مُردہ سے زندہ
Al-Risala, August 1989, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل کر صحرائے سینا میں پہونچے تو اللہ تعالیٰ نئے ارضِ مقدس (شام وفلسطین) کو ان کے لیے لکھ دیا۔ حضرت موسیٰ کے ذریعہ بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ تم لوگ اس سر زمین میں داخل ہو جاؤ۔ تم کو خدا کی مدد ملے گی اور تم وہاں کے لوگوں پر غالب آجاؤ گے (المائدہ ۲۱)
وہاں جو قوم اس وقت آباد تھی، وہ بظاہر ایک طاقتور قوم تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل ان کا نام سن کر ڈر گئے ان پر ایسا خوف طاری ہوا کہ وہ خدا اور خدا کے رسول کی ہدایت کے باوجود ان کے خلاف اقدام کے لیے تیار نہ ہوئے (المائدہ ۲۲) بائبل میں ہے کہ : " تب ساری جماعت زور زور سے چیخنے لگی۔ اور وہ لوگ اُس رات روتے ہی رہے۔ اور کُل بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کی شکایت کرنے لگے ۔ اور ساری جماعت ان سے کہنے لگی، ہائے کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے ۔ یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ۔ خداوند کیوں ہم کو اُس مُلک میں لے جاکر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے۔ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے ۔ لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں " (گنتی ۱۴: ۱-۴)
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوا کہ بنی اسرائیل چالیس سال (1400-1440ق م) تک فاران اور شرق اُردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ ان میں جو ۲۰ سال سے نیچے ہیں، صرف وہی زندہ بچیں گے۔ ۲۰ سال سے اوپر کی عمر کے تمام لوگ ختم ہو جائیں گے۔ چنانچہ ہم سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہو گئے۔ اس دوران ان کے بچے نے صحرائی حالات میں پرورش پاکر نئی طاقت کے ساتھ اٹھے۔ اس نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں ارضِ مقدس کو فتح کیا۔
بنی اسرائیل نے ابتداء حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ان کے مقابلہ میں ہم ہار جائیں گے۔ اور پھر " ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے "۔ مگر یہی بچے بعد کو بڑے ہو کر شام و فلسطین کے علاقہ میں داخل ہو گئے اور وہاں کے حکمراں (عمالقہ) سے لڑاکر ۱۹۸۹ رسالہ اگست ۱۵
اس پر قبضہ حاصل کر لیا۔
بنی اسرائیل کے بچوں میں یہ طاقت کیسے پیدا ہوئی ۔ وہ بے حوصلہ سے باحوصلہ کیونکر بن گئے ۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انھوں نے اپنے باپ دادا کے برعکس ، لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا ۔ بچوں کے باپ جن سخت حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے ، انھیں سخت حالات کے اندر داخل ہونے میں ان بچوں کے لیے نئی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا ۔
موافق حالات میں زندگی گزارنا بظاہر اچھا معلوم ہوتا ہے ۔ مگر موافق حالات ہمیشہ جمود پیدا کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام اعلیٰ خصوصیتیں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کر کے زندہ رہناپڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مردہ قوم بن گئے ۔ مگر مصر سے خروج کے بعد ان کو غیر آباد صحرا میں زندگی گزارنی پڑی ۔ یہ صحرائی زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ پر مشقت حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طور پر بالکل دوسری قسم کے انسان تھے ۔
بنی اسرائیل کی یہ نسل اخلاق و کردار کے اعتبار سے اپنے باپ دادا سے بالکل مختلف صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی ، جفا کشی ، حوصلہ اور حقیقت پسندی جیسی خصوصیات پیدا کردی تھیں ۔ اور بلاشبہ یہی وہ اوصاف ہیں جو کسی قوم کے افراد کو زندہ افراد بناتے کوئی قوم اگر طولِ امد الحدید16:) کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کی تدبیر یہی ہے کہ اس کو غیر معمولی حالات میں ڈالا جائے ۔ اور اس کو ایسے شدید عمل سے گزارا جائے جس کے دوران اس کی سابقہ غیر مطلوب شخصیت ختم ہو اور نئی مطلوب شخصیت ابھر آئے ۔