Al-Risala · August 1989

وضو کی برکت

Al-Risala, August 1989, pp. 13–14

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے وضو کیا۔ پھر بہتر طریقہ پر وضو کیا ، اس سے اس کی خطائیں جاتی رہتی ہیں ۔ حتیٰ کہ ناخن کے نیچے کی بھی (من توضأ فأحسن الو ضو خرجت خطایاہ حتی تخرج من تحت اظفاره، رواہ مسلم)

بہتر وضوء سے کیا مراد ہے ، اس کی وضاحت دوسری روایتوں سے ہوتی ہے ۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے ، پھر وہ اس کو پوری طرح کرے ۔ اس کے بعد وہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہوجائے (ما منكم من احد يتوضأ فيبلغ الوضوء ثم قال : اشهد أن لا إله الا الله وحده لاشريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله الا فتحت له ابواب الجنة الثمانية يدخل من ايها شاء،

اسی طرح حدیث میں ہے کہ کوئی شخص جب وضو کرے تو اس کے بعد یہ دعا پڑھے کہ خدایا مجھ کو تو بہ کرنے والوں میں سے بنا ، اور مجھ کو پاک صاف لوگوں میں سے بنا ۔ اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين، الترمذی) ایک اور روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اس کے بعد آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ خدایا مجھے خطاؤں سے پاک کردے جس طرح سفید کپڑا دھو کر میل سے پاک کر دیا جاتا ہے (اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس)

مختلف روایتوں میں یہ بات مختلف انداز سے بتائی گئی ہے کہ وضو سے آدمی کے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ وضو اس کے گناہوں کے میل کو دھو تا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اپنے

رب کے پاس اس حال میں پہنچتا ہے کہ وہ بالکل پاک صاف ہوتا ہے اور اس کو جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانی سے ہاتھ پاؤں کو دھونا اپنے آپ آدمی کو گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ خطا اور گناہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی اعمال ہیں۔ ان کا تعلق آدمی کی نیت اور ارادہ سے ہے۔ اس لیے وہ اسی وقت دھل سکتے ہیں جب کہ آدمی کا قلب دھل جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی روایتیں اس انسان کے لیے ہیں جس کا جسمانی وضو اس کے لیے روحانی وضو بن جائے۔ جو وضو کا عمل اس طرح کرے کہ اسی کے ساتھ اس کا قلب اور ذہن بھی دھلتا چلا جائے ۔ جس کی نفسیات اس کے وضو میں شامل ہو گئی ہو ۔ ایک شخص جس کے دل میں اللہ کا خوف اور آخرت کا فکر سمایا ہوا ہو، وہ جب وضو کرتا ہے تو اس کے اندرونی احساسات کے اثر سے اس کا وضو کا عمل ایک ربانی عمل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ کا مادی عمل اس کی روحانی کیفیات کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ وضو کے ظاہری عمل میں مشغول ہوتے ہیں اور اس کا ذہن دعا اور ذکر کے باطنی عمل میں ۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا ۔ ہاتھ اور پاؤں اور چہرے کو آپ نے آج کے دن پانی سے دھویا ہے ، اس کو کل کے دن اپنی رحمت سے دھو دیجیے ۔ جس جسم کو آپ نے دنیا میں مادی اعتبار سے پاک کیا ہے ، اس کو قیامت کے دن اپنی رحمت اور مغفرت کے نورانی غسل سے پاک کر دیجئے۔

جب ظاہری وضو کے ساتھ یہ باطنی وضو مل جائے تو یہی وہ وضو ہے جس کے بعد آدمی کے لیے جنت کے سب دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جس دروازہ سے چاہو داخل ہو جاؤ۔

جسمانی وضو جسم کی پاکی ہے، اور روحانی وضو روح کی پاکی۔

Printed page