حاکم تھا۔ اس کا ایک اونٹ تھا۔ جو ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ کھیتوں اور باغوں میں بہت نقصان کرتا تھا۔ گاؤں کے لوگ پریشان ہو کر اپنے خطیب (امام مسجد) کے پاس گئے اور کہا کہ اس کا کچھ علاج کیجیے۔ خطیب کے ذہن میں ایک تدبیر آئی۔ اس نے گاؤں والوں سے کہا کہ تم سب جمع ہو کر میرے ساتھ چلو۔ میں حاکم کی قیام گاہ پر پہنچ کر اس کو بلاؤں گا۔ جب حاکم باہر آئے گا تو میں بلند آواز سے کہوں گا : یا حاکم جملک (اے حاکم تمہارا اونٹ)، اس کے جواب میں تم لوگ پیچھے سے آواز لگانا: اِمْنَعُہُ عَنَّا (اس کو ہم سے روک دے)

خطیب صاحب روانہ ہوئے اور جوش میں آگے بڑھتے چلے گئے۔ شروع میں گاؤں کے لوگ بھی ان کے پیچھے تھے۔ مگر ساتھ ہی ان پر حاکم کا خوف طاری تھا۔ چنانچہ ایک ایک کر کے وہ راستہ میں چھٹنے لگے۔ یاں تک کہ سب کے سب خاموشی سے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔ آخر میں خطیب صاحب کے سوا کوئی اور باقی نہ رہا۔ خطیب صاحب جوش میں بڑھتے ہوئے حاکم کے مکان پر پہنچ گئے۔ حاکم باہر آیا تو اس کو دیکھ کر خطیب صاحب نے حسب قرار داد بلند آواز سے کہا: یا حاکم جملک۔ ان کا خیال تھا کہ گاؤں والے ان کے پیچھے ہیں اور وہ سب مل کر امْنَعهُ عَنا کا نعرہ لگائیں گے۔ مگر ان کی امیدوں کے خلاف پیچھے سے کوئی آواز نہ آئی۔ وہ بار بار یہا حاکم جملک کہتے رہے مگر پیچھے کوئی نہ تھا۔ دوسرے جملہ کو دہرائے۔ حاکم نے پوچھا کہ آخر تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ اب خطیب صاحب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انھیں معلوم ہوا کہ وہاں کوئی بھی نہیں ہے۔ اس صورت حال سے وہ گھبرا اٹھے۔ انھوں نے اپنے سابقہ نعرے کو بدل دیا اور حاکم سے کہا : يحتاج الى الناقة (وہ اونٹنی چاہتا ہے)، یہ کہا اور فوراً واپس روانہ

تقریب یہی حال بابری مسجد کی بازیابی کے لئے اجودھیا مارچ کے نعرہ کا ہوا ہے۔ قائدین نے اعلان کیا تھا کہ وہ بابری مسجد کی بازیابی کے لئے دو مارچ (۱۲ اگست، ۱۴ اکتوبر) کریں گے۔ انھوں نے اپنی پرجوش تقریروں میں کہا تھا کہ ملک بھر سے لاکھوں مسلمان ”بابری مسجد کے رہیں گے“ کا نعرہ لگاتے ہوئے اجودھیا پہنچیں گے اور بابری مسجد میں فاتحانہ داخل ہو کر وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں گے۔

اس کے بعد حالات میں ایسی تبدیلی ہوئی کہ اجودھیا مارچ لوگوں کو خونی مارچ دکھائی دینے لگا۔ مسلمان عام طور پر یہ کہنے لگے کہ اجودھیا مارچ تو موت کی طرف مارچ ہے۔ ہم کیوں خواہ مخواہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو یتیم اور اپنی عورتوں کو بیوہ کرنے کے لئے بے فائدہ اجودھیا مارچ کریں۔ اب قائدین تحریک کا وہی حال ہوا جو مذکورہ امام کا ہوا تھا۔ انھوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انہیں "لاکھوں کا مجمع" کہیں دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے نعرہ کو بدل دیا۔ اب وہ اجودھیا مارچ کی اپیل کرنے کے بجائے مسلمانوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ مسجدوں میں جا کر دعا کرو۔ مسلمان تو صرف خدا کی طرف مارچ کرنے والا ہوتا ہے، انسانوں کی طرف مارچ کرنے سے اسے کیا کام۔

اس میں میں صرف اتنا اضافہ کروں گا کہ قائدین اگر یہی بات شروع سے کہتے تو یقیناً ان کے الفاظ کی قیمت تھی مگر اب ان کے ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں۔ اب اس قسم کے الفاظ ان کی بدترین نا اہلی کا اشتہار ہیں ، نہ کہ ان کی اہلیت اور لیاقت کا ثبوت۔

میری ڈائری میں 14 فروری ۱۹۸۶ کے تحت یہ الفاظ درج ہیں:

آج جمعہ کا دن تھا۔ بابری مسجد تحریک کے لیڈروں کی پکار پر آج "یوم بابری مسجد" منایا گیا دہلی اور یوپی کی مسجدوں میں پر جوش تقریریں ہوئیں۔ میں نے آج دہلی کی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز امام صاحب آج معمول سے زیادہ پر جوش نظر آ رہے تھے۔ وہ بلند آواز سے تقریباً چیخنے کی زبان میں بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا:

" ہم اپنی گردنیں کٹوا دیں گے۔ ہمارے اوپر چاہے ٹینک چلا دئے جائیں اور توپ کے گولے برسائے جائیں ، مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہماری مسجدوں پر قبضہ کیا جائے اور ان کی بے حرمتی کی جائے ۔ " وغیرہ وغیرہ۔

نماز کے بعد مسجدوں سے جلوس نکالے گئے۔ لال کنواں دہلی میں جلوس نے شدت اختیار کرلی پولیس نے گولی چلائی جس سے دو مسلم نوجوان مرگئے۔ اسی طرح یوپی کے بعض اور مقامات پر گولی چلی اور مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

ایک دن کے لئے ہنگامہ کرنے اور ایک طرفہ نقصان اٹھانے کے بعد مسلمان خاموش ہو گئے ۔ بابری مسجد بدستور " رام جنم بھومی مندر" بنی رہی۔

اس دن کا تجربہ دیکھ کر میری زبان پر ایک جملہ آگیا تھا جو بعد کو الرسالہ ستمبر ۱۹۸۶ کے سر ورق پر شائع ہوا۔ وہ جملہ یہ تھا ۔ بزدلی دکھا کر چپ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی بزدلی دکھائے بغیر چپ ہو جائے۔

Printed page