فخر نہیں
Al-Risala, August 1989, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
۵ مئی ۱۹۸۹ء کو جمعہ کا دن تھا۔ میں نے دہلی کی ایک بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ امام صاحب نے خطبہ سے پہلے تقریباً ۴۰ منٹ تک ایک پرجوش تقریر کی ۔ اس میں انھوں نے کہا : ہم کو فخر ہونا چاہیے کہ ہم ایک اللہ کو ماننے والے ہیں یہ جملہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات کی نہایت صحیح ترجمانی کر رہا ہے۔ آج کل کے مسلمان ، خاص طور پر ان کا رہنما طبقہ ، تقریباً سب کا سب اسی نفسیات میں مبتلا ہے ۔ کو اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتا ہے ۔ یہ بلا شبہ گمراہی ہے ۔ بلکہ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس نے موجودہ زمانہ میں ان کو خدا کی مدد سے محروم کر رکھا ہے ۔ چنانچہ مسلمانوں کے درمیان انتہائی بڑی بڑی تحریکیں اٹھتی ہیں۔ مگر وہ ان کی بربادی کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہیں کرتیں۔
مذکورہ جملہ میں کیا غلطی ہے ، اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ فرض کیجیے کہ کچھ لوگ چل رہے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہاں ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ اطمینان کے ساتھ چلے جا رہے ہیں کہ ان میں سے ایک شخص کی نظر اچانک قریب کی ایک جھاڑی پر پڑتی ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ وہاں ایک زندہ شیر کھڑا ہوا ہے ۔ اس وقت آدمی کی زبان سے کیا الفاظ نکلیں گے ۔ وہ کہے گا کہ :
ہم کو فخر ہونا چاہیے کہ ہم اس وقت ایک زندہ شیر کے سامنے ہیں ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا ۔ شیر کو دیکھ کر آدمی کے اوپر ہیبت طاری ہوتی ہے ۔ اور جو چیز ہیبت طاری کرے ، اس کے بارہ میں اس کے اندر عجز کا احساس جاگے گا نہ کہ فخر کا احساس ۔ زیادہ بڑے پیمانہ پر اللہ کا ہے جو شیر کا خالق ہے ۔ اللہ ایک ایسی ہستی ہے جو سب کے اوپر ہے ، جو سب سے زیادہ طاقتور ہے ۔ ایسی ایک ہستی کا یقین آدمی کے اندر عجز اور تواضع کا جذبہ پیدا کرے گا نہ کہ فخر اور ناز کا جذبہ ۔
قرآن اللہ تعالیٰ کا تعارف ہے ۔ اللہ کی ہستی کیا ہے ، سارا قرآن اس کے بیان سے بھرا ہوا ہے۔
یہاں اس سلسلہ میں قرآن سے چند آیتیں نقل کی جاتی ہیں ۔
اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ ہے۔ سب کو تھامے ہوئے ہے۔ نہ اونگھ لگتی۔ نہ نیند آتی۔ زمین میں اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کے سامنے بغیر اس کی اجازت کے سفارش کرسکے۔ جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے سب کا اسے علم ہے۔ اس کے علم کے کسی گوشہ پر بھی کوئی شخص حاوی نہیں ہو سکتا مگر جو وہ چاہے ۔ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین پر چھایا ہوا ہے۔ ان کی نگہبانی اس کے لیے تھکا دینے والا کام نہیں۔ وہی سب سے اوپر ہے، وہی سب سے بڑا ہے (البقرہ ۲۵۵)
تم لوگ اللہ سے ڈرو اور آپس کے معاملات درست رکھو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اگر تم مومن ہو۔ ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل لرزجاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں (الانفال ۱-۲)
اور لوگوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے ۔ اور زمین ساری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے ۔ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (الزمر ۶۷)
اس طرح کی کتنی ہی آیتیں قرآن میں شروع سے آخر تک موجود ہیں جو اللہ کا تعارف ایسے انداز میں کراتی ہیں کہ ان کو پڑھ کر آدمی لرز اٹھے، اللہ کے عظمت و جلال سے اس پر ہیبت طاری ہو جائے ۔ قرآن میں یہ بات تو کثرت سے مذکور ہے کہ اللہ پر ایمان والے اللہ کی یاد سے کانپ اٹھتے ہیں، اس کے ذکر سے ان کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ بات سارے قرآن میں کہیں نہیں کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو اللہ پر فخر ہونا چاہیے ۔
حقیقت یہ ہے کہ خدا کے ماننے والوں نے ابھی خدا کو نہیں پایا ۔ اگر وہ خدا کو ماننے والے ہوتے تو خدا کا تصور ان کے اندر عجز اور تواضع کی کیفیت پیدا کرتا۔ خدا کا نام لیتے ہوئے ان کی زبان کانپ اٹھتی، نہ کہ خدا کا نام لے کر وہ فخر و ناز کی باتیں کرنے لگیں۔