اجنبی دین
Al-Risala, August 1989, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا، دوبارہ وہ ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ وہ تھا۔ تو مبارک ہو اجنبیوں کے لیے (بدأ الإسلام غريباً وسيعود كما بدأ أنطوبى للغرباء، رواہ مسلم) ابتدائی زمانہ میں اسلام کس طرح اجنبی تھا، اس کی مثالیں قرآن و حدیث سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کہ کے مشرکین کے سامنے یہ دعوت پیش کی کہ ایک اللہ کو اپنا الہ بناؤ اور دوسرے الہوں کو چھوڑ دو تو انھوں نے کہا کہ کیا اس پیغمبر نے کئی الہ کی جگہ ایک الہ کر دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے (ص ۵) مکہ کے مشرکین اللہ کو مانتے اسی کے ساتھ انھوں نے اپنے بزرگوں کو بھی اونچا درجہ دے رکھا تھا۔ ان کے بت بنا کر وہ ان کو پوجتے پیغمبر اسلام نے جب ایک اللہ کے سوا ہر ایک کی بڑائی کا انکار کیا تو یہ بات انھیں اجنبی اور نامانوس معلوم ہونے لگی۔
اسی طرح ایک مثال یہ ہے کہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانہ میں عرب کے لوگ میراث میں عورتوں کا کوئی حصہ نہیں سمجھتے تھے۔ جب قرآن میں یہ حکم آیا کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے (للذكر مثل حظ الانثيين) تو انھیں اپنے ذہن کے اعتبار سے یہ بات بہت عجیب معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا عورت اپنے باپ کے ترکہ میں آدھی کی حقدار ہے، حالاں کہ وہ نہ گھوڑے کی سواری کرتی ہے اور نہ دشمن سے لڑ سکتی ہے (یاں سول اللہ نقطی الجارية نصف ما ترك ابوها وليست تركب الفرس ولا تقاتل القوم، تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول صفحه (۲۵۸)
حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، دین آج دوبارہ اسی اجنبی حالت کو پہنچ چکا ہے جیسا کہ وہ پہلے تھا ۔ موجودہ مسلمانوں میں آج خالص توحید اجنبی چیز بن چکی ہے ۔ وہ صرف اس توحید کو جانتے ہیں جس میں اللہ کی عظمت کے ساتھ ان کے اپنے بڑوں کو بھی شریک عظمت کیا گیا ہو۔ وہ صرف اس دین سے مانوس ہیں جس میں ان کے بزرگوں کو بھی اسی طرح تنقید سے بالا تر رکھا گیا ہو جس طرح پیغمبر خدا تنقید سے بالا تر ہیں۔ اسی طرح شریعت کے نام سے وہ صرف اپنی خواہشوں کی شریعت کو جانتے ہیں ۔ وہ شریعت جو ان کی خواہشوں پر روک لگائے مثلاً سنت کے طریقہ پر طلاق دینا، عورتوں کو پورا حصہ ادا کرنا ، تو ایسی شریعت ان کی نظر میں بالکل اجنبی ہے ۔