Al-Risala · August 1989

سفر نامہ امریکہ۔ ۳

Al-Risala, August 1989, pp. 21–26

By Maulana Wahiduddin Khan

صغیر احمد اسلم صاحب نے بتایا کہ ۱۹۶۹ میں وہ لاس اینجلس کی ایک بڑی فرم میں ۳۵ اسٹور کے منیجر تھے۔ ان کو اپنے امریکی افسر کے ساتھ سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہ جنرل منیجر تقریباً ۳۵ سال کا تھا۔ اور ہوٹل کے زمانہ قیام میں شراب اور عیاشی کے کاموں میں مشغول رہتا تھا۔ صغیر اسلم صاحب ایک با اصول آدمی تھے۔ ان کو اس قسم کی باتیں پسند نہ تھیں۔ آخر ایک سفر میں وہ جنرل منیجر کے کمرہ میں گئے اور دروازہ بند کر کے اس سے نہایت سخت گفت گو کی ـــــــــ تم عیاش ہو، تم بالکل نکمے ہو، تم بزنس کرنا نہیں جانتے، وغیرہ۔

صغیر اسلم صاحب جنرل منیجر کو بری طرح ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے بعد جب باہر جانے لگے تو جنرل مینیجر نے ان کو پکڑ کر واپس بلایا اور کہا کہ تم جانتے ہو کہ میں کون ہوں۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ ہاں، تم اس کمپنی کے مالک ہو۔ اس نے کہا کہ پھر تمہارے اندر یہ جرأت (Courage) کہاں سے آئی کہ تم مجھے کو اس طرح خطاب کرو۔ صغیر اسلم صاحب نے کہا کہ تم یہی تو کر سکتے ہو کہ مجھ کو فائر (برخاست) کر دو، تو میں اس سے پہلے کمپنی سے اپنا استعفا تیار کر چکا ہوں۔ اس نے کہا کہ فائر کرنا تو درکنار، میں تم کو چھوڑوں گا بھی نہیں، تم ہماری کمپنی کے لیے بہت قیمتی ہو۔ اس شخص کا نام جب اسٹوارٹ میگروڈر (Jeb Stuart Magruder) تھا۔ صغیر اسلم صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اس کے ساتھ اتنی سخت گفتگو کی ، پھر بھی وہ آپ کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوا، اس کا سبب کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ جانتا تھا کہ میں کمپنی کے لیے ایک مفید شخص ہوں۔ اپنے ذاتی جذبات پر اس نے کمپنی کے مفاد کو غالب رکھا۔ مذکورہ امریکی نے ذاتی رنجش کے باوجود صغیر اسلم صاحب کی قدر دانی کی۔ یہ اعتراف اور یہ بلند حوصلگی جو امریکہ کے ایک شرابی میں پائی جاتی ہے، وہ آج ہماری بڑی بڑی دینی شخصیتوں میں بھی ذاتی رنجش کے بعد کسی کی صلاحیت کا اعتراف بلاشبہ اعلیٰ ترین اخلاقی قدر ہے، مگر ہمارے تمام اکابر اس اخلاقی قدر سے مکمل طور پر خالی ہیں۔

ایک امریکی نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ اس کا ایک پاؤں کسی حادثہ میں ضائع ہو گیا تھا اور اس کی جگہ اس نے مصنوعی پاؤں لگا رکھا تھا۔ یہ نوجوان ایک پر کشش شخصیت کا مالک تھا، مگر پاؤں کا کھونا اس کے لیے ایک ناقابلِ تلافی محرومی بنا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر بڑی عبرت ہوئی۔ میں نے کہا کہ

انسان کا جسم ایک بے حد قیمتی مشین ہے۔ مگر اس مشین کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی کارخانہ نہیں جہاں اس زندہ مشین کے اسپیئر پارٹ (Spare Parts) تیار ہوتے ہوں۔ کے لیے اپنی کمیوں کی تلافی کی صورت صرف ایک ہے ۔ وہ اپنے خالق کو راضی کرے تا کہ بعد کو آنے والی دنیا میں وہ اس کو ایک ابدی اور بے نقص جسم عطا کر دے۔

ایک تعلیم یافتہ عیسائی نے کہا کہ میں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا ہے۔ مگر بعض سوالات میرے ذہن کو الجھارہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ وہ کون سے سوالات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام میں غلامی کا مسئلہ ، پیغمبر کا کئی شادیاں کرنا ، حجر اسود کو چومنا ، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ اسلام یا کسی بھی نظام کا مطالعہ کرنے کا یہ طریقہ درست نہیں ۔ ہر مذہب یا ہر نظام میں کچھ بنیادی چیزیں ہوتی ہیں اور کچھ فروعی چیزیں ۔ ایک سنجیدہ متلاشی کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ پہلے زیر مطالعہ مذہب یا نظام کی بنیادی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے جب ان کے بارہ میں پوری واقفیت حاصل ہو جائے ، اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ فروعی یا ضمنی باتوں کو سمجھا

میں نے کہا کہ اگر آپ امریکہ کے نظام تہذیب کو سمجھنا چاہیں تو اس کا آغاز آپ یہاں سے نہیں کریں گے کہ امریکہ کے سابق صدر رونالڈ ریگن اپنی جیب میں ہمیشہ سونے کی نعل کیوں رکھتے تھے۔ مطالعہ کا یہ طریقہ درست نہ ہوگا۔ اس کے برعکس آپ یہ کریں گے کہ پہلے امریکہ کی تاریخ ، اس کے علوم ، اس کے قانون اور اس کے صنعتی اور تجارتی طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ طریقہ علمی طریقہ ہے اور یہی طریقہ آپ کو اسلام کے مطالعہ میں بھی اختیار کرنا چاہیے۔ یہاں بہت سے نو مسلم امریکیوں سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً ۳۹ سالہ پال یوسف جیول (Paul Yusuf Jewel) جو سفید فام نسل سے تعلق رکھتے ہیں ۔ اور سراج وہاج جو سیاہ فام نسل میں پیدا ہوئے اور پھر اسلام قبول کیا۔ کانفرنس میں بھی بڑی تعداد میں نو مسلم امریکی آئے ہوئے تھے ۔ ان میں سے بعض نے وہاں تقریریں بھی کیں ۔

ایک خاص بات یہ محسوس ہوئی کہ نو مسلم امریکیوں میں ، دوسرے مسلمانوں کے مقابلہ میں، زیادہ ایمانی جوش اور زیادہ جذبہ عمل پایا جاتا ہے۔ لوگوں کے ذریعہ یہاں کے جو حالات معلوم

ہوائے، ان سے اندازہ ہو کہ یہاں کی سیاہ فام نسل میں اسلام کی اشاعت کے زبردست امکانات پائے جاتے ہیں۔ اگر یہاں کے مسلمانوں میں دعوتی جذبہ پوری طرح بیدار ہو جائے اور وہ سیاہ فام نسل میں اسلام کی تبلیغ بڑے پیمانے پر شروع کر دیں تو عین ممکن ہے کہ ان کی پوری قوم اسلام میں داخل ہو جائے ۔

امریکہ میں اظہارِ خیال اور اشاعت افکار کی مکمل آزادی ہے۔ یہاں وہ منافقت بھی نہیں کہ کاغذ پر کچھ لکھا ہو اور عمل کسی اور چیز پر کیا جاتا ہو۔ مسلمان اگر اس امکان کو استعمال کریں اور یہاں کی سیاہ فام نسل کو اسلام کے حلقہ میں داخل کر لیں تو اس کے بعد امریکہ میں ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو جائے گا۔

امریکہ میں اس وقت یہودی غلبہ قائم ہے۔ اگر مذکورہ واقعہ رونما ہو سکے تو یہ منحوس غلبہ ختم ہو کر یہاں ایک نیا صحت مند غلبہ شروع ہو جائے گا۔ بعض اعلی تعلیم یافتہ امریکیوں کے خیالات سننے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہاں کے سنجیدہ لوگ یہودی غلبہ کو بالکل پسند نہیں کرتے مگر اسلام کے سوا کوئی چیز نہیں جو امریکہ سے اس منحوس غلبہ کو ختم کر سکے۔ یہاں آ کر اسلام خود امریکہ کی اپنی ایک ضرورت بن جاتا ہے۔

پاکستان میں راقم الحروف کی تمام کتابیں چھپ گئی ہیں اور وہاں عام طور پر ملتی ہیں۔ ایک پاکستانی مسلمان نے کراچی سے ظہورِ اسلام" حاصل کی تھی اور اس کو پڑھ چکے تھے۔ کہا کہ آپ نے اس کتاب کے ایک باب حسنین : تاریخ کے دو علامتی کردار) میں نواسۂ رسول کے خلاف مسلم اٹھایا ہے، یہ کہاں تک درست ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کیا ہے کہ حسین کے عمل کے مقابلے میں حسن کے عمل کو ترجیح دی ہے، اور وہ بھی بہر حال نواسۂ رسول تھے ۔

پھر میں نے کہا کہ حسین اور حسن کا معاملہ امت کے لیے ایک آزمائش ہے۔ اللہ تعالی نے ان کے ذریعہ سے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں دو رول ماڈل (Role models) رکھ دیے تھے۔ ایک رول ماڈل (نمونہ عمل حسین کا، جس سے امت کو باہمی خوں ریزی کے سوا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں ملا۔ دوسرا رول ماڈل حسن کا، جس سے اسلام اور امت اسلام کو زبردست فائدے

حاصل ہوئے تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، ظہور اسلام)

اب اللہ آپ کا امتحان لے رہا ہے کہ آپ دونوں میں سے کس رول ماڈل کو اپنے لیے اختیار کرتے ہیں۔ حسین کے رول ماڈل میں چونکہ جاہ طلب اور سیاست پسند لوگوں کے لیے گنجائش نکلتی ہے، اس لیے لوگ اس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ مگر واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے اس رول ماڈل کو اپنایا، انھوں نے دوبارہ اسلام کی تاریخ میں بربادی کے سوا کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کیا۔ جب کہ حسن کا رول ماڈل اپنانے والوں نے ہمیشہ تاریخ میں مثبت اضافے

ایک مجلس میں میں نے دیکھا کہ ایک صاحب روس کو برا کہہ رہے ہیں اور دوسرے صاحب میں نے کہا کہ روس اور امریکہ میں داخلی حالات کے اعتبار سے ضرور فرق ہے، مگر جہاں تک خارجہ پالیسی کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی بنیادی فرق نہیں ۔ دونوں میں سے کسی کی بھی خارجہ پالیسی اصول کی بنیاد پر قائم نہیں ۔ وہ تمام تر استحصال کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے ۔ مثلاً افغانستان اور فلسطین کے معاملہ کو تقابلی طور پر دیکھیے ۔ افغانستان میں روس مقامی کمیونسٹ عناصر کا حامی ہے ، اور امریکہ مقامی مسلم مجاہدین کا۔ اس کے برعکس فلسطین میں امریکہ اسرائیل کا حامی اور سرپرست بنا ہوا ہے ، اور روس فلسطینی مسلمانوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ گویا افغانستان میں روس امریکی کردار ادا کر رہا ہے اور فلسطین میں امریکہ روسی کردار ادا کرنے میں مشغول ہے۔

اس اعتبار سے جنرل ضیاء الحق اور ڈاکٹر نجیب اللہ دونوں کا کیس، باعتبارِ نوعیت تقریباً ضیاء الحق امریکہ نواز پالیسی پر کار بند تھے ، اس لیے وہ امریکہ کے مطلوب شخص بن گئے ۔ اس کے برعکس نجیب اللہ روس نواز پالیسی پر عامل ہیں ، اس لیے وہ روس کے مطلوب شخص بنے

موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات بھی بڑی عجیب ہے ۔ امریکہ ظالم اسرائیل کی حمایت کرکے مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا مسئلہ پیدا کیے ہوئے ہے۔ ضیاء الحق اسی امریکہ کے حامی بن جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود ضیاء الحق کو یہ خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے اکابر ان

کو مجاہدِ اسلام کا ٹائٹل عطا کریں۔ دوسری طرف نجیب اللہ اشتراکی روس کے حامی بنتے ہیں تو ان کے حصہ میں یہ بدقسمتی آتی ہے کہ اکابر ملت ان کو غدار کے لقب سے نوازتے ہیں۔ ایک دیندار مسلمان سے پاکستان کے الیکشن (نومبر ۱۹۸۸ء) کے بارے میں گفتگو ہوئی جس میں اسلامی اتحاد کو شکست دے کر بے نظیر بھٹو نے کامیابی حاصل کی ہے ، اور اب وہ کسی مسلم ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم کی حیثیت حاصل کیے ہوئے ہیں۔ مذکورہ مسلمان نے اس پر اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ” سقوطِ خلافت کے بعد یہ مسلم دنیا کے لیے دوسرا سب سے بڑا حادثہ ہے“۔ میں نے کہا کہ ایک لفظی ترمیم کے ساتھ مجھے آپ کے تبصرہ سے اتفاق ہے۔ وہ یہ کہ ____ سقوطِ خلافت کے بعد یہ مسلم دنیا کے لیے دوسرا سب سے بڑا سبق ہے ۔

پہلی عالمی جنگ کے بعد ترکِ خلافت کی حمایت میں جو ہنگامہ خیز تحریک چلائی گئی، وہ گویا دیمک زدہ لکڑی پر ”ملٹی اسٹوری بلڈنگ“ کھڑا کرنے کی کوشش تھی۔ چنانچہ عین فطری قانون کے مطابق وہ ناکام ہوگئی۔ اسی طرح پاکستان میں اسلامائزیشن کا ساڑھے گیارہ سالہ فوجی عمل کیا گیا۔ وہ بھی گویا بیج ڈالے بغیر سپاوڑتے کے ذریعہ فصل کاٹنے کی کوشش تھی جو دوبارہ خود فطری قانون کے تحت بے فائدہ ثابت ہوئی۔

پیغمبرانہ طریقہ تزکیہ اور تدریج کا طریقہ ہے ۔ یعنی پہلے ذہن بنایا جائے، اس کے بعد دھیرے دھیرے عملی احکام کا نفاذ کیا جائے ۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر حالات پیدا کیے بغیر نہ بین اقوامی اسلامی خلافت قائم ہو سکتی اور نہ قومی اسلامی حکومت ۔ مگر مسلم رہنماؤں نے یہ اصلی اسلامی سبق نہ پہلے لیا اور نہ اب وہ ایسا سبق لے رہے ہیں۔ جس واقعہ سے سبق کی غذا حاصل کرنا تھا، اس کو وہ ماتم سرائی کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں ۔

امریکہ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے دہلی میں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ ہندستانی مسلمانوں پر مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں اگر کوئی چیز سب سے زیادہ بے قیمت ہے تو وہ ہندستانی مسلمان ہے ، مگر امریکہ کے سفر میں مجھ کو جو معلومات حاصل ہوئیں ، اس کے بعد اندازہ ہوا کہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندستانی مسلمان آج سونے اور چاندی سے بھی زیادہ قیمتی حیثیت رکھتا ہے۔

یہاں مجھے معلوم ہوا کہ جو مسلم قائدین ہندوستان میں "مسلمان خطرہ میں" والی سیاست کے چیمپئن بنے ہوئے ہیں ۔ وہ دراصل ہندوستانی مسلمانوں کی لاشوں کے بہت بڑے تاجر ہیں۔ یہ لوگ امریکہ میں اور اسی طرح دوسرے دولت مند ملکوں میں) جاتے ہیں اور وہاں مسلمانوں کے اوپر ظلم کی داستانیں بتا کر بہت بڑی بڑی رقمیں حاصل کرتے ہیں۔ ہندوستان کے اور دوسرے ملکوں کے مسلمان جو یہاں کافی دولت کما رہے ہیں ، ظلم اور تعصب کی داستانیں سن کر ان کے اندر قومی ہمدردی کا جذبہ جاگتا ہے، اور وہ مختلف طریقوں سے بڑی مقدار میں رقمیں جمع کر کے ان نام نہاد قائدین کو دیدیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قائدین لاشوں کے تاجر ہیں، اگر چہ نادان لوگ ان کو اپنا نجات دہندہ سمجھے ہوئے ہیں۔ امریکی معاشرہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تقریباً ہر آدمی مقروض ہوتا ہے۔ اور اس طرح کی دوسری قیمتی چیزیں عام بینکوں سے سودی قرض لے کر حاصل کی جاتی ہیں۔ محدود آمدنی والے بھی لیتے ہیں اور زیادہ آمدنی والے بھی۔ محدود آمدنی والوں کے لیے وہ ایک ضرورت عام طور پر لوگ اپنا خرچ بڑھائے رہتے ہیں۔ اس لیے وہ رقم پس انداز نہیں کر پاتے اور قیمتی چیزیں حاصل کرنے کے لیے انھیں بینکوں کی مدد لینی پڑتی ہے۔ تاہم بزنس والے لوگ جن کی آمدنی زیادہ ہوتی ہے، وہ بھی تقریباً صد في صد مکانات قرض پر حاصل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر کمال کامل عبد الحمید عمر (پیدائش 1937) ایک فلسطینی عرب ہیں ۔ وہ تقریباً دس سال سے امریکہ میں ہیں۔ آج کل وہ سعودی اکیڈمی (واشنگٹن) میں کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے امریکی مسلمانوں کے بارہ میں کئی سال تک ریسرچ کی ہے اور اس موضوع پر وسیع معلومات رکھتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ کولمبس سے بہت پہلے دسویں صدی عیسوی میں اسپین کے آٹھ مسلمان امریکہ کے جنوبی ساحل پر اتر چکے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ آج تو یہاں بسنے والے عرب خاندان اپنی عربی زبان بھول چکے ہیں۔ ان کی بیشتر تعداد نے عیسائی عورتوں سے شادیاں کر لی ہیں۔ مگر ان کو ایک بوڑھی عرب خاتون نے بتایا کہ میرے والد ۱۸۸۵ میں امریکہ آنے کے لیے کشتی پر سوار ہوئے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا امریکہ میں مسجد ہے۔ کشتی والوں نے بتایا کہ نہیں۔ وہ ایسے کافر ملک میں جانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور فوراً کشتی سے اتر آئے (خشى ان يُهاجر الى بلاد الكفر تلك واسرع بمغادرة الْقَارِبِ على الفور)

Printed page